ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)1610 میں گلیلیو نے پہلی بار دوربین مشتری کی طرف موڑی اور اس کے گرد چار چاند گھومتے دیکھے۔ اس کے بعد ساڑھے تین سو سال سے زیادہ دنیا کی ہر بڑی دوربین مشتری کو دیکھتی رہی۔ زحل کے حلقے سب کو نظر آتے تھے۔ مشتری کے گرد کچھ نہیں۔
ماہرین تقریباً مان چکے تھے کہ مشتری کا کوئی حلقہ نہیں ہے۔ یہ بات الجھاتی ضرور تھی کہ زحل کے پاس حلقے ہیں اور اُس سے بھی بڑے مشتری کے پاس کیوں نہیں، مگر جو چیز نظر ہی نہ آئے اس پر بحث کیا کی جائے۔
پھر March 4, 1979 کو ایک تصویر زمین پر پہنچی، اور اس نے ایک ایسا سوال کھڑا کر دیا جس کا جواب ڈھونڈنے میں انیس سال لگے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ حلقہ ہے یا نہیں۔ سوال یہ تھا کہ یہ حلقہ آج تک باقی کیسے ہے؟
کہانی دراصل چند سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ 1973 اور 1974 میں NASA کی دو خلائی گاڑیاں، Pioneer 10 اور Pioneer 11، مشتری کے پاس سے گزریں۔ ان کے آلات مشتری کے گرد پھیلی شعاعیں ناپ رہے تھے، اور اُن پیمائشوں میں کچھ ایسا ریکارڈ ہوا جس سے لگتا تھا کہ مشتری کے خطِ استوا کے قریب کوئی ٹھوس مادہ موجود ہے۔ کیا مادہ، کتنا، کس شکل میں؟ کسی کو معلوم نہیں تھا۔
اسی شک کی بنا پر جب Voyager 1 مشتری کے قریب پہنچا تو ٹیم نے ایک خاص تصویر کا منصوبہ بنایا، جس میں کیمرا ٹھیک اُس سطح کی طرف رکھا گیا جہاں حلقہ ہو سکتا تھا۔ کیمرے کا شٹر گیارہ منٹ بارہ سیکنڈ کھلا رہا۔ اتنی دیر میں خلائی گاڑی آگے بھی بڑھتی رہی اور ہلکا ہلکا ڈولتی بھی رہی، اس لیے تصویر میں پیچھے کے ستارے نقطوں کے بجائے ٹیڑھی میڑھی لکیروں کی طرح کھنچ گئے، جیسے کسی نے ٹوٹی ہوئی بال پنیں بکھیر دی ہوں۔ اور اُن لکیروں کے بیچ سے ایک مدھم سی روشن پٹی گزر رہی تھی۔
حلقہ موجود تھا۔
بعد کی پیمائشوں سے پتا چلا کہ مشتری کا مرکزی حلقہ تقریباً ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر چوڑا ہے۔ یعنی زمین کی آدھی چوڑائی کے برابر۔ مگر اس کی موٹائی، جب اسے سامنے سے پڑنے والی روشنی میں دیکھا جائے، تیس کلومیٹر سے زیادہ نہیں۔ چوڑائی اور موٹائی کا یہ تناسب تقریباً وہی ہے جو تاش کے ایک پتے کا ہوتا ہے۔ اوپر سے یہ حلقہ اتنا سیاہ ہے کہ اپنے اوپر پڑنے والی دھوپ کا صرف پانچ فیصد کے قریب واپس لوٹاتا ہے، تقریباً کوئلے جتنا۔ زحل کے برفانی حلقے چمکتے ہیں۔ مشتری کا حلقہ اندھیرے میں گھلا رہتا ہے۔ زمین سے یہ کبھی کسی کو نظر کیوں نہیں آیا، اب سمجھ آتا ہے۔
مگر یہ حلقہ بنا کس چیز سے ہے؟ اس کا پہلا اشارہ چند ماہ بعد ملا۔
July 1979 میں Voyager 2 مشتری کے پیچھے سے گزرا اور اس کے سائے میں داخل ہو گیا۔ اب سورج مشتری کے پیچھے تھا، اور کیمرا روشنی کی سمت منہ کیے حلقے کو دیکھ رہا تھا۔ اس زاویے سے حلقہ اچانک غیر متوقع طور پر روشن نظر آیا۔
آپ نے یہ منظر اپنے گھر میں دیکھا ہے۔ صبح کے وقت کھڑکی سے دھوپ کی ایک لکیر کمرے میں آتی ہے، اور اُس لکیر میں ہزاروں ننھے ذرے تیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہی ذرے باقی کمرے میں بھی ہوتے ہیں، مگر نظر صرف تب آتے ہیں جب روشنی اُن کے پیچھے سے آ رہی ہو اور آپ اُس کی طرف دیکھ رہے ہوں۔ بڑے پتھر ایسا نہیں کرتے۔ وہ روشنی کو روک لیتے ہیں۔ یہ چمک صرف بہت باریک ذروں کی پہچان ہے۔
یعنی مشتری کا حلقہ برف کے ٹکڑوں سے نہیں، گرد سے بنا ہے۔ اتنی باریک گرد کہ اس کا ایک ذرہ انسانی بال کی موٹائی سے بھی کئی دسیوں گنا پتلا ہے۔ بعد میں ماہرین نے اسے گہرے سرخی مائل کالک جیسا بتایا۔ بالکل ویسی کالک جو پرانے چولہے کے اوپر جم جاتی ہے۔
ایک منٹ رکیے۔ اصل بات صرف اتنی ہے: زحل کے حلقے برف کے ہیں۔ مشتری کا حلقہ کالک جیسی باریک گرد کا ہے۔
اور یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوا۔
باریک گرد مدار میں زیادہ دیر ٹکی نہیں رہتی۔ سورج کی روشنی کا ہلکا سا دباؤ اور مشتری کا طاقتور مقناطیسی میدان اسے مسلسل دھکیلتے رہتے ہیں، اور ذرہ آہستہ آہستہ اپنا راستہ کھو کر یا تو مشتری کی طرف گر جاتا ہے یا بکھر جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایسا ایک ذرہ دس لاکھ سال سے کم عرصہ ہی حلقے میں رہ سکتا ہے۔ یہ لمبا وقت لگتا ہے۔ مگر مشتری کی عمر تقریباً ساڑھے چار ارب سال ہے۔ اگر یہ حلقہ ایک ہی بار بنا ہوتا تو مشتری کی زندگی میں ہزاروں بار ختم ہو چکا ہوتا۔
کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ شاید یہ کسی پرانے تصادم کا ملبہ ہے جو دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے، اور ہم نے اسے بس اس کے آخری دنوں میں دیکھ لیا ہے۔
جواب ایک خلائی گاڑی لائی جس کا نام اُسی گلیلیو کے نام پر رکھا گیا تھا۔ Galileo مشن 1995 کے آخر میں مشتری کے مدار میں پہنچا، اور 1996 اور 1997 میں تین چکروں کے دوران اس نے حلقوں اور مشتری کے قریب ترین چاندوں کی تقریباً تین درجن تصویریں لیں۔ September 1998 میں Cornell University کے Joseph Burns نے اپنے ساتھیوں Maureen Ockert-Bell، Joseph Veverka اور Michael Belton کے ساتھ نتیجہ دنیا کے سامنے رکھا۔
مشتری کے بہت قریب چار ننھے چاند گھومتے ہیں: Metis، Adrastea، Amalthea اور Thebe۔ ان کی سطحیں سیاہ، سرخی مائل اور گڑھوں سے بھری ہیں۔ خلا میں ہر طرف چھوٹے چھوٹے پتھر بھٹک رہے ہیں، دمدار ستاروں اور سیارچوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے۔ انہیں شہابیے کہتے ہیں۔ جب کوئی شہابیہ مشتری کے قریب آتا ہے تو مشتری کی زبردست کشش اسے بے پناہ رفتار دے دیتی ہے۔ وہ ان ننھے چاندوں میں سے کسی سے ٹکراتا ہے، اندر گہرائی تک دھنس جاتا ہے، بخارات بن کر پھٹ جاتا ہے، اور چاند کی سطح سے گرد کا بادل اڑ جاتا ہے۔
اسکول میں استاد جب دو ڈسٹر آپس میں جھاڑتے تھے تو چاک کا سفید بادل اٹھتا تھا۔ ہر ٹکر ویسا ہی ایک بادل ہے۔
کوئی بڑا چاند ہوتا تو یہ گرد واپس اپنی سطح پر کھینچ لیتا۔ مگر یہ چاند اتنے چھوٹے ہیں کہ Adrastea تو بمشکل ایک شہر جتنا ہے۔ اس کی کشش گرد کو روک ہی نہیں پاتی۔ گرد اڑ کر مشتری کے گرد اُسی راستے پر گھومنے لگتی ہے جس پر اس کا چاند گھوم رہا تھا۔
یہ بات پکڑی کیسے گئی؟ حلقوں کے کنارے ٹھیک اُن چاندوں کے مداروں پر ختم ہوتے ہیں۔ اور باہر والے مدھم حلقوں کی موٹائی بالکل اتنی ہے جتنا Amalthea اور Thebe اپنے مدار میں اوپر نیچے ڈولتے ہیں۔ ہر حلقے پر اس کے چاند کی مہر لگی ہے۔ مرکزی حلقے کے بارے میں شواہد مضبوطی سے Adrastea اور Metis، اور حلقے کے اندر چھپے کچھ اور چھوٹے پتھروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اگرچہ اس کی تفصیلات پر بحث ابھی جاری ہے۔
اب 1979 والے سوال کی طرف واپس چلتے ہیں۔ یہ حلقہ آج تک باقی کیسے ہے؟
جواب یہ ہے کہ وہ باقی نہیں ہے۔ وہ مسلسل بن رہا ہے۔
ہر لمحے کچھ گرد مشتری کی طرف گر کر ختم ہو رہی ہے، اور ہر لمحے کہیں کوئی شہابیہ کسی ننھے چاند سے ٹکرا کر نئی گرد اُڑا رہا ہے۔ حلقے کی شکل وہی رہتی ہے، مگر اس کا مادہ بدلتا رہتا ہے، جیسے فوارے میں پانی کی شکل برسوں ایک جیسی رہتی ہے مگر پانی کبھی وہی نہیں ہوتا۔ آج اس حلقے میں جو گرد ہے، وہ اُس وقت وہاں نہیں تھی جب مشتری بنا تھا۔
مجھے یہ بات آج تک عجیب لگتی ہے۔ ہم حلقوں کو کسی سیارے کا مستقل زیور سمجھتے ہیں، ایک ایسی چیز جو بس ہے اور رہے گی۔ مشتری کا حلقہ زیور نہیں ہے۔ وہ تندور کی چمنی سے نکلتے دھوئیں جیسا ہے، جو تب تک نظر آتا ہے جب تک اندر آگ جل رہی ہو۔ جس دن ان ننھے چاندوں پر ٹکریں رک جائیں، یہ حلقہ بھی آہستہ آہستہ مٹ جائے گا۔
اگلی بار جب رات کے آسمان میں مشتری ایک روشن، ٹھہرے ہوئے نقطے کی طرح نظر آئے تو یاد رکھیے گا کہ اس کے گرد، آپ کی نظر سے بالکل اوجھل، چار ننھے چاند مسلسل چوٹیں کھا رہے ہیں، اور ان چوٹوں سے اٹھنے والی کالک ایک حلقہ بُن رہی ہے جو ساتھ ساتھ اُدھڑتا بھی جا رہا ہے۔ آسمان میں جو چیزیں ہمیں ہمیشہ ایک جیسی لگتی ہیں، اُن میں سے کچھ دراصل ایک ہی کام کو بار بار دہرا رہی ہوتی ہیں۔
بس اتنی تیزی سے کہ ہمیں فرق نظر نہیں آتا۔
اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔