اکیسویں صدی کے صوفی
خواجہ شمس الدین عظیمی رحمتہ اللہ علیہ
تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ : وراثت۔۔تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی) خواتین کا احترام اور حقوق : مشرق ہو یا مغرب، دنیا کے ہر محلے میں خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ روحانی علوم کی تحصیل اور صوفیانہ معاملات میں بھی خواتین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ طبقہ نسواں کے لیے بہت احترام کا اظہار کرتے ہوئے حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ نے والدین کو تلقین کی کہ لڑکیوں کو تعلیم دلائی جائے۔ خواتین کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ وراثت سمیت خواتین کے سب حقوق کی پاس داری کی جائے۔
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒنے صوفیانہ تعلیمات کو سمجھنے اور روحانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے۔ صنف نازک کا یہ مطلب سمجھا جاتا ہے کہ عورت وہ کام نہیں کر سکتی جو کام مرد کر لیتا ہے۔ عورت کو ناقص العقل بھی کہا گیا ہے۔ سو سال پہلے علم و فن میں بھی عورت کا شمار کم تھا۔ روحانیت میں بھی عورت کو وہ درجہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق ہے۔ قرآن پاک میں تفکر ہمارے ی حقائق منکشف کرتا ہے کہ مرد اور عورتیں دونوں تخلیقی راز و نیاز ہیں۔ دونوں میں صلاحیتیں اوپر ہے موجود ہیں۔“ [ ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین ]
اولاد کی تربیت :
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒنے والدین خصوصآ ماؤں کو تلقین کی کہ اولاد کی اچھی تربیت اور بہتر تعلیم کے لیے مخود کو تیار کیجیے۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒنے اپنی تحریروں میں کئی مرتبہ اپنی دادی اماں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ
والدین اور بزرگوں کی تربیت انسان کے ذہن پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔
آپ نے تلقین کی کہ بچوں کی اچھی تعلیم محض بہتر ملازمت کے لیے نہ ہو۔ آپ نے کئی مرتبہ فرمایا کہ والدین کو اپنی نئی نسل میں اللہ اور رسول کے لیے محبت کے جذبات بیدار کرنے ، ان میں اچھے اخلاق پروان چڑھانے اور احساس ذمہ داری بڑھانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒکی تعلیمات کے زیر اثر سید شیمیہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ ماں باپ کی طرف سے بچے کی اتیمی تربیت کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بیٹے اور بیٹیاں اچھے امتی اور بہتر انسان بنیں۔ بچے کا شعور والدین کی گود، گھر کی چار دیواری اور ماحول سے بنتا ہے۔ ماحول میں اگر کثافت، تعفن، گھٹن، بے سکونی اور اضطراب ہے تو بچہ بھی ذہنی طور پر سکون سے نا آشنا ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس اگر گھر میں سکون ہے ، آرام ہے، والدین کی آواز میں مٹھاس ہے، لہجے میں پیار ہے اور دماغی اعتبار سے والدین پر سکون ہیں تو بچہ بالکل غیر اختیاری طور پر پر سکون کردار کا حامل ہوتا ہے۔ [ پیراسائیکلوجی ]
فطرت سے ہم آہنگی
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے ہمیں یہ اہم کتہ بھی سمجھایا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان خواہ جتنی ترقی کرلے اس کی بنیادی ضروریات ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ آپ نے سمجھایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان ضروریات کو پورا کرنے کے انداز اور ذرائع بدلتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھوک ختم کرنے کے لیے آدمی کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔
غذائی اجناس پہلے کھیتوں میں مویشیوں کی مدد سے ہل چلا کر حاصل کی جاتی تھیں۔ اب ذراعت مشینوں کی مدد سے ہورہی ہے۔ پہلے انسان مٹی کے ایک یا دو منزلہ سادہ مکانوں میں رہتے تھے۔ اب رہائش کے لیے کثیر المنزلہ پر آسائش عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ اس ترقی کے باوجود ہر آدمی کی بنیادی ضرورت تو دو وقت کی روٹی اور چند فیٹ کا بستر ہی ہے۔ سائنس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒفرمایا کرتے تھے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھر پور استفادہ کرنا چاہیے، تاہم اپنے ذاتی مفادات کی خاطر انسان کو فطرت سے تصادم کی راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
اللہ تعالی ٰنے پہلے سے انسان کی خدمت گزاری کے لئے دنیا پیدا کر دی ہے۔ دنیا ہماری خادم ہے، ہم دنیا کے خادم بن گئے ہیں۔ معاملہ بالکل الٹ گیا ہے یعنی ہماری زندگی فطرت کے خلاف ہو گئی ہے۔ اور جب فطرت کے خلاف زندہ رہنا چاہیں گے تو کبھی آپ کو سکون نہیں ملے گا۔ ایک روحانی آدمی اور ایک غیر روحانی آدمی میں یہی فرق ہے۔ غیر روحانی آدمی دانسته، نادانستہ یہ سمجھتا ہے کہ میں دنیا کے لئے پیدا کیا گیا ہوں۔ جب ہم فطرت کے اصولوں کے خلاف بات کریں گے ، زندگی گزاریں گے تو ہمیں کسی سمت سے سکون میسر نہیں آسکتا۔ “صدائے جرس ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ]
سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات انسان کو اللہ کی بندگی ، خالق کی مشیت سے آگاہی حضرت محمد رسول الله ملی با اینیم کی اتباع، ارض و سماء میں، انفس و آفاق میں اللہ کی نشانیوں کی تلاش، پیغمبرانہ طرز فکر سے وابستگی، تزکیہ نفس، مرتبہ احسان ، اخلاقیات کے سدھار، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائی اور دیگر ثبت کاموں کی ترغیب دیتی ہیں۔
ان مقاصد کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں اولیاء اللہ صدیوں سے تربیت و تعلیم کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔ یہ نظام نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ اس روحانی وراثت کو دور حاضر میں سید شیمیہ نے جدید دور کے لیے قابل فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کے امام حضرت محمد عظیم برخیاء اور آپ کے جانشین حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کے افکار و تعلیمات کی روشنی سب انسانوں کے لیے ہے۔ اس روشنی سے خود کو منور کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہے ۔سلسلہ عظیمیہ کے اراکین کی ذمہ داری ہے۔
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے اپنی روحانی اولاد کو تعلیمات کے ساتھ ساتھ درست سمت بھی بتائی ہے۔
سلسلہ عظیمیہ کے اراکین کو حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒکے قائم کردہ نظم کی پیروی کرتے ہوئے مرکز سے وابستہ رہ کر اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔ مرکز سے وابستہ رہ کر حصول علم، فروغ علم ، تزکیہ نفس، مرتبہ احسان، خدمت خلق کی کوششیں اپنی اصلاح و ترقی کے ساتھ ساتھ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒکے روحانی ورثہ کی حفاظت کا ذریعہ بنیں گی۔
بشکریہ ماہنا مہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026
![]()

