🌳 معرفت:باطن کا نور ظاہر کی خاموشی🌾

🌳 معرفت:باطن کا نور ظاہر کی خاموشی🌾

۔ نسبت "ادعا” نہیں "امانت” ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)• ادعا (دعویٰ کرنا):

روحانیت میں اپنے مرتبے، مقام یا اللہ سے تعلق کا دعویٰ کرنا تکبر اور نفس کی چال ہے۔ دعویٰ انسان کو مٹا دیتا ہے۔

🪞• امانت:

نسبت ایک الٰہی تحفہ اور امانت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں رکھتا ہے۔ امانت دار کا کام اس کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اس کی نمائش کرنا۔

🌀۲۔ امانت "اخفاء” ہے (چھپانا)

____________________________________

▪️• تصوف کا مسلمہ اصول ہے کہ "روحانی احوال اور کیفیات کو چھپانا فرض ہے”۔

▪️• جس طرح انسان اپنے قیمتی ہیرے جواہرات کو دنیا سے چھپا کر تجوری میں رکھتا ہے، اسی طرح نسبت کا نور💧 اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، اسے غیریت (دنیا والوں) کی نظروں سے چھپا کر رکھنا ضروری ہے۔

☄️۳۔ دل میں رہے تو راہنمائی ہے

✔️• جب تک یہ نور دل کے اندر پوشیدہ رہتا ہے، یہ ایک چراغ کی طرح انسان کے باطن کو روشن رکھتا ہے۔

✔️• یہ انسان کے اخلاق، کردار اور فیصلوں میں نظر آتا ہے۔ یہ خاموشی سے سالک کو صراطِ مستقیم پر گامزن رکھتا ہے اور اسے اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔

🥲۴۔ زبان پہ آ جائے تو آزمائش ہے

👈• جیسے ہی انسان اپنی کیفیات، کشف یا نسبت کا تذکرہ زبان پر لاتا ہے، آزمائش (امتحان اور فتنہ) شروع ہو جاتی ہے۔

👈• ریاکاری کا خطرہ: زبان پر لانے سے نفس کو لذت ملتی ہے اور عجب (خود پسندی) پیدا ہو سکتی ہے۔

👈• نور کا چھن جانا: بزرگ فرماتے ہیں کہ جو راز فاش کر دیا جائے، اس کی برکت اور نور ختم ہو جاتا ہے۔ زبان کا بولنا کبھی کبھار سالک کو سیدھے راستے سے بھٹکا کر مخلوق کی واہ واہ میں الجھا دیتا ہے۔

🌸خلاصہ

 یہ ہے کہ روحانیت کا کمال خاموشی، عاجزی اور سادگی میں ہے، نمائش اور دعوے میں نہیں۔

🌷امام الطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ کا فرمان:

____________________________________🔷

تصوف کے سب سے معتبر امام، حضرت جنید بغدادیؒ سے جب کسی نے روحانی کیفیات اور نسبت کو ظاہر کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:

"اگر کوئی شخص چالیس سال تک بھی باطنی احوال کی منزلوں میں رہے اور اپنے راز (نسبت) کو چھپائے، تو وہ سچا سالک ہے۔ لیکن اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے باطن کا تماشا لگانے کے لیے زبان کھولے، تو اس کا وہ نور خطرے میں پڑ جاتا ہے۔”

جو نسبت دل میں چھپی رہے، وہ سالک کو عرش تک لے جاتی ہے، اور جو زبان پر آ جائے، وہ نفس کی خوراک بن جاتی ہے۔

رازِ الفت چھپا کے رکھ لینا

کاش آ جائے تجھ کو امانت کا پاس

دل میں روشن رہے تو رہبر ہے

لب پہ آئے تو امتحان ہے خاص

2🌷ذوالنون مصری

ایک مرتبہ حضرت ذوالنون مصریؒ کے پاس ایک شخص آیا جو مجمعوں میں کھڑے ہو کر بلند  دعوے کرتا تھا کہ مجھے اللہ کا قرب حاصل ہے اور مجھ پر انوارات ظاہر ہوتے ہیں۔

آپ نے نصیحت کی۔۔۔۔

"اے نادان! اللہ کا نور جب دل میں اترتا ہے تو وہ بندے کو خاموش اور متواضع (عاجز) بنا دیتا ہے۔ یہ نسبت ایک امانت ہے، اور امانت دار کا کام شور مچانا نہیں، بلکہ حفاظت کرنا ہے۔ جب تو اسے زبان پر لاتا ہے، تو تو مخلوق کی داد کا طالب بن جاتا ہے، اور یہی تیری آزمائش اور تنزلی کا سبب بنتا ہے۔”

حضرت ذوالنون مصریؒ کا یہ واقعہ سالکین کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جو برتن خالی ہوتا ہے، وہ زیادہ شور مچاتا ہے، اور جو لبالب بھرا ہو، وہ ساکن رہتا ہے۔

  • باطنی مٹھاس کا چھپانا: آپؒ کا ایک اور مشہور قول ہے کہ "جس نے اپنے احوال کو ظاہر کیا، اس نے اللہ کے ساتھ اپنے معاملے کو رسوا کیا”۔

  • حقیقی معرفت کا اثر: جب دل میں واقعی الٰہی نور اترتا ہے، تو انسان پر اللہ کی عظمت کا ایسا رعب طاری ہوتا ہے کہ اس کی زبان گنگ ہو جاتی ہے اور وہ خود کو سب سے عاجز سمجھنے لگتا ہے۔

💎 صوفیائے کرام کے دیگر مہرِ تصدیق اقوال

🌿 نسبت، دعویٰ نہیں؛ امانت ہے!

یاد رکھو! ہر وہ راز جو دل کو اللہ سے جوڑ دے، ضروری نہیں کہ زبان پر بھی سجایا جائے۔ کچھ انوار خاموشی میں پلتے ہیں، کچھ کیفیات آنسوؤں میں ڈھلتی ہیں، اور کچھ نسبتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا ذکر بھی دل کو اپنی ہی نگاہ میں گرا دیتا ہے۔

جس دل میں معرفت اتر جائے، وہ اپنی بڑائی کے قصے نہیں سناتا؛ وہ اپنی بندگی کی حقیقت سے لرزنے لگتا ہے۔

روحانیت یہ نہیں کہ دنیا تمہیں صاحبِ نسبت مان لے؛ روحانیت یہ ہے کہ تمہارا نفس تمہیں صاحبِ مقام سمجھنے لگے، اور تم اسی لمحے اپنی حقیقت پہچان کر سجدے میں گر جاؤ۔

🤷🏻‍♂️یاد رکھو!

➖ہر خاموش شخص عارف نہیں،

➖ نہ ہر اظہار ریا ہے؛

➖مگر جو اپنے باطن کو اپنی بڑائی کی دلیل بنا لے،

➖اس نے معرفت کے دروازے پر اپنے نفس کو بٹھا دیا۔

📚قرآن کی تنبیہ ہے:

فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ

’’اپنے نفسوں کی پاکیزگی کے دعوے نہ کرو؛ اللہ خوب جانتا ہے کہ متقی کون ہے۔‘‘ (النجم: ۳۲)

🔅پس اپنی نسبت کا شور نہیں،

 🔅اپنے کردار کی خوشبو پھیلاؤ؛

🔅اپنے کشف کے قصے نہیں،

🔅 اپنے اخلاق کی گواہی چھوڑو۔

 🔅کیونکہ اللہ کے ہاں تمہاری قدر اس میں نہیں کہ تم اپنے مقام کے بارے میں کیا کہتے ہو،

🔅بلکہ اس میں ہے کہ تمہارا رب تمہیں کیسا پاتا ہے۔

🔅نسبت کی معراج یہ نہیں کہ تم خود کو اللہ کے قریب سمجھنے لگو؛

🔅بلکہ یہ ہے کہ قرب کی امید کے باوجود اپنی بندگی سے غافل نہ ہو۔

🔅خاموش رہو تو تکبر سے نہیں، عاجزی سے؛

🔅چھپاؤ تو خوفِ مخلوق سے نہیں، اخلاص کی حفاظت کے لیے۔

 🔅اور اگر کبھی اپنے باطن کا ذکر کرنا پڑے تو سچائی، حکمت اور ضرورت کو پیشِ نظر رکھو۔

⚡ اصل کمال یہ نہیں کہ تمہارے پاس کوئی راز ہو؛ اصل کمال یہ ہے کہ تمہارے پاس کوئی خوبی ہو اور تمہارا نفس اس پر فخر نہ کرنے پائے۔

🌴• سلطان العارفین حضرت باہوؒ کا فرمان:

آپؒ فرماتے ہیں کہ سالک کو اپنے احوال ایسے چھپانے چاہئیں جیسے عورت اپنے عیب چھپاتی ہے۔ آپ کا مشہور بیت ہے

:باہوؒ عارف تبھی سچیارہ بنتا ہے، جب وہ اپنے باطن کے بھید کو سینے میں دفن کر لے اور زبان پر نہ لائے۔

🌴• حضرت خواجہ غریب نوازؒ (معین الدین چشتی):

آپؒ فرماتے ہیں: "محبت کا کمال یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کے راز کو دل میں یوں چھپائے کہ دائیں ہاتھ کو پتا ہو تو بائیں کو خبر نہ ہو”۔

🛑 زبان پر لانے کے نقصانات (سلوک کی اصطلاح میں)

متن میں ذکر کردہ نقصانات کو صوفیاء کی اصطلاحات میں یوں سمجھا جاتا ہے:

  1. استدراج کا خطرہ: کبھی کبھار دعویٰ کرنے والے پر کچھ کشف یا علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جو سچا نور نہیں ہوتیں بلکہ نفس کی لذت (استدراج) ہوتی ہیں، جس سے انسان ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔

  2. سلبِ نسبت (نور کا چھن جانا): مشائخ فرماتے ہیں کہ نسبت ایک لطیف پرندے کی طرح ہے، جہاں ذرا سا شور (نمائش یا عجب) ہوا، یہ پرندہ اڑ جاتا ہے اور دل ویران ہو جاتا ہے۔

  3. دعا اور مناجات میں عاجزی اور اخفاء:اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَۚ

"اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑا کر اور آہستہ (چھپ کر)، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” (سورۃ الاعراف: 55)

علماء فرماتے ہیں کہ جب باطنی تعلق اور دعا کو چھپا کر رکھنے کا حکم ہے، تو اپنی کیفیات کا ڈھنڈورا پیٹنا حد سے بڑھنا ہے۔

  1. پوشیدہ عبادات کی فضیلت

:اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۚ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوْهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ

"اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو یہ بھی اچھا ہے، اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے۔”

 (سورۃ البقرہ: 271

)

صوفیائے کرام اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ جیسے مال کا صدقہ چھپا کر دینا افضل ہے،

 ویسے ہی اعمال اور باطنی انوارات کا صدقہ (نسبت) بھی چھپا کر رکھنا افضل ہے۔

🌸ﷴ ﷺ احادیثِ مبارکہ سے رہنمائی

حضور اکرم ﷺ نے باطنی احوال کو فتنوں سے بچانے اور گمنامی اختیار کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے:

  1. خفیہ ذکر اور گمنام بندوں سے محبت:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ”

"بیشک اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو پسند فرماتا ہے جو متقی ہو، غنی (دل کا غنی) ہو اور خفی (چھپا ہوا، گمنام) ہو۔” (صحیح مسلم)

یہ حدیث صوفیاء کے اس اصول کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ کو وہ بندے پسند ہیں جو اپنی روحانیت کی نمائش نہیں کرتے۔

  1. ریاکاری (دکھاوے) کی سخت مذمت:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللهُ بِهِ ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللهُ بِهِ”

"جس نے (اپنے اعمال کو مخلوق میں) شہرت دی، اللہ اس کی رسوائی کی شہرت کر دے گا، اور جس نے دکھاوا کیا، اللہ اس کا دکھاوا (سب پر ظاہر کر کے اسے ذلیل) کر دے گا۔” (صحیح بخاری)

اپنی نسبت یا کشف کو زبان پر لانا مخلوق سے داد پانے کی خواہش کا شاخسانہ ہوتا ہے، جو ریاکاری کے زمرے میں آتا ہے۔

  1. حاجتوں اور نعمتوں کو چھپانے کی تاکید:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اِسْتَعِيْنُوْا عَلَى اِنْجَاحِ الْحَوِائجِ بِالْكِتْمَانِ، فَاِنَّ كُلَّ ذِيْ نِعْمَةٍ مَحْسُوْدٌ”

"اپنی حاجتوں (اور کاموں) کو پورا کرنے کے لیے انہیں چھپا کر مدد حاصل کرو، کیونکہ ہر صاحبِ نعمت سے حسد کیا جاتا ہے۔” (شعب الایمان، طبرانی)

روحانی نسبت اور کیفیات اللہ کی سب سے بڑی اور لطیف نعمتیں ہیں۔ جب ان کا اظہار کیا جائے تو شیاطین اور نفسِ امارہ ان پر حسد کرتے ہیں اور وہ نور سلب ہو جاتا ہے۔

###علمِ منطق میں دو کلیوں کے افراد کے درمیان پائے جانے والے تعلق کو نسبت کہتے ہیں۔

 اس نسبت کی چار بنیادی قسمیں ہیں، جنہیں نسبتِ اربعہ کہا جاتا ہے۔

### 1۔ نسبتِ تساوی

تعریف: جب دو کلیوں کے تمام افراد ایک ہی ہوں؛ یعنی ایک کلی جس فرد پر صادق آئے، دوسری بھی اسی پر صادق آئے۔

مثال: انسان اور حیوانِ ناطق۔

دلیل: ہر انسان حیوانِ ناطق ہے، اور ہر حیوانِ ناطق انسان ہے۔ لہٰذا دونوں کے افراد برابر ہیں۔

### 2۔ نسبتِ تباین

تعریف: جب دو کلیوں میں کوئی فرد مشترک نہ ہو۔

مثال: انسان اور پتھر۔

دلیل: کوئی انسان پتھر نہیں، اور کوئی پتھر انسان نہیں۔ لہٰذا دونوں میں مکمل جدائی ہے۔

### 3۔ نسبتِ عموم و خصوص مطلق

تعریف: جب ایک کلی دوسری سے عام ہو اور دوسری اس سے خاص؛ یعنی خاص کے تمام افراد عام میں شامل ہوں، مگر عام کے تمام افراد خاص میں شامل نہ ہوں۔

مثال: حیوان اور انسان۔

دلیل: ہر انسان حیوان ہے، لیکن ہر حیوان انسان نہیں؛ گھوڑا اور شیر بھی حیوان ہیں۔ لہٰذا حیوان عام اور انسان خاص ہے۔

### 4۔ نسبتِ عموم و خصوص من وجہ

تعریف: جب دو کلیوں کے بعض افراد مشترک ہوں، مگر ہر کلی کے کچھ افراد دوسری کلی سے الگ بھی ہوں۔

مثال: حیوان اور اسود (کالا)۔

دلیل:

* کالا گھوڑا دونوں میں شامل ہے: حیوان بھی ہے اور کالا بھی۔

* سفید گھوڑا حیوان ہے، مگر کالا نہیں۔

* کالا پتھر کالا ہے، مگر حیوان نہیں۔

لہٰذا دونوں میں بعض افراد مشترک اور بعض الگ ہیں۔

یاد رکھنے کا آسان اصول:

* تساوی: سب مشترک۔

* تباین: کوئی مشترک نہیں۔

* عموم و خصوص مطلق: ایک مکمل طور پر دوسرے میں شامل۔

* عموم و خصوص من وجہ: کچھ مشترک، کچھ الگ۔

خلاصۂ منطق: دو کلیوں کے افراد یا تو مکمل برابر ہوتے ہیں، مکمل جدا ہوتے ہیں، ایک دوسری کے اندر مکمل طور پر شامل ہوتی ہے، یا دونوں جزوی طور پر مشترک ہوتی ہیں۔ یہی نسبتِ اربعہ کی چار صورتیں ہیں۔

تصوف میں نسبت کی اقسام —

1\. نسبتِ الٰہی: اللہ تعالیٰ سے محبت، بندگی اور قربِ الٰہی کا تعلق۔

2\. نسبتِ نبوی ﷺ: رسول اللہ ﷺ سے محبت اور آپ کی سنت و تعلیمات کی پیروی کا تعلق۔

3\. نسبتِ شیخی: کسی صالح شیخ سے اصلاحِ نفس اور روحانی تربیت کا تعلق۔

4\. نسبتِ روحانی: دل کا ذکرِ الٰہی، اخلاص اور باطنی کیفیت سے وابستہ ہونا۔

5\. نسبتِ رسمی: کسی سلسلے یا شیخ سے ظاہری وابستگی، جس میں ضروری نہیں کہ باطنی اصلاح بھی حاصل ہو۔

6\. نسبتِ حقیقی: ایسی سچی روحانی وابستگی جس کا اثر انسان کے اخلاص، عاجزی، کردار اور اطاعت میں ظاہر ہو۔

یاد رکھیے: یہ سمجھانے کے لیے ایک آسان تقسیم ہے؛ تصوف کی تمام کتب میں نسبت کی یہی چھ اقسام متفقہ طور پر مقرر نہیں ہیں۔

@shagufta