اکیسویں صدی کے صوفی
خواجہ شمس الدین عظیمی رحمتہ اللہ علیہ
تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ : وراثت۔۔تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی) انسان کا وجود مخلوقات کے لیے خیر اور فلاح کا ذریعہ بنے۔ انسان آخرت میں جواب دہی کا یقین رکھے۔ [ بحوالہ سورہ بقرہ (2): آیت 4 ]
9۔ تفکر اور معرفت
قرآن نظر بند بر اور اللہ کی نشانیوں پر غور کی دعوت دیتا ہے۔ [ بحوالہ سور ور وم (30):21 ] قرآن کو سمجھنا دراصل اللہ کی مشیت کو سمجھتا ہے۔ اللہ کی معرفت اور قربت کے لیے تزکیۂ نفس مرتب پر احسان اور نبی اکرم ﷺ سے نسبت لازمی ہے۔
10۔ علم نافع اور علم غیر نافع
جس علم سے اللہ پر ایمان اور آخرت میں جواب دہی کا یقین پختہ ہو وہ علم نافع ہے۔ جس علم کی وجہ سے انسان شک میں جاپڑے اور اللہ سے ڈور ہو جائے وہ علم غیر نافع ہے۔
11- زمان و مکان اور روحانی حواس
مادی اجسام کی حرکت کی رفتار بڑھا کر کم وقت (ٹائم ) میں زیادہ فاصلے (اسپیس) طے کیے جاسکتے ہیں۔ انسان کے غیر مادی یار و حافی جو اس کے ذریعے بھی ٹائم اینڈا سپیس ( زمان و مکان ) کی نفی ہو سکتی ہے۔
12 خواب، باطن اور نگاہ
اس دنیا میں ہر انسان کی زندگی میں بیداری کے ساتھ خواب کی اہمیت بھی ہے۔ اصل اہمیت حواس کی ہے خواہ وہ بیداری میں کام کر رہے ہوں یا خواب میں۔ انسان کے باطنی حواس کی تحریکات سے اس کی باطنی نگاہ بیدارہو سکتی ہے۔
13۔ روح اور جسم
انسانی وجود جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ جسمانی تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ روحانی تقاضوں سے آگہی و تکمیل بھی ضروری ہے۔
14- نیت
سلاسل طریقت میں تربیت کی ابتداء نیت کی سچائی پر بہت زور دیا جاتا ہے۔
15- ادب
ادب کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھنا سین شیمیہ کے ہر رکن کے لیے ضروری ہے۔
16- مراقبہ
شعوری ور لاشعوری استعداد بڑھانے اور ذہنی سکون کے لیے مراقبہ مفید و موثر عمل ہے۔
17- خدمتِ خلق
مخلوق خدا کی خدمت اللہ کی رضا پانے کا ذریعہ ہے۔
18۔ دعا اور عمل
دعا کا تعلق یقین سے ہے، اور یقین عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ دعا کو عمل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ صرف دعا پر اکتفا کرنا نظام فطرت کو نہ سمجھنے کی علامت ہے۔
19۔ وقت کی قدر اور ذمہ دارانہ زندگی
وقت اللہ کی عطا کر دو بہت بڑی نعمت ہے، بین یدیہ کے اراکین کو اس نعمت کی قدر کرنے کی تلقین کی جاتی ہے
20 – شکر گزاری
اللہ کی نعمتوں کو شکر گزاری کے اساتھ استعمال کیا جائے۔ اسراف نہ کیا جائے۔
21۔ جدید علوم سے ہم آہنگی روحانیت اور سائنس دونوں اللہ کی نشانیوں کو سمجھنے میں ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔
درمیان اخلاص اور بھائی چارے کے لیے بہت کوششیں کیں۔ آپ نے اپنے شاگردوں کو آگہی دی کہ روحانی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا اخلاق اچھا ہو اور اس کا وجود نہ صرف انسانوں بلکہ سب خلوقات کے لیے فلاح اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنے۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ نے تصوف کے نام پر رائج فرسودہ رسوم و روایات کو اہمیت نہیں دی۔ آپ فرماتے تھے کہ کئی رسومات تربیت و تزکیہ میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتیں۔ ان رسومات کی بنیاد محض معاشرتی یا ثقافتی ہے۔ صوفیانہ نظریات کے فروغ کے لیے جدید انداز اختیار کرتے ہوئے حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے تصوف کو اس کے اصل مقصد سے الگ نہیں ہونے دیا۔
4 خدمتِ خلق
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے بتایا کہ اللہ کی قربت پانے کا ایک موثر ذریعہ مخلوق خدا کی خدمت ہے۔ حضرت خواجہ شمس الدین قیمی لی نے اپنی زندگی خدمت خلق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
اس مختصر جائزے سے یہ بخوبی واضح ہوا کہ اکیسویں صدی کے صوفی ، سلسلہ عظیمیہ کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کی علمی اور عملی خدمات اولیاء اللہ کے صدیوں سے جاری مندرجہ بالا چار بڑے کاموں کا پر تو ہیں۔ خواہشمس الدین فہمی کی یہ خدمات اب ان کے ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس ورثے کی حفاظت کرنا اور اسے آگے بڑھانا سلسلہ عظیمیہ کے اراکین کی اولین ذمہ داری ہونا چاہیے۔
مشن کا تسلسل
سلسلہ عظیمیہ کے امام حضرت محمد عظیم برخیاء نےاراکین سلسلہ کے لیے چند رہنما اصول بتائے تھے۔
ان کی روشنی میں حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے اغراض و مقاصد اور قوائد و ضوابط تحریر کیے ۔ آپ نے سلسلہ عظیمیہ کے اراکین کی تربیت و تعلیم کے لیے اور روحانی ماحول کے تقاضے سمجھانے کے لیے کئی نکات تعلیم فرمائے۔ ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب روحانی سلاسل میں ادب کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
خانواده سلسلہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سلسلہ عظیمیہ کے ہر رکن کے لیے، ہر طالب علم کے۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنا مہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026
![]()

