ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)تاریخِ ادیان کے مطالعہ میں ایک ایسا پراسرار اور منفرد نظامِ فکری بھی ملتا ہے جو اپنے عروج کے زمانے میں مشرق میں چین کی سرحدوں سے لے کر مغرب میں رومن سلطنت کے دل تک پھیل گیا تھا، جسے دنیا "منانیت” یا مانویت (Manichaeism) کے نام سے جانتی ہے۔ اس مذہب کی بنیاد تیسری صدی عیسوی میں ساسانی سلطنت کے دوران ایک ایرانی مفکر مانی نے رکھی تھی۔ منانیت کا پورا فکری ڈھانچہ ایک ایسے نظریے پر قائم تھا جسے فلسفے کی زبان میں وجوداتی ثنویت (Ontological Dualism) کہا جاتا ہے۔ مانی کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ کائنات کے آغاز ہی سے دو بالکل آزاد، ازلی اور مخالف طاقتیں وجود رکھتی ہیں، جنہیں وہ "نور” (روشنی، نیکی اور خیر) اور "ظلمت” (اندھیرا، مادہ اور بدی) کے نام سے پکارتا تھا۔ اس فکری نظام کے مطابق نیکی اور بدی محض انسان کے اخلاقی انتخاب کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ کائنات کے دو بنیادی اور حقیقی عناصر ہیں جو اززل سے ایک دوسرے برسرِ پیکار ہیں۔
منانی عقائد کے مطابق اس مادی دنیا کی تخلیق ایک تاریخی تصادم کے نتیجے میں ہوئی، جب ظلمت کی طاقتوں نے نور کی دنیا پر حملہ کر دیا اور اس کے نتیجے میں نور کے کچھ لطیف ذرات تاریکی کے اندر قید ہو گئے۔ اس نظریے کے تحت کائنات کی ہر مادی چیز، بشمول انسان کا جسم، دراصل اسی تاریکی اور ظلمت کا ایک قید خانہ ہے، جبکہ انسان کے اندر موجود روح دراصل نور کا وہ قید شدہ ذرہ ہے جو آزادی کا طالب ہے۔ منانیت کے مطابق زندگی کا مقصد اور نجات کا راستہ یہی ہے کہ انسان سخت ترین پرہیزگاری، علم اور دنیاوی آلائشوں سے کنارہ کشی کے ذریعے اپنی روح کے ان نورانی ذرات کو اس مادی قید سے آزاد کرائے تاکہ وہ واپس اپنے اصل نورانی عالم کی طرف لوٹ سکیں۔
اگر منانیت کا موازنہ دنیا کے دوسرے بڑے مذاہب، خاص طور پر ابراہیمی مذاہب (اسلام، عیسائیت اور یہودیت) سے کیا جائے، تو ان کے مابین فکری بنیادوں کا ایک بہت بڑا فرق واضح ہوتا ہے۔ ابراہیمی مذاہب کا محور خالص توحید ہے، جہاں کائنات کا خالق صرف ایک خدا ہے اور شر یا شیطان کو خدا کے مقابلے میں کوئی ازلی، مستقل یا خود مختار حیثیت حاصل نہیں ہے، بلکہ شر کو انسانی ارادے کے غلط استعمال یا ابلیس کی ایک عارضی سرکشی کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، منانیت میں شر (ظلمت) کا وجود خیر (نور) جتنا ہی قدیم اور طاقتور مانا گیا ہے۔ اسی طرح اگر اس کا موازنہ زرتشت ازم سے کیا جائے تو وہاں بھی اہورمزدا اور اہرمن کی کشمکش موجود ہے، لیکن زرتشت ازم میں مادی دنیا کو بذاتِ خود بُرا یا پلید نہیں مانا گیا، جبکہ مانی کے نزدیک مادی دنیا اور جسم اپنی اصل میں ہی تاریکی کا حصہ ہیں۔
اس فکری فرق کو ایک سادہ سی مثال سے بہت اچھے طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ تصور کریں کہ ایک شیشے کا جگ بالکل صاف اور شفاف پانی سے بھرا ہوا ہے اور اس میں گندے پانی کا ایک قطرہ گر جاتا ہے۔ ابراہیمی مذاہب کے نزدیک پانی کی اصل حقیقت اور شفافیت اپنی جگہ برقرار ہے، گندگی ایک بیرونی اور عارضی شے ہے جسے صاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ جگ اور پانی کی اصل بنیاد پاکیزگی پر ہے۔ لیکن منانیت کی نظر میں صورتِ حال یہ ہے کہ جیسے تیل اور پانی کو زبردستی ایک ہی برتن میں ملا کر قید کر دیا گیا ہو، جہاں دونوں کی حقیقتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ، متضاد اور ایک دوسرے کی دشمن ہیں، اور برتن یعنی مادی جسم دراصل ان دونوں کی قید گاہ ہے۔ منانیت میں نجات کا مطلب اس برتن کو توڑ کر تیل اور پانی کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے الگ کر دینا ہے۔
مانی نے اپنے اس فلسفے کو عام لوگوں کے لیے دلکش بنانے کے لیے اس دور کے مروجہ مذاہب کے عناصر کو بھی اس میں بڑی مہارت سے پرو دیا تھا۔ اس نے زرتشت ازم کی خیر و شر کی جنگ، مسیحیت کے تصورِ نجات اور بدھ مت کی دنیا سے بے رغبتی کے اصولوں کو ملا کر ایک جامع نظام تیار کیا اور خود کو ان تمام پیغمبروں کا آخری اور برحق جانشین قرار دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے دور میں اس مذہب کو حکمرانوں اور عوام دونوں کی طرف سے بڑی پذیرائی ملی۔ تاہم اس کی انتہائی کٹھن اخلاقی شرائط، جیسے گوشت، شراب اور شادی سے مکمل پرہیز کا حکم، اور بعد ازاں اسلام اور عیسائیت کے عالمی پھیلاؤ کے نتیجے میں یہ عظیم تحریک رفتہ رفتہ کمزور ہوتی چلی گئی اور بالآخر تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئی۔
—منتصر
نوٹ: اس تحریر میں اے آئی کی مدد لی گئی ہے۔ تاریخِ ادیان کے مطالعہ میں ایک ایسا پراسرار اور منفرد نظامِ فکری بھی ملتا ہے جو اپنے عروج کے زمانے میں مشرق میں چین کی سرحدوں سے لے کر مغرب میں رومن سلطنت کے دل تک پھیل گیا تھا، جسے دنیا "منانیت” یا مانویت (Manichaeism) کے نام سے جانتی ہے۔ اس مذہب کی بنیاد تیسری صدی عیسوی میں ساسانی سلطنت کے دوران ایک ایرانی مفکر مانی نے رکھی تھی۔ منانیت کا پورا فکری ڈھانچہ ایک ایسے نظریے پر قائم تھا جسے فلسفے کی زبان میں وجوداتی ثنویت (Ontological Dualism) کہا جاتا ہے۔ مانی کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ کائنات کے آغاز ہی سے دو بالکل آزاد، ازلی اور مخالف طاقتیں وجود رکھتی ہیں، جنہیں وہ "نور” (روشنی، نیکی اور خیر) اور "ظلمت” (اندھیرا، مادہ اور بدی) کے نام سے پکارتا تھا۔ اس فکری نظام کے مطابق نیکی اور بدی محض انسان کے اخلاقی انتخاب کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ کائنات کے دو بنیادی اور حقیقی عناصر ہیں جو اززل سے ایک دوسرے برسرِ پیکار ہیں۔
منانی عقائد کے مطابق اس مادی دنیا کی تخلیق ایک تاریخی تصادم کے نتیجے میں ہوئی، جب ظلمت کی طاقتوں نے نور کی دنیا پر حملہ کر دیا اور اس کے نتیجے میں نور کے کچھ لطیف ذرات تاریکی کے اندر قید ہو گئے۔ اس نظریے کے تحت کائنات کی ہر مادی چیز، بشمول انسان کا جسم، دراصل اسی تاریکی اور ظلمت کا ایک قید خانہ ہے، جبکہ انسان کے اندر موجود روح دراصل نور کا وہ قید شدہ ذرہ ہے جو آزادی کا طالب ہے۔ منانیت کے مطابق زندگی کا مقصد اور نجات کا راستہ یہی ہے کہ انسان سخت ترین پرہیزگاری، علم اور دنیاوی آلائشوں سے کنارہ کشی کے ذریعے اپنی روح کے ان نورانی ذرات کو اس مادی قید سے آزاد کرائے تاکہ وہ واپس اپنے اصل نورانی عالم کی طرف لوٹ سکیں۔
اگر منانیت کا موازنہ دنیا کے دوسرے بڑے مذاہب، خاص طور پر ابراہیمی مذاہب (اسلام، عیسائیت اور یہودیت) سے کیا جائے، تو ان کے مابین فکری بنیادوں کا ایک بہت بڑا فرق واضح ہوتا ہے۔ ابراہیمی مذاہب کا محور خالص توحید ہے، جہاں کائنات کا خالق صرف ایک خدا ہے اور شر یا شیطان کو خدا کے مقابلے میں کوئی ازلی، مستقل یا خود مختار حیثیت حاصل نہیں ہے، بلکہ شر کو انسانی ارادے کے غلط استعمال یا ابلیس کی ایک عارضی سرکشی کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، منانیت میں شر (ظلمت) کا وجود خیر (نور) جتنا ہی قدیم اور طاقتور مانا گیا ہے۔ اسی طرح اگر اس کا موازنہ زرتشت ازم سے کیا جائے تو وہاں بھی اہورمزدا اور اہرمن کی کشمکش موجود ہے، لیکن زرتشت ازم میں مادی دنیا کو بذاتِ خود بُرا یا پلید نہیں مانا گیا، جبکہ مانی کے نزدیک مادی دنیا اور جسم اپنی اصل میں ہی تاریکی کا حصہ ہیں۔
اس فکری فرق کو ایک سادہ سی مثال سے بہت اچھے طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ تصور کریں کہ ایک شیشے کا جگ بالکل صاف اور شفاف پانی سے بھرا ہوا ہے اور اس میں گندے پانی کا ایک قطرہ گر جاتا ہے۔ ابراہیمی مذاہب کے نزدیک پانی کی اصل حقیقت اور شفافیت اپنی جگہ برقرار ہے، گندگی ایک بیرونی اور عارضی شے ہے جسے صاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ جگ اور پانی کی اصل بنیاد پاکیزگی پر ہے۔ لیکن منانیت کی نظر میں صورتِ حال یہ ہے کہ جیسے تیل اور پانی کو زبردستی ایک ہی برتن میں ملا کر قید کر دیا گیا ہو، جہاں دونوں کی حقیقتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ، متضاد اور ایک دوسرے کی دشمن ہیں، اور برتن یعنی مادی جسم دراصل ان دونوں کی قید گاہ ہے۔ منانیت میں نجات کا مطلب اس برتن کو توڑ کر تیل اور پانی کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے الگ کر دینا ہے۔
مانی نے اپنے اس فلسفے کو عام لوگوں کے لیے دلکش بنانے کے لیے اس دور کے مروجہ مذاہب کے عناصر کو بھی اس میں بڑی مہارت سے پرو دیا تھا۔ اس نے زرتشت ازم کی خیر و شر کی جنگ، مسیحیت کے تصورِ نجات اور بدھ مت کی دنیا سے بے رغبتی کے اصولوں کو ملا کر ایک جامع نظام تیار کیا اور خود کو ان تمام پیغمبروں کا آخری اور برحق جانشین قرار دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے دور میں اس مذہب کو حکمرانوں اور عوام دونوں کی طرف سے بڑی پذیرائی ملی۔ تاہم اس کی انتہائی کٹھن اخلاقی شرائط، جیسے گوشت، شراب اور شادی سے مکمل پرہیز کا حکم، اور بعد ازاں اسلام اور عیسائیت کے عالمی پھیلاؤ کے نتیجے میں یہ عظیم تحریک رفتہ رفتہ کمزور ہوتی چلی گئی اور بالآخر تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئی۔