*شباب کی باتیں*
*فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب مشتاق شباب) ایک ہی موضوع پر لکھی گئی دو کتابیں اس وقت تبصرے کے لیے مطالعے سے گزر کر اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھا جائے، دونوں کتابیں سفرنامہ کے زمرے میں آتی ہیں۔ تاہم دونوں میں بنیادی فرق بہت نمایاں ہے۔ یعنی موضوع کی یکسانیت تو سفر حج ہے، لیکن بنیادی اور نمایاں فرق یہ ہے کہ محترمہ نصرت نسیم صاحبہ کی کتاب “حج معنی” جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، حج کے فکری اور معنوی پہلوؤں کو زیادہ اجاگر کرتی ہے، جس کے لیے محترمہ نصرت نسیم صاحبہ نے اگرچہ سفر حج ضرور کیا تاہم اس مقدس سفر کے لیے فکری اثاثہ انہوں نے ایران کے ایک نامور دانشور اور فلسفی ڈاکٹر علی شریعتی سے مستعار لے کر، حج کے مذہبی اور فکری معنی سے سوچ کی نئی راہیں تراش کر اسے ایک نئے زاویے سے ہمکنار کیا، یعنی بقول علامہ اقبال
*اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے*
*برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے*
*نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لئے*
*طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے*
ڈاکٹر علی شریعتی سے ہمارا تعارف مرحوم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے بطور ایک سوشل ریفارمر اور فکری فلسفی اپنی کتاب “ڈاکٹر شریعتی، اقبال شریعتی” کے ذریعے بہت پہلے کروایا تھا، تاہم ڈاکٹر علی شریعتی نے اسلام کے اس رکن اعظم یعنی سفر حج کو صرف اس کے ظاہری معنوں اور عملی مظاہر کے حوالے سے نہیں دیکھا بلکہ سفر حج کے اصل فکری مفہوم اور بنیادی اسلامی فلسفے کے تناظر میں جس طرح جانچا، پرکھا اور اس کی تشریح ایک بالکل ہی نئے انداز میں کی، اسی طرح محترمہ نصرت نسیم نے ڈاکٹر شریعتی کے فکری دانش سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اس مقدس سفر کی نئی جہتیں نہ صرف دریافت کیں بلکہ ان کو آسان فہم زبان میں قارئین کے لیے ایک کتابی صورت میں بھی پیش کر دیا۔
کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے شجاعت علی راہی نے (علی شریعتی کی کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے) نصرت نسیم کی اس کاوش کو سراہا اور لکھا ہے کہ ان (نصرت نسیم) کی تمنا ہے کہ حج محض مناسک کی ادائیگی تک محدود نہ رہے، بلکہ اس عظیم فریضے کو، اس کی تمام تر معنویت کو سمجھتے ہوئے، دل کی گہرائیوں سے ادا کیا جائے۔ اسی طرح انٹاریو، کینیڈا میں مقیم ایک بے بدل مبصر، محقق اور ادبی نقاد جناب صالح اچھا نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے “کتاب کی سطر سطر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حج محض مکہ اور مدینہ کا جغرافیائی سفر نہیں بلکہ یہ انسان کا “اپنی مٹی کی غلاظت اور منیت” سے نکل کر روح خدا اور ابدیت کی طرف ہجرت کا نام ہے۔
محترمہ نصرت نسیم نے سفر حج کے مناسک یعنی احرام، طواف کعبہ، سعی اور وقوف عرفات کی ظاہری صورت پر روشنی نہیں ڈالی بلکہ اس کے اندر پوشیدہ فطری اور مذہبی مقاصد کو بھی واضح کیا ہے، جس سے یہ تحریر ایک نئی سوچ سے متصف ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
*فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ*
*موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں*
اسی موضوع پر دوسری کتاب سید مشتاق حسین شاہ بخاری کی تحریر کردہ *”خواب گاہ شہنشاہ معظم صلی اللہ علیہ وسلم”* ہے، جس کے نام ہی سے کتاب کی اصل پہچان ہو جاتی ہے، تاہم متذکرہ اول کتاب “حج معانی” کے برعکس، جس میں حج کے فطری فلسفے پر زیادہ بحث کی گئی ہے، سید مشتاق حسین شاہ بخاری کی کتاب میں جہاں حج کے اسفار کا مفصل بیان موجود ہے، وہاں مدینہ کی تاریخ جو صدیوں پر محیط ہے اور اسلام کے آنے سے پہلے اس شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حالات گزرے، ان کی تفصیل بھی کتاب کا حصہ ہے۔ اس تاریخ کے دوہرانے کا مقصد کتاب کے قارئین کو نہ صرف مناسک حج کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اسفار اور وہاں حج و عمرہ کے دوران اسلامی شعائر پر پوری طرح عمل کرنے کی تفصیل سے باخبر رکھنا ہے بلکہ اس عظیم روحانی سفر کے اصل مقاصد اور دیگر احکامات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اگر زائرین کو ان مقامات مقدسہ کی تاریخی پس منظر، اور صدیوں پر محیط تاریخ کے چیدہ چیدہ واقعات سے بھی باخبر رکھا جائے تو اس سے ان کو عبادات کی اصل روح کو سمجھنے میں مدد بھی مل سکتی ہے۔ اور اس مقصد میں یقینا سید مشتاق حسین شاہ بخاری صاحب کامیاب ہوئے ہیں۔
پروفیسر خالد سہیل ملک نے کتاب پر اپنے تبصرے میں لکھا ہے “سید مشتاق حسین شاہ نے اس مقدس شہر کے ماضی کو صرف محفوظ نہیں کیا بلکہ اس میں اپنا عشق بھی درج کر دیا ہے. یہی عشق اس کتاب کو عام سفر ناموں سے ممتاز بناتا ہے۔”
پروفیسر ناصر علی سید کتاب کے بیک فلیپ کے لیے لکھے گئے اپنے خوبصورت الفاظ میں یوں رقم طراز ہیں۔
“یہ ایک محبت اور عقیدت بھری سفر کہانی ہے جس میں ایک لمحے کو بھی پڑھنے والا لکھنے والے سے انگلی نہیں چھڑا سکتا۔ انہوں نے حرمین شریفین کی تبدیلیوں کے حوالے سے اعداد و شمار بھی مہیا کر دیے ہیں جس سے یہ تفصیلات کئی حوالوں سے ایک اہم دستاویز کا روپ دھار لیتیے ہیں۔ شاہ جی نے اس سفر کہانی کو آنے والے دنوں کے لیے اپنے عہد کی ایک معتبر اور مستند دستاویز کا روپ دے دیا ہے، یہ دستاویز زائرین رہ شوق کو توانائی اور روشنی فراہم کرتی رہے گی۔
*جب تلک باقی ہے تو دنیا میں باقی ہم بھی ہیں*
*صبح ہے تو اس چمن میں گوہر شبنم بھی ہیں*
پروفیسر ڈاکٹر فہمیدہ تبسم نے کتاب کو اپنے گاؤں اور بچپن کی یادوں سے جوڑتے ہوئے کیا خوب لکھا ہے کہ
*اس نگری نوں کوہ طور آکھاں*
*تیری یاد دا جس وچ پھیرا اے*
*او دل وی عرش معلیٰ اے*
*جس وچ سجناں دا ڈیرا اے*
![]()

