سبحان اللہ
یہ مسجد ایران کے شہر زنجان میں ہے 🇮🇷❤️
.
زنجان — وہ شہر جہاں نمک میں ہزاروں سال پرانی زندگی محفوظ ہے
تحریر: ماریہ خان
تصور کیجیے…
رات کا آخری پہر ہے۔
ایران کے شمال مغربی پہاڑوں پر برف پڑ رہی ہے۔ ہوا میں ایسی ٹھنڈک ہے کہ سانس لیتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے پھیپھڑوں میں شیشہ اتر رہا ہو۔ دور کہیں چراغ جل رہا ہے اور ایک مسافر زنجان کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اچانک وہ ایک ایسی جگہ پہنچتا ہے جہاں وقت جیسے رک گیا ہو۔
اس کے سامنے ایک انسان کا جسم رکھا ہے۔
وہ زندہ نہیں…
مگر اس کے بال باقی ہیں۔
چہرہ باقی ہے۔
کپڑے باقی ہیں۔
اور حیرت انگیز طور پر، ہزاروں برس گزرنے کے باوجود اس کے جسم کے آثار محفوظ ہیں۔
مسافر شاید ایک لمحے کے لیے سوچے:
یہ انسان کون تھا؟
کب مرا تھا؟
کس دنیا میں جیتا تھا؟
اس کے گھر والے کہاں تھے؟
وہ آخری مرتبہ کس سے ملا ہوگا؟
یہ کوئی افسانہ نہیں۔
یہ زنجان کے “مردانِ نمکی” — Salt Men کی داستان ہے۔
زنجان کے عجائب گھر میں محفوظ یہ نمک زدہ انسانی باقیات اس خطے کے اس عجیب راز کی یاد دلاتی ہیں کہ کبھی یہاں زندگی صرف بازاروں، محلوں اور گھروں میں نہیں تھی؛ بلکہ زمین کے اندر بھی تاریخ سانس لے رہی تھی۔
اور شاید یہی زنجان کی سب سے بڑی کشش ہے۔
یہ شہر تاریخ کو صرف کتاب میں نہیں رکھتا۔
یہ تاریخ کو اپنے پتھروں، بازاروں، مٹی، نمک، مسجدوں اور لوگوں میں محفوظ رکھتا ہے۔
—
زنجان کہاں ہے؟
زنجان ایران کے شمال مغربی حصے میں واقع ایک تاریخی شہر اور صوبۂ زنجان کا دارالحکومت ہے۔ شہر سطحِ سمندر سے تقریباً 1,600 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور اس کا موسم چاروں موسموں کا خوبصورت امتزاج پیش کرتا ہے۔
یہ تہران، تبریز، قزوین اور ایران کے دوسرے اہم تاریخی علاقوں کے درمیان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں صدیوں سے راستے گزرتے رہے۔
شاید اسی لیے زنجان کی تاریخ میں ایک عجیب سی روانی محسوس ہوتی ہے۔
یہاں سلطنتیں آئیں۔
گئیں۔
بادشاہ بدلے۔
زبانیں بدلیں۔
بازار آباد ہوئے۔
شہر اجڑے۔
مگر زنجان باقی رہا۔
—
نام کے پیچھے ایک قدیم داستان
زنجان کا قدیم نام مختلف تاریخی متون میں مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے جغرافیہ نگاروں نے اسے زنگان یا اس سے ملتے جلتے ناموں سے بھی بیان کیا۔
چودھویں صدی کے ایرانی جغرافیہ نگار حمد اللہ مستوفی نے زنجان کے بارے میں لکھا کہ اس شہر کی بنیاد ساسانی بادشاہ اردشیر اول سے منسوب کی جاتی تھی اور اس کا ایک قدیم نام “شاہین” بتایا جاتا تھا۔
یہ روایت تاریخی بحث سے گزرتی رہی ہے، لیکن ایک حقیقت واضح ہے:
زنجان کوئی نیا شہر نہیں۔
اس خطے میں انسانی آبادیاں اور تہذیبی سرگرمیاں بہت قدیم زمانے تک جاتی ہیں۔
اور جب ہم زنجان کی تاریخ میں پیچھے جاتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا ایران نظر آتا ہے جو آج کے ایران سے بالکل مختلف تھا۔
—
جب ایران میں ساسانیوں کا سورج طلوع تھا
ساسانی سلطنت کا آغاز تیسری صدی عیسوی میں ہوا۔
اردشیر اول نے تقریباً 224ء میں ساسانی اقتدار کی بنیاد رکھی۔
یہ وہ دور تھا جب ایران ایک مرتبہ پھر ایک بڑی مرکزی سلطنت کے طور پر ابھرا۔
زنجان بھی اس وسیع ایرانی تہذیبی دنیا کا حصہ تھا۔
شاہی قافلے، فوجی راستے، تجارتی گزرگاہیں، زراعت اور مقامی بستیاں اس پورے خطے کو ایک دوسرے سے جوڑتی تھیں۔
پھر تاریخ نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے ایران کی سیاسی اور مذہبی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
—
645ء — جب ایک پرانی دنیا ختم ہونے لگی
ساتویں صدی میں عرب افواج ایران میں داخل ہوئیں۔
تاریخی روایات کے مطابق 645ء میں زنجان بھی فتح ہونے والے علاقوں میں شامل ہوا۔
یہ صرف ایک شہر کی فتح نہیں تھی۔
یہ ایک تہذیبی تبدیلی کا آغاز تھا۔
ساسانی سلطنت ختم ہوئی۔
اسلام ایران میں پھیلنے لگا۔
صدیوں کے دوران فارسی زبان نے عربی سے نئے الفاظ لیے، اسلامی علوم نے ایرانی علمی روایت سے رشتہ قائم کیا اور ایک نئی ایرانی مسلم تہذیب تشکیل پانے لگی۔
زنجان بھی اسی تبدیلی کا حصہ بنا۔
—
پھر زنجان نے فارسی زبان کی آواز سنی
اسلامی عہد کے بعد زنجان مختلف مقامی اور علاقائی حکمرانوں کے زیر اثر رہا۔
نویں اور دسویں صدی میں اس خطے میں مختلف ایرانی خاندانوں اور مقامی حکمرانوں کا اثر رہا۔
قرونِ وسطیٰ کے زمانے میں زنجان ایران کے ان علاقوں میں شمار ہوتا تھا جہاں فارسی زبان کی مختلف قدیم شکلیں بولی جاتی تھیں۔
حمد اللہ مستوفی نے یہاں کے لوگوں کی زبان کے بارے میں ایک دلچسپ بات لکھی کہ وہ خالص پہلوی بولتے تھے۔
یعنی آج کے زنجان کے ترک زبان بولنے والے معاشرے کے پیچھے ایک ایسی قدیم لسانی تاریخ بھی موجود ہے جس میں فارسی کی پرانی شکلوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
تاریخ کبھی سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔
زبانیں بھی دریا کی طرح ہوتی ہیں۔
ایک دریا میں کئی چشمے آکر ملتے ہیں۔
—
منگول آئے… اور زنجان کے قریب ایک خواب نے جنم لیا
تیرہویں صدی۔
ایشیا کی تاریخ کا ایک خوفناک باب۔
منگول لشکر ایران کی طرف بڑھ رہے تھے۔
1258ء میں بغداد سقوط کا شکار ہوا اور عباسی خلافت کا پرانا سیاسی مرکز ختم ہوگیا۔
ایران میں منگولوں نے ایلخانی سلطنت قائم کی۔
لیکن تاریخ کی عجیب بات دیکھیے۔
جو قوم تلوار لے کر آئی تھی، کچھ عرصے بعد اسی کے حکمران فارسی فن، علم اور فنِ تعمیر کے سرپرست بننے لگے۔
اور پھر زنجان کے قریب ایک ایسا شہر وجود میں آیا جسے دیکھ کر آج بھی انسان حیران رہ جاتا ہے۔
اس شہر کا نام تھا:
سلطانیہ
—
سلطانیہ — بادشاہ کا شہر
تیرہویں صدی کے آخر میں ایلخانی حکمرانوں نے اس علاقے کے زرخیز میدانوں اور گھوڑوں کے لیے موزوں چراگاہوں کو پسند کیا۔
پھر سلطان محمد خدابندہ الجایتو نے سلطانیہ کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔
تقریباً 1304ء میں وہ اقتدار میں آیا۔
اور پھر شروع ہوئی تعمیر۔
ایک ایسا شہر بنایا گیا جو اپنے زمانے میں عظمت، طاقت اور فنِ تعمیر کی علامت بننا تھا۔
سب سے بڑا عجوبہ تھا:
گنبدِ سلطانیہ۔
اس کی تعمیر 1302ء سے 1312ء کے درمیان ہوئی۔
یہ ایک عظیم الشان ہشت پہلو عمارت ہے جس کا فیروزی رنگ کا گنبد تقریباً 50 میٹر بلند ہے۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ایران میں موجود قدیم ترین محفوظ دوہری تہہ والے گنبد کی مثال ہے۔ UNESCO نے 2005ء میں سلطانیہ کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا۔
مشہور ماہرِ ایرانی فنِ تعمیر آرتھر اپھم پوپ (A. U. Pope) نے اس عمارت کو ایسے فنِ تعمیر کے طور پر بیان کیا جو گویا تاج محل سے پہلے اس کے امکانات کی جھلک دکھاتا تھا۔
یہ جملہ پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ ایک عجیب خیال آتا ہے:
کیا فنِ تعمیر بھی مستقبل کو خواب میں دیکھ سکتا ہے؟
شاید ہاں۔
—
سلطانیہ کا عروج اور پھر خاموشی
سلطانیہ ہمیشہ دارالحکومت نہیں رہ سکا۔
1316ء میں الجایتو کا انتقال ہوا۔
اور اس کے بعد شہر کی سیاسی اہمیت آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔
پھر 1384ء میں تیمور کی فوج نے شہر پر قبضہ کیا اور اسے لوٹ لیا، اگرچہ الجایتو کا مقبرہ محفوظ رہا۔
وقت گزرتا گیا۔
سلطانیہ کی رونق کم ہوتی گئی۔
سولہویں اور سترہویں صدی تک شہر کا بڑا حصہ ویرانی کی طرف جا چکا تھا۔
کبھی جہاں شاہی محل، لشکر، بازار اور دربار تھے، وہاں خاموشی رہ گئی۔
صرف ایک عظیم گنبد کھڑا رہا۔
جیسے تاریخ کے ملبے پر کوئی محافظ کھڑا ہو۔
—
زنجان کا بازار — جہاں وقت خرید و فروخت کرتا ہے
اگر سلطانیہ زنجان کی شاہی یادداشت ہے تو زنجان کا بازار اس شہر کی روزمرہ زندگی ہے۔
زنجان کا تاریخی بازار آغا محمد خان قاجار کے عہد میں شروع ہوا۔ تاریخی حوالوں میں اس کی تعمیر کا آغاز 1205ھ یعنی تقریباً 1784-85ء کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔
بعد میں فتح علی شاہ قاجار کے دور میں اس کی توسیع ہوئی۔
بازار میں مختلف پیشوں اور اشیا کے لیے الگ حصے بنے۔
آج بھی زنجان کے بازار میں داخل ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی دکان میں نہیں بلکہ صدیوں پرانے وقت میں داخل ہو رہی ہیں۔
چاقو۔
تانبا۔
قالین۔
دستکاری۔
مقامی مصنوعات۔
اور دکانداروں کی آوازیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخ عجائب گھر سے نکل کر زندگی بن جاتی ہے۔
—
ایک عجیب عمارت — جہاں عورتیں کپڑے دھونے آتی تھیں
زنجان میں ایک اور جگہ ہے جو مجھے اس شہر کی تاریخ کے باقی تمام مقامات سے مختلف لگتی ہے:
رخت شوی خانہ۔
یعنی تاریخی عوامی دھوبی خانہ۔
یہ عمارت بیسویں صدی کے اوائل میں بنائی گئی اور 1307 ہجری شمسی / 1928ء سے اس کی نسبت ملتی ہے۔
سردیوں میں زنجان کا موسم سخت ہوسکتا ہے۔
ایسے میں عورتوں کو کھلے دریا یا ندی کے کنارے جا کر کپڑے دھونے کی ضرورت نہ پڑے، اس مقصد سے ایک محفوظ، سرپوشیدہ جگہ بنائی گئی۔
آج وہی عمارت ایک عجائب گھر ہے۔
کبھی وہاں عورتوں کے ہاتھ پانی میں تھے۔
آج وہاں ان کی زندگی مجسموں اور تاریخی اشیا کے ذریعے محفوظ ہے۔
مجھے تاریخ کا یہ پہلو بہت عزیز ہے۔
کیونکہ تاریخ صرف بادشاہوں کی نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی تاریخ ایک عام عورت کے گیلے ہاتھوں میں بھی لکھی جاتی ہے۔
—
مردانِ نمکی — زنجان کا سب سے پراسرار راز
اب واپس آتے ہیں اس کہانی کی طرف جس سے میں نے مضمون شروع کیا تھا۔
مردانِ نمکی۔
زنجان کے قریب نمک کی کانوں سے ایسے انسانی باقیات دریافت ہوئے جنہوں نے ماہرین کو حیران کردیا۔
نمک نے ان جسموں کے بعض حصوں کو غیر معمولی حد تک محفوظ رکھا۔
انسان جو کبھی سانس لیتا تھا…
کسی کو چاہتا تھا…
کسی گھر میں رہتا تھا…
کسی خاندان کا حصہ تھا…
آج ایک عجائب گھر میں خاموش کھڑا ہے۔
اس منظر کے سامنے کھڑے ہو کر مجھے فارسی شاعر سعدی کا یہ شعر یاد آتا ہے:
بنی آدم اعضای یکدیگرند
که در آفرینش ز یک گوهرند
یعنی:
بنی آدم ایک دوسرے کے اعضا کی مانند ہیں، کیونکہ ان کی تخلیق ایک ہی جوہر سے ہوئی ہے۔
زنجان کے مردانِ نمکی شاید ہمیں یہی بات ہزاروں برس بعد سمجھاتے ہیں:
بادشاہ چلا جاتا ہے۔
سپاہی چلا جاتا ہے۔
تاجر چلا جاتا ہے۔
غریب چلا جاتا ہے۔
مگر آخر میں انسان صرف ایک یاد بن جاتا ہے۔
—
1851ء — زنجان کی تاریخ کا ایک خون آلود باب
زنجان کی تاریخ میں ایک نہایت پیچیدہ اور المناک باب 1851ء کا ہے، جب شہر ایران میں بابیت کی تحریک کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
یہ دور قاجار حکمرانی کا تھا۔
تحریک کے پیروکاروں اور مرکزی حکومت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔
زنجان میں ایک طویل محاصرہ ہوا اور آخرکار حکومتی فوج نے مزاحمت کو ختم کردیا۔
یہ واقعہ ایران کی مذہبی اور سیاسی تاریخ کے ان ابواب میں شامل ہے جن پر آج بھی مختلف تاریخی تعبیرات پائی جاتی ہیں۔
یہاں تاریخ کو جذبات سے نہیں بلکہ اس کے تمام فریقوں، اسباب اور نتائج کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ کبھی ایک ہی واقعے کے اندر کئی انسانی المیے چھپے ہوتے ہیں۔
—
آئینی انقلاب — جب ایرانی عوام نے قانون کا مطالبہ کیا
انیسویں صدی کے آخر میں ایران بدل رہا تھا۔
دنیا بدل رہی تھی۔
یورپ میں صنعتی انقلاب اپنی شکل اختیار کر چکا تھا۔
روس اور برطانیہ ایران میں اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے۔
ملک کے اندر سیاسی اور معاشی بے چینی بڑھ رہی تھی۔
پھر آیا:
آئینی انقلابِ ایران — 1905ء تا 1911ء۔
اس تحریک کا بنیادی مقصد ایک ایسے سیاسی نظام کی طرف بڑھنا تھا جس میں بادشاہ کی مطلق طاقت کے بجائے قانون، نمائندگی اور آئینی حکومت کو اہمیت حاصل ہو۔
یہ انقلاب جدید ایرانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
زنجان بھی اسی وسیع ایرانی معاشرتی تبدیلی سے الگ نہیں تھا۔
—
زنجان اور آذری تہذیب
آج زنجان کی شناخت کا ایک اہم حصہ اس کی آذری ثقافت ہے۔
شہر میں فارسی کے ساتھ آذربائیجانی ترکی بھی بولی جاتی ہے، اور زنجانی لہجہ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔
یہاں کے لوگ چاقو سازی، قالین بافی، جاجیم، روایتی دستکاری، دھات کاری اور دوسرے ہنروں کے لیے بھی مشہور ہیں۔
اور شاید یہی زنجان کی اصل خوبصورتی ہے:
یہ شہر ایک ہی تہذیب کا نام نہیں۔
یہ کئی زمانوں کے ملنے کا نام ہے۔
—
زنجان کے پہاڑ، غار اور خاموش قلعے
شہر کے اردگرد قدرت بھی اپنی الگ کہانی سناتی ہے۔
کاتالہ خور غار،
بہستان قلعہ،
زنجان رود کے پل،
قدیم بازار،
مساجد،
اور پہاڑی مناظر…
سب مل کر اس خطے کو صرف تاریخی نہیں بلکہ قدرتی اعتبار سے بھی دلچسپ بناتے ہیں۔
بہستان کے قلعے کے بارے میں سوچیں تو ایک بار پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے:
لوگ پہاڑ کے کنارے ایسی جگہ پر قلعہ کیوں بناتے تھے؟
جواب صرف دفاع نہیں تھا۔
قدیم دنیا میں پہاڑ طاقت بھی تھا، پناہ بھی، نگرانی بھی اور علامت بھی۔
—
مسجد، بازار اور اذان
زنجان کی قدیم فضا کا ایک اہم حصہ اس کی مساجد ہیں۔
جامع مسجد زنجان، جسے مسجدِ سید بھی کہا جاتا ہے، قاجاری دور کی یادگار ہے اور اس کی تعمیر 1826ء کے آس پاس ہوئی۔
ذرا تصور کریں…
زنجان کی سرد صبح۔
آسمان ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوا۔
بازار کے دروازے بند ہیں۔
دکان دار ابھی نہیں آئے۔
اور ایک مسجد کے مینار سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے۔
تاریخ کے بڑے بڑے شور کے درمیان شاید یہی چھوٹی آوازیں شہر کو زندہ رکھتی ہیں۔
فارسی شاعر حافظ شیرازی نے کہا:
دوش دیدم که ملائک در میخانه زدند
گل آدم بسرشتند و به پیمانه زدند
ترجمہ:
گزشتہ شب میں نے دیکھا کہ فرشتے میخانے کے دروازے پر آئے،
اور آدم کی مٹی کو پیمانے سے گوندھا۔
حافظ کے ہاں انسان ہمیشہ ایک پراسرار مخلوق ہے۔
شاید زنجان بھی ایسا ہی ہے۔
مٹی سے بنا ہوا شہر…
مگر اپنے اندر ہزاروں سال کی کہانی لیے ہوئے۔
—
اور پھر ایک حیران کن بات — زنجان کے لوگ خوش بھی ہیں؟
زنجان کے بارے میں ایک دلچسپ دعویٰ ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک سروے سے منسوب کیا جاتا ہے کہ صوبۂ زنجان کے لوگوں نے ملک کے مختلف صوبوں کے تقابلی جائزے میں خوشی کے حوالے سے بلند مقام حاصل کیا۔
لیکن یہاں ایک احتیاط ضروری ہے۔
“زنجان دنیا کا سب سے خوش شہر ہے” کہنا درست نہیں ہوگا۔
ایسے سروے کے نتائج مخصوص طریقۂ کار، نمونے اور سوالات پر منحصر ہوتے ہیں۔
البتہ یہ تصور دلچسپ ضرور ہے کہ ایک ایسا شہر جس نے حملے دیکھے، سلطنتوں کا عروج و زوال دیکھا، سیاسی بحران دیکھے، سردیاں برداشت کیں اور اپنی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھا، اس کے لوگوں کے بارے میں خوشی کی ایسی تصویر سامنے آئے۔
شاید خوشی کا تعلق صرف دولت سے نہیں۔
شاید اس کا تعلق اس احساس سے بھی ہے کہ:
انسان اپنے شہر سے جڑا ہوا ہے۔
—
زنجان کا وقت — ایک گھڑی جو ہزار سال پیچھے چلتی ہے
اگر میں کبھی زنجان جاؤں تو شاید صبح بہت جلد نکلوں۔
صبح کے تقریباً 6 بجے۔
سرد ہوا چہرے سے ٹکرائے۔
بازار ابھی پوری طرح نہ کھلا ہو۔
کسی مسجد سے فجر کی اذان کی آخری آواز آ رہی ہو۔
پھر میں کسی پرانے بازار کی گلی میں داخل ہوں۔
کسی دکان کے باہر چاقو بن رہا ہو۔
کسی گھر سے چائے کی خوشبو آ رہی ہو۔
اور میں سوچوں:
یہی جگہ کبھی ساسانی دنیا کا حصہ تھی۔
پھر اسلامی لشکروں نے یہاں قدم رکھا۔
پھر سلجوق آئے۔
پھر منگول آئے۔
پھر ایلخانیوں نے قریب ہی سلطانیہ کو دارالحکومت بنایا۔
پھر تیمور آیا۔
پھر صفوی، افشاری، زند اور قاجار گزرے۔
پھر آئینی انقلاب آیا۔
پھر جدید ایران وجود میں آیا۔
اور آج…
اسی شہر میں موبائل فون بجتے ہیں، گاڑیاں چلتی ہیں، یونیورسٹیوں میں نوجوان پڑھتے ہیں اور کیفے میں بیٹھے لوگ مستقبل کی بات کرتے ہیں۔
وقت نے زنجان کو بدل دیا، مگر مٹا نہیں سکا۔
—
15 جولائی 2005 — جب دنیا نے سلطانیہ کو دوبارہ دیکھا
15 جولائی 2005ء، جمعہ کو UNESCO کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں سلطانیہ شامل ہوا؛ حسابی ہجری تقویم کے مطابق یہ تاریخ 9 جمادی الثانی 1426ھ بنتی ہے۔
یہ ایک علامتی لمحہ تھا۔
صدیوں پہلے جس شہر کا عروج ختم ہوگیا تھا، اس کی ایک عظیم یادگار کو دنیا نے دوبارہ عالمی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا۔
اور مجھے اس میں تاریخ کا ایک خوبصورت انصاف نظر آتا ہے۔
کبھی بادشاہ اپنے شہر کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے محل بناتا ہے۔
وقت محل گرا دیتا ہے۔
مگر کبھی ایک گنبد بچ جاتا ہے۔
اور وہ گنبد صدیوں بعد پوری دنیا سے کہتا ہے:
میں ابھی یہاں ہوں۔
—
رومی اور زنجان کی خاموشی
زنجان کی تاریخ پڑھتے ہوئے مجھے مولانا روم کا یہ شعر بار بار یاد آتا ہے:
این جهان کوه است و فعل ما ندا
سوی ما آید نداها را صدا
ترجمہ:
یہ دنیا ایک پہاڑ ہے اور ہمارے اعمال ہماری پکار؛
جو آواز ہم بلند کرتے ہیں، اسی کی بازگشت ہماری طرف لوٹتی ہے۔
زنجان شاید اسی بازگشت کا شہر ہے۔
جس زمانے نے یہاں کچھ تعمیر کیا، اس کی آواز آج بھی سنائی دیتی ہے۔
جس نے جنگ کی، اس کی بھی۔
جس نے مسجد بنائی، اس کی بھی۔
جس نے بازار بنایا، اس کی بھی۔
اور جس انسان نے نمک کی کان میں اپنی آخری سانس لی…
اس کی خاموشی بھی آج تک موجود ہے۔
—
زنجان صرف ایک شہر نہیں
زنجان کو صرف نقشے پر دیکھیں تو یہ ایران کا ایک شہر ہے۔
مگر تاریخ کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ کچھ اور ہے۔
یہ ساسانی یادداشت ہے۔
یہ اسلامی تاریخ ہے۔
یہ فارسی زبان ہے۔
یہ آذری تہذیب ہے۔
یہ ایلخانی سلطنت ہے۔
یہ سلطانیہ کا فیروزی گنبد ہے۔
یہ قاجاری بازار ہے۔
یہ عورتوں کا رخت شوی خانہ ہے۔
یہ مردانِ نمکی کی خاموش آنکھیں ہیں۔
یہ پہاڑ ہیں۔
یہ غار ہیں۔
یہ چاقو بنانے والے کاریگر کے ہاتھ ہیں۔
یہ مسجد سے اٹھتی ہوئی اذان ہے۔
اور شاید سب سے بڑھ کر…
یہ وقت کے سامنے انسان کی ایک چھوٹی سی مگر حیرت انگیز مزاحمت ہے۔
—
آخری منظر
میں تصور کرتی ہوں کہ زنجان میں ایک سرد رات ہے۔
شہر خاموش ہے۔
بازار بند ہوچکا ہے۔
سلطانیہ کا فیروزی گنبد دور کہیں اندھیرے میں اپنی شکل قائم رکھے ہوئے ہے۔
اور ایک عجائب گھر کے اندر نمک میں محفوظ ایک قدیم انسان خاموش کھڑا ہے۔
وہ کچھ نہیں کہتا۔
اسے کہنے کی ضرورت بھی نہیں۔
اس کا وجود ہی ایک سوال ہے:
تم لوگ جو آج اتنے مصروف ہو…
کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک دن تم بھی صرف ایک یاد رہ جاؤ گے؟
شاید اسی لیے زندگی کی اصل خوبصورتی عمارتیں بنانے میں نہیں، بلکہ ان کے اندر معنی چھوڑ جانے میں ہے۔
سعدی نے کہا تھا:
تو نیکی میکن و در دجله انداز
که ایزد در بیابانت دهد باز
یعنی:
نیکی کرو اور اسے دریا میں ڈال دو؛
خدا اسے کسی نہ کسی صورت تمہیں واپس لوٹا دے گا۔
زنجان کی گلیوں میں چلتے ہوئے شاید انسان کو یہی احساس ہوتا ہے۔
صدیاں گزرتی ہیں۔
سلطنتیں ختم ہوتی ہیں۔
بادشاہ مر جاتے ہیں۔
بازار بدل جاتے ہیں۔
زبانیں بدل جاتی ہیں۔
مگر انسان کی بنائی ہوئی خوبصورتی، اس کی محنت، اس کی محبت اور اس کی تہذیب…
کسی نہ کسی شکل میں باقی رہ جاتی ہے۔
زنجان اسی باقی رہ جانے والی انسانی کہانی کا نام ہے۔
اور شاید اسی لیے یہ شہر صرف دیکھا نہیں جاتا…
محسوس کیا جاتا ہے۔
IMRAN AKHOON
![]()

