ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا دینِ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں کسی بھی ’’خدا‘‘ اور نعوذ باللہ کسی بھی ’’مجازی خدا‘‘ کی کوئی گنجائش موجود ہے؟
یہ تو وہ دین ہے جس میں ’’خدا‘‘ کی نہیں، صرف اللہ کی گنجائش ہے؛ وہ اللہ جو ربُّ العالمین ہے۔ پھر ایسے دین میں ایک ’’خدا‘‘ اور ایک ’’مجازی خدا‘‘ کا تصور کس قدر مضحکہ خیز اور بے معنی دکھائی دیتا ہے۔
اگر ’’مجازی خدا‘‘ کے تصور کو دین میں اس قدر ضروری سمجھا جاتا، تو سب سے پہلے یہ تصور آدم علیہ السلام کو دیا جاتا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے ایسا مقام عطا فرمایا کہ فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، اور انہوں نے سجدہ بھی کیا۔ لیکن حضرت آدم علیہ السلام کے لیے بھی ’’مجازی خدا‘‘ جیسا کوئی لقب استعمال نہیں کیا گیا۔
اس کے برعکس، ایک ایسے انسان کے لیے یہ لفظ استعمال کرنا—جو ’’مجازی خدا‘‘ تو درکنار، شوہر کے رتبے اور شوہر کی بنیادی خصوصیات پر بھی پورا نہیں اترتا تھا—انتہائی مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا کرتا ہے۔
اسلام میں بندہ، بندہ ہے اور اللہ، اللہ ہے۔ اللہ کی الوہیت، ربوبیت اور حاکمیت میں کسی انسان کو شریک یا اس کا ’’مجازی‘‘ متبادل تصور کرنا اسلامی تصورِ توحید کے بنیادی مزاج سے ہی متصادم دکھائی دیتا ہے۔
مجازی خدا!
یہ بذاتِ خود ایک انتہائی مضحکہ خیز اور معنی کے اعتبار سے عجیب ترکیب ہے۔ خدا کے ساتھ ’’مجازی‘‘ کا لفظ لگا کر گویا ایک ’’جھوٹے خدا‘‘ کا تصور پیدا کیا جاتا ہے، اور یوں ایک ایسی پیچیدہ صورتِ حال کو محض دو لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے شاید یہ اصطلاح پوری طرح واضح کرنے سے قاصر ہے۔
اگر خدا کا بنیادی وصف یہ ہے کہ وہ دیتا ہے، عطا کرتا ہے، سہارا دیتا ہے اور اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں، تو پھر ’’مجازی خدا‘‘ کا تصور آخر کس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
کیا یہ وہ ’’جھوٹا خدا‘‘ ہے جو دینے کے بجائے صرف لینے پر قائم ہو؟
جو اپنی بیوی سے خدمت کروائے، اپنی بیماری میں اس کی دیکھ بھال کو اپنا حق سمجھے، اپنے روزمرہ کے معمولی سے معمولی کام بھی اسی سے کروائے؛ گویا وہ خود کسی ذمہ داری کے قابل ہی نہ ہو۔ وہ معذوری کی حالت میں ہو، نشے کی حالت میں ہو، بے روزگاری کا شکار ہو، یا بعض اوقات کمانے کے باوجود بھی اس کی نظر بیوی کے مال اور وسائل پر ہو—تب بھی توقع یہی رکھی جائے کہ بیوی اس کی خدمت کرے، اسے سنبھالے، اسے سہارا دے اور اس کے ہر مطالبے کو پورا کرے۔
اور معاملہ صرف خدمت تک محدود نہیں رہتا۔
وہ اپنی بیوی کو جذباتی تحفظ دینے کے بجائے خود اس سے مسلسل توجہ، تعریف اور توثیق یعنی Validation کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسے ہر وقت اپنی تعریف چاہیے، اپنی اہمیت کا احساس چاہیے، اپنی مردانگی کی تصدیق چاہیے۔
حالانکہ تعریف اسی کی کی جاتی ہے جو تعریف کے قابل ہو۔ احترام بھی اسی رویے اور کردار کا فطری نتیجہ ہونا چاہیے جو احترام کے لائق ہو۔
مگر ہمارے معاشرے میں بعض اوقات صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ شوہر کے لیے گویا یہ ایک پیدائشی استحقاق تصور کر لیا جاتا ہے کہ وہ شوہر بن گیا ہے تو اب اس کی تعریف بھی کی جائے گی، اس کی پذیرائی بھی ہوگی اور اس کا احترام بھی کیا جائے گا—خواہ اس کے کردار میں تعریف کے قابل کوئی خوبی موجود ہو یا نہ ہو۔
وہ نشے کا عادی ہو، جھوٹ بولتا ہو، دھوکا دیتا ہو، بدکرداری کا مرتکب ہو، غیر ذمہ دار ہو یا اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کرتا ہو، پھر بھی اس سے احترام کی توقع رکھی جاتی ہے۔
کیوں؟
محض اس لیے کہ وہ مرد ہے، اور شوہر ہے۔
یہیں آ کر ’’مجازی خدا‘‘ کی اصطلاح اپنے اندر ایک عجیب سا تضاد پیدا کرتی ہے۔ جسے خدا سے تشبیہ دی جا رہی ہے، اس کے کردار میں خدا کی عطا، بے نیازی، رحمت اور کفالت کے بجائے بسا اوقات مطالبہ، انحصار، خدمت طلبی اور مسلسل توثیق کی خواہش دکھائی دیتی ہے۔
اسی لیے ’’مجازی خدا‘‘ کی یہ ترکیب میرے لیے محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک نہایت پیچیدہ اور بسا اوقات مضحکہ خیز سماجی تصور کی علامت بن جاتی ہے—ایسا تصور جس میں اختیار تو خدا جیسا مانگا جاتا ہے، مگر ذمہ داری، عطا، کفالت اور جواب دہی کے معاملے میں انسان بھی بننا گوارا نہیں کیا جاتا۔
ہمارے معاشرے میں جن نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی خطوط پر ایک بچی، ایک لڑکی کی پرورش اور تربیت کی جاتی ہے، اس کے ذہن میں شوہر کو لے کر ایک ایسا اعلیٰ تصور بن جاتا ہے کہ اس کا شوہر ہی اس دنیا کا ہیرو ہوگا، اس کا شوہر ہی اس کو تحفظ دینے والا واحد شخص ہوگا، اس کا شوہر ہی اس کا واحد محافظ ہوگا، اس کا شوہر ہی وہ شخص ہوگا جو اسے سب کچھ دے گا۔
اور یہ تصور ’’مجازی خدا‘‘ کی بالکل عملی تفسیر ہے۔ یعنی اس محاورے کو ہمارے معاشرے میں حقیقت کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔
یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس محاورے نے ہماری عورتوں اور ہمارے معاشرے کی نفسیات کو کس حد تک بگاڑ دیا ہے، کہ ہماری بچیوں اور ہماری لڑکیوں کا دین اور عقیدہ تک خطرے میں پڑ گیا ہے، لیکن ہم اس معاملے کی گہرائی کو سمجھنے سے بالکل محروم ہیں۔
جب ایک لڑکی کی پرورش اسی سوچ، انہی خطوط اور اسی انسانی نفسیات کے تحت کی جاتی ہے، اور افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بچیاں خود بہت سارے مسائل کا شکار بھی ہوتی ہیں، تو جب ان کی شادی کی جاتی ہے، وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اب وہ اپنے ’’مجازی خدا‘‘ کے پاس جا رہی ہیں، جو اسے سب کچھ دے گا۔
وہی مجازی خدا اسے تحفظ دے گا، ذہنی تحفظ دے گا، معاشرتی تحفظ دے گا، معاشی تحفظ دے گا، جذباتی تحفظ دے گا۔
لیکن جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو یہ اس کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ثابت ہوتی ہے۔
کیوں؟
کیونکہ اس کا ’’مجازی خدا‘‘ نہ اسے معاشی تحفظ دیتا ہے، نہ معاشرتی تحفظ، نہ سماجی تحفظ اور نہ ہی جذباتی تحفظ۔
اس کی چند چھوٹی چھوٹی مثالیں سماجی تحفظ کے حوالے سے دیکھیں۔
اگر کوئی شخص اس کی بیوی کو بار بار فون کر کے تنگ کر رہا ہو تو وہ اس شخص سے یہ نہیں پوچھتا کہ ’’تم میری بیوی کے نمبر پر بار بار کال کیوں کر رہے ہو؟‘‘ بلکہ وہ گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ فساد کھڑا کر دیتا ہے کہ ’’یہ تمہیں بار بار کال کیوں کرتا ہے؟‘‘
حالانکہ بیوی سے یہ سوال کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ اسے چاہیے کہ وہ اس غلط کال کرنے والے سے پوچھے کہ ’’تم اس نمبر پر بار بار کال کیوں کر رہے ہو؟‘‘ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی چھوٹے سے بچے کو کوئی مارے اور آپ اس بچے سے پوچھنے لگیں کہ ’’یہ تمہیں کیوں مارتا ہے؟‘‘ یہ تو ایک انتہائی مضحکہ خیز صورتِ حال ہے۔
اگر کہیں کوئی شخص کسی آدمی کی بیوی کا پیچھا کر رہا ہو تو اس شخص کا گریبان پکڑنے، اس سے پوچھنے یا اسے روکنے کے بجائے اپنی بیوی سے کہا جاتا ہے:
’’یہ تمہارا پیچھا کیوں کر رہا تھا؟‘‘
یہ وہ تحفظ ہے جو وہ مجازی خدا اپنی بیوی کو دیتا ہے۔
اسی طرح سماجی اور معاشرتی تحفظ کو دیکھ لیجیے۔
وہ لڑکی جو یہ سمجھ رہی تھی کہ ’’مجازی خدا‘‘ اب اس معاشرے میں اسے معاشرتی تحفظ بھی دے گا اور سماجی تحفظ بھی، لیکن سب سے پہلے اپنی بیوی کے کردار پر انگلی اٹھانے والا بھی وہی شوہر ہوتا ہے۔
اپنی بیوی کا ہر جگہ مذاق اڑانے والا بھی وہی شوہر ہوتا ہے۔
اپنی بیوی کو ذلیل و خوار کرنے والا بھی وہی شوہر ہوتا ہے۔
تو وہ عورت، جسے ساری زندگی بچپن سے جوانی تک ایک خاص سوچ کے ساتھ پروان چڑھایا گیا تھا، شادی کے بعد ایک بالکل مختلف، بلکہ بالکل متضاد صورتِ حال میں پھنس جاتی ہے۔
اور یہ ایسا جھٹکا ہوتا ہے جو پوری کی پوری نسل کو تباہ کر دیتا ہے، پوری کی پوری نسل کو برباد کر دیتا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ اس عورت نے ایک نسل کو پیدا کرنا تھا، پھر اس نسل کی تربیت کرنی تھی، اور پھر اسے پروان چڑھانا تھا۔
لیکن یہ جھٹکا خود اس کی اپنی ذات کو بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔
اور یوں ایک عورت کے ساتھ پوری نسلِ انسانی بکھر جاتی ہے۔
پھر یہ سلسلہ در سلسلہ، در سلسلہ چلتا رہتا ہے، اور نسل در نسل یہی چکر جاری رہتا ہے۔
#apkiizzatdrama #muammadrama #socialcrimes #rightandduty #stereotypes #islam #deen #psychology #society
![]()

