کیپ ٹاؤن میں ممتاز ماہرِ تعلیم و اقبالیات ڈاکٹر افضل رضوی کے اعزاز میں پروقار تقریب منعقد کی گئی۔۔

کیپ ٹاؤن میں ممتاز ماہرِ تعلیم و اقبالیات ڈاکٹر افضل رضوی کے اعزاز میں پروقار تقریب منعقد کی گئی۔۔

ساوتھ افریقہ (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔خصوصی مندوب)کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ:ممتاز ماہرِ تعلیم، اقبالیات کے محقق، شاعر، مصنف اور معروف کتاب „در برگِ لالہ و گل“ کے خالق ڈاکٹر افضل رضوی کے دورۂ جنوبی افریقہ کے موقع پر کیپ ٹاؤن میں ان کے اعزاز میں ایک پروقار علمی و ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات، اہلِ علم و ادب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

تقریب کی صدارت جناب عامر وفائی، چیئرمین پاکستان ساؤتھ افریقہ ایسوسی ایشن نے کی، جبکہ ڈاکٹر افضل رضوی مہمانِ خصوصی تھے۔  تقریب کی نظامت کے فرائض جناب اظہر محمد نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔  راشد خان، صدر پاکستان ساؤتھ افریقہ ایسوسی ایشن نے حاضرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر افضل رضوی سے علامہ اقبال کے فن اور شخصیت پر مختلف سوال کیے جن کا ڈاکٹر رضوی نے مدلل جواب دیے اور علامہ اقبال کے بارے مختلف غلط فہمیوں کو دور کیا۔

تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر افضل رضوی کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے۔ بعد ازاں ان کی علمی، تحقیقی اور ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے تعلیم و تحقیق کے میدان میں ڈاکٹر رضوی کی خدمات، بالخصوص علامہ محمد اقبال کی فکر، فلسفۂ خودی اور اقبالیات کے حوالے سے ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو سراہا۔

علامہ اقبال کی فکر پر فکر انگیز خطاب

تقریب کا مرکزی حصہ ڈاکٹر افضل رضوی کا خصوصی خطاب تھا، جس میں انہوں نے علامہ محمد اقبال کی شاعری، فکر اور فلسفۂ حیات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اقبال کے تصورِ خودی، آزادی، عمل، عشق، انسان کی تخلیقی قوت اور روحانی ارتقا کو عصرِ حاضر کے تناظر میں پیش کیا۔

ڈاکٹر رضوی نے واضح کیا کہ اقبال کی شاعری محض شعری حسن اور جذباتی اظہار تک محدود نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت ایک گہرا فکری، اخلاقی اور تربیتی نظام کارفرما ہے۔ اقبال انسان کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کی دریافت، شخصیت کی تعمیر، خود شناسی اور مسلسل جدوجہد کی دعوت دیتے ہیں۔

فلسفۂ خودی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ اقبال کے ہاں خودی محض انا یا شخصی خواہش کا نام نہیں بلکہ ایک بیدار، باکردار، باعمل اور روحانی شخصیت کی تشکیل کا تصور ہے۔ ایسی خودی انسان کو جمود، مایوسی اور بے عملی سے نکال کر تخلیق، جدوجہد، آزادیِ فکر اور مقصدِ حیات کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ڈاکٹر افضل رضوی نے اپنی معروف تصنیف „در برگِ لالہ و گل“ کے حوالے سے اقبال کی شاعری میں موجود نباتاتی استعاروں، بالخصوص لالہ اور گل کے علامتی مفاہیم پر بھی گفتگو کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اقبال کے ہاں فطرت محض حسن و جمال کا منظرنامہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکری اور روحانی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ لالہ، گل، شجر اور دیگر مظاہرِ فطرت کے ذریعے اقبال نے خودی، عشق، حیات، حرکت، آزادی اور تخلیقی قوت جیسے گہرے تصورات کو شعری زبان عطا کی۔

انہوں نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اقبال کی شاعری کو اس کے علامتی اور فلسفیانہ پس منظر کے ساتھ پڑھنے سے اس کے متعدد نئے معنی سامنے آتے ہیں، جو موجودہ دور کے انسان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

اپنی گفتگو میں ڈاکٹر رضوی نے اقبال کی فکر کو عصرِ حاضر کے مسائل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں شناخت کا بحران، مادیت، ذہنی جمود، مقصدِ زندگی سے دوری اور نوجوان نسل کے فکری مسائل نے اقبال کے پیغام کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

ان کے مطابق اقبال انسان کو محض حالات کا تابع بن کر زندگی گزارنے کے بجائے علم، کردار، خودی، عمل اور تخلیقی قوت کے ذریعے اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقبال کو صرف ایک شاعر کے طور پر پڑھنا کافی نہیں بلکہ انہیں فلسفی، مفکر، ماہرِ تعلیم اور انسان ساز مفکر کی حیثیت سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اقبال کی فکر کا بنیادی مقصد ایسا انسان تیار کرنا ہے جو علم و شعور، اخلاق و کردار، آزادیِ فکر اور روحانی وابستگی کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کر سکے۔

ڈاکٹر رضوی کی گفتگو کو حاضرین نے نہایت دلچسپی، توجہ اور انہماک سے سنا۔ ان کے خطاب میں تحقیقی بصیرت، ادبی ذوق اور اقبال کے پیغام کی عصری معنویت نمایاں تھی۔

خصوصی خطاب کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی، جس میں حاضرین نے علامہ اقبال کی فکر، فلسفۂ خودی، آزادی، انسانی اختیار، تقدیر، عشق، تعلیم اور موجودہ دور میں اقبال کی معنویت کے حوالے سے مختلف سوالات کیے۔

ڈاکٹر افضل رضوی نے حاضرین کے سوالات کے مدلل، جامع اور علمی جوابات دیے۔ سوال و جواب کی یہ نشست تقریب کا ایک اہم اور دلچسپ حصہ ثابت ہوئی اور شرکاء کو اقبال کے افکار کے مختلف پہلوؤں کو مزید گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا۔

حاضرین نے ڈاکٹر رضوی کے تحقیقی اندازِ گفتگو اور اقبال کی فکر کو موجودہ معاشرتی، تعلیمی اور فکری مسائل سے مربوط کرنے کی کاوش کو سراہا۔

یہ تقریب ڈاکٹر افضل رضوی کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ میں پاکستانی کمیونٹی کے علمی، ادبی اور ثقافتی روابط کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت قرار دی گئی۔

جنوبی افریقہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے اپنی زبان، تہذیب، تاریخ اور فکری ورثے سے وابستگی برقرار رکھنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ایسے علمی و ادبی پروگرام نہ صرف کمیونٹی کو فکری طور پر متحرک کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنے علمی اور تہذیبی ورثے سے جوڑنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر افضل رضوی کا شکریہ ادا کیا گیا اور ان کی علمی، تحقیقی اور ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی جنوبی افریقہ میں ایسے علمی، ادبی اور فکری پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

کیپ ٹاؤن میں ڈاکٹر افضل رضوی کے اعزاز میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اس حقیقت کی خوب صورت عکاس تھی کہ علامہ اقبال کی فکر آج بھی جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے اور خودی، خود شناسی، علم، عشق، آزادی اور عمل کا پیغام دنیا بھر میں انسانوں کو متاثر کر رہا ہے۔