الحاد اک سراب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ بیسویں صدی کے آخری برسوں میں یورپ کے ایک ساحل کے مناظر ہیں۔ پوری دنیا حیران تھی کہ بندرگاہ پر کھڑے بحری جہاز انسانوں سے اس قدر بھر چکے تھے کہ لوگ ان کی چھتوں، ریلنگوں، کناروں اور رسّیوں سے لٹک کر بھی سفر کرنے پر آمادہ تھے۔ جیسے کابل سے بھاگنے والوں کو دنیا نے طیاروں سے گرتے دیکھا، یہاں بہت سے لوگ ملک سے فرار کے چکر میں سمندر میں ڈوب رہے تھے۔ مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر صرف ایک خواہش رکھتے تھے کہ کسی طرح اپنے ہی وطن سے نکل جائیں۔ یہ کسی جنگ زدہ ملک یا قدرتی آفت کا منظر نہیں تھا، بلکہ یورپ کے ایک پرامن مسلم اکثریتی ملک البانیہ کا تھا، جہاں چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ایک ایسے نظریئے کی حکمرانی رہی جس نے خدا، مذہب اور روحانی اقدار کو ترقی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے کر ان پر سخت ترین پابندی عائد کر رکھی تھی۔
یہ وہی البانیہ تھا جسے 1967ء میں دنیا کی تاریخ کی پہلی سرکاری ملحد ریاست قرار دیا گیا۔ اس وقت کے کمیونسٹ حکمران انور خوجہ (Enver Hoxha) کا دعویٰ تھا کہ مذہب کو ختم کر کے ایک جدید، ترقی یافتہ اور خوش حال معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مساجد بند کر دی گئیں، اذانیں خاموش کرا دی گئیں، قرآن کریم کی تعلیم پر پابندی لگا دی گئی، علماء اور ائمہ کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا اور نئی نسل کو یہ باور کرایا جانے لگا کہ خدا پر ایمان نہیں، بلکہ الحاد ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
لیکن تاریخ کا فیصلہ اس دعوے سے بالکل مختلف نکلا۔
آج بھی دنیا کے بعض حلقوں میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ “مذہب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔” البانیہ کی تاریخ اس دعوے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر مذہب کو ختم کر دینا ہی ترقی کی ضمانت ہوتا تو دنیا کی پہلی سرکاری ملحد ریاست کو دنیا کا کامیاب ترین ملک ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس سامنے آئی۔ مسئلہ مذہب نہیں تھا بلکہ ایک ایسا نظریہ تھا جس نے انسان کو اس کے خالق، اس کی روحانی اقدار اور اس کی فطرت سے کاٹ دیا۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ اسلام کا معاملہ اس تصور سے یکسر مختلف ہے۔ اسلام کی پہلی وحی “اقرأ” یعنی “پڑھو” سے شروع ہوتی ہے۔ قرآن کریم بار بار غور و فکر، تحقیق، عدل، دیانت، محنت، تجارت، مشاورت اور انسانیت کی خدمت کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل پیرا تھے تو بغداد، قرطبہ، دمشق، قاہرہ، سمرقند اور بخارا جیسے شہر علم و تحقیق کے عالمی مراکز بن گئے۔ طب، ریاضی، فلکیات، کیمیا، انجینئرنگ اور فلسفے میں مسلمانوں کی خدمات آج بھی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ مسلمانوں کا زوال اسلام پر عمل کرنے سے نہیں بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہونے کے بعد شروع ہوا۔
بہرحال البانیہ یورپ کے ان ممالک میں شامل تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد تھی۔ عثمانی دور میں یہاں اسلام مضبوطی سے راسخ ہوا اور مساجد، مدارس اور خانقاہیں دینی و سماجی زندگی کا حصہ تھیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد انور خوجہ اقتدار میں آیا اور تقریباً 44 برس تک آہنی ہاتھوں سے حکومت کرتا رہا۔ ابتدا میں اس نے مساوات، انصاف اور ترقی کے نعرے لگائے، مگر جلد ہی اس کی حکومت ایک سخت گیر آمریت میں تبدیل ہو گئی۔
اس نے البانیہ کو دنیا کی پہلی سرکاری ملحد ریاست قرار دیتے ہوئے مذہب کے خلاف منظم مہم شروع کر دی۔ دو ہزار سے زیادہ مساجد، گرجا گھر، خانقاہیں اور عبادت گاہیں بند کر دی گئیں یا انہیں گوداموں، کھیل کے ہالوں، عجائب گھروں اور سرکاری دفاتر میں تبدیل کر دیا گیا۔ اذان، نماز، روزہ، مذہبی اجتماعات اور دینی تعلیم پر سخت پابندی عائد کر دی گئی۔ قرآن کریم اور دیگر مذہبی کتابیں ضبط کی گئیں، جبکہ علماء، ائمہ، پادریوں اور مذہبی شخصیات کو گرفتار کر کے جیلوں اور مشقتی کیمپوں میں بھیج دیا گیا۔ بہت سے لوگ برسوں قید میں رہے اور بعض اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
اسلامی شناخت کو ختم کرنے کے لیے مذہبی نام رکھنے، بچوں کو دینی تعلیم دینے اور مذہبی علامات کے اظہار کی بھی قدغنیں لگائی گئیں۔ ریاستی نصاب میں الحاد کو فروغ دیا گیا اور نئی نسل کو یہ سکھایا گیا کہ مذہب ماضی کا ایک فرسودہ تصور ہے۔
لیکن نظریاتی جبر معاشی کامیابی نہ لا سکا۔ انور خوجہ نے پہلے سوویت یونین اور پھر چین سے بھی تعلقات خراب کر لیے، جس کے نتیجے میں البانیہ تقریباً پوری دنیا سے کٹ گیا۔ صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری جمود کا شکار ہو گئی، خوراک کی قلت پیدا ہوئی، بنیادی ڈھانچہ بوسیدہ ہوتا گیا اور عام شہری شدید غربت، بے روزگاری اور محرومی کی زندگی گزارنے لگے۔
ملحد بنیادی طور پر ابنارمل ہوتا ہے۔ انور خوجہ بھی ایسا ہی تھا۔ اس کو بیرونی حملے کا اس قدر خوف تھا کہ اس نے پورے ملک میں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار کنکریٹ کے بنکر تعمیر کرا دیئے۔ ایک غریب ملک کے قیمتی وسائل عوام کی تعلیم، صحت اور خوش حالی کے بجائے ان بنکروں پر خرچ ہوتے رہے۔ آج بھی یہ بنکر اس دور کی خوف زدہ سوچ اور ناکام پالیسیوں کی خاموش یادگار ہیں۔ پھر طرفہ یہ کہ عوام کو یہ جہنم کدہ چھوڑ کر بیرون جانے پر سخت پابندی عاید تھی۔
1985ء میں انور خوجہ جہنم واصل ہوا، مگر اس کے قائم کردہ نظام کی بنیادیں پہلے ہی ہل چکی تھیں۔ مشرقی یورپ میں کمیونسٹ حکومتوں کے زوال کے ساتھ البانیہ میں بھی احتجاج شروع ہو گیا۔ بالآخر 1990ء اور 1991ء میں حکومت نے بیرونِ ملک سفر پر عائد پابندیاں نرم کیں تو ایک غیر معمولی منظر دنیا نے دیکھا۔
لاکھوں البانوی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے لگے۔ بندرگاہوں پر انسانی ہجوم اس قدر تھا کہ لوگ اٹلی جانے والے بحری جہازوں پر کسی بھی طرح سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعض جہازوں پر گنجائش سے کئی گنا زیادہ افراد سوار ہو گئے۔ صرف 1991ء کے دوران تقریباً تین لاکھ افراد نے البانیہ چھوڑ دیا، جبکہ اگلے چند برسوں میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ دراصل اس نظام کے خلاف عوام کا خاموش فیصلہ تھا جس نے انہیں ترقی کے خواب دکھا کر محرومی، خوف اور تنہائی کے سوا کچھ نہ دیا۔
کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد مذہبی آزادی بحال ہوئی۔ برسوں سے بند مساجد دوبارہ آباد ہونے لگیں، مدارس قائم ہوئے، قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ بحال ہوا اور اذان کی صدائیں ایک بار پھر فضا میں گونجنے لگیں۔ دارالحکومت تیرانا میں تعمیر ہونے والی عظیم نمزگاہ مسجد اس نئی مذہبی آزادی کی علامت بن چکی ہے۔
آج البانیہ ایک سیکولر جمہوریہ ہے، جہاں مذہبی آزادی آئینی حق ہے۔ آبادی کی اکثریت اب بھی مسلمان ہے، اگرچہ کمیونسٹ دور کے گہرے اثرات معاشرے میں اب بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ تین دہائیوں میں اسلامی تعلیم، مساجد کی تعمیر، دینی اداروں اور قرآنی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اب البانیہ رفتہ رفتہ ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہے۔ نیٹو (NATO) کا رکن اور یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار ہے۔ سیاحت، توانائی، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مسلسل ترقی کر رہا ہے، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے۔ دارالحکومت تیرانا جدید یورپی شہروں سے زیادہ پیچھے نہیں ہے۔ سڑکوں، ہوائی اڈوں، تعلیمی اداروں اور سیاحتی مراکز میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ آج کا البانیہ اس حقیقت کی عملی مثال ہے کہ ملک نے ترقی اس وقت شروع کی جب اس نے ریاستی جبر، فکری آمریت اور مذہب دشمنی کو ترک کر کے آزادی، اعتدال اور دنیا کے ساتھ تعاون کی راہ اختیار کی۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کی ترقی اس کے عقیدے کو کچلنے میں نہیں بلکہ علم، انصاف، اخلاق، آزادی اور مضبوط روحانی بنیادوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ خدا سے بغاوت پر کھڑی ہونے والے وقتی شور تو برپا کر سکتے ہیں، مگر انسان کی فطرت، اس کے ایمان اور اس کی آزادی کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتے۔ ترقی کے نام پر پیش کیا جانے والا الحاد آخرکار ایک سراب ثابت ہوتا ہے، جبکہ ایمان ہمیشہ زندہ و جاوید رہتا ہے۔
(یہ تصاویر البانیہ سے بھاگنے والے شہریوں کی ہیں)
![]()

