Daily Roshni News

روحی بانو — ایک ایسی زندگی جس میں تالیوں کے بعد صرف خاموشی رہ گئی

روحی بانو — ایک ایسی زندگی جس میں تالیوں کے بعد صرف خاموشی رہ گئی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی کبھی کسی انسان کی زندگی کو سمجھنے کے لیے اس کی کامیابیوں کی فہرست نہیں، بلکہ اس کے آخری چند برس دیکھنے پڑتے ہیں۔

روحی بانو بھی ایسی ہی ایک کہانی تھیں۔

ایک زمانے میں پاکستان کے گھروں میں شام کا مطلب ٹیلی ویژن تھا، اور ٹیلی ویژن پر روحی بانو کا چہرہ آتا تو لوگ خاموش ہو کر دیکھنے لگتے تھے۔

وہ صرف ایک خوبصورت اداکارہ نہیں تھیں۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی، آواز میں ٹھہراؤ اور اداکاری میں ایک ایسی گہرائی تھی جس نے انہیں 1970ء اور 1980ء کی دہائی کے بڑے فنکاروں میں شامل کر دیا۔

وہ پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات کی تعلیم حاصل کر چکی تھیں۔ پھر اداکاری کی دنیا میں آئیں اور **کرن کہانی، زرد گلاب، دروازہ، قلعہ کہانی، حیرت کدہ** اور کئی دوسرے ڈراموں میں ایسے کردار ادا کیے جو آج بھی پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ کا حصہ ہیں۔

1981ء میں حکومت پاکستان نے انہیں **صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی** سے نوازا۔

یعنی ایک طرف شہرت، عزت، دولت اور لاکھوں لوگوں کی محبت تھی۔

لیکن دوسری طرف ایک عورت کی ذاتی زندگی تھی۔

ان کی دو شادیاں ناکام ہوئیں۔

پھر ان کا اکلوتا بیٹا علی ان سے چھین لیا گیا۔

2005ء میں علی کو قتل کر دیا گیا۔

یہ وہ مقام تھا جہاں شاید روحی بانو کی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔

**بیٹے کی موت سے پہلے کی روحی بانو… اور اس کے بعد کی روحی بانو۔**

بیٹے کی موت صرف ایک رشتے کا خاتمہ نہیں ہوتی۔

ماں کے ذہن میں بچے کے ساتھ جڑی ہوئی پوری ایک دنیا ہوتی ہے۔

اس کے بچپن کی تصویریں، اس کی آواز، اس کے مستقبل کے خواب، اس کی شادی کے تصور، اس کے بچوں کے خواب…

ایک موت ان سب کو ایک ہی لمحے میں ختم کر دیتی ہے۔

روحی بانو کے بارے میں بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ بیٹے کی موت کے بعد ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی اور انہیں **schizophrenia** کی تشخیص ہوئی۔ وہ لاہور کے Fountain House میں زیرِ علاج رہیں۔ ([Radio Pakistan][2])

لیکن ان کی کہانی یہاں بھی سیدھی نہیں تھی۔

2013ء میں ایک صحافی نے انہیں لاہور کے ایک انتہائی خستہ حال گھر میں تقریباً تنہا زندگی گزارتے ہوئے دیکھا۔ کبھی جس عورت کے گرد فلم اور ٹیلی ویژن کی دنیا گھومتی تھی، وہ اب ایک ایسے گھر میں رہ رہی تھیں جہاں بنیادی سہولتیں بھی مسئلہ بن چکی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق وہ ذہنی طور پر بھی بہت پریشان تھیں، گفتگو میں دشواری محسوس ہوتی تھی اور ان کی دیکھ بھال کے لیے کوئی مستقل شخص موجود نہیں تھا۔ ([The Express Tribune][3])

پھر کہانی میں ایک اور پیچیدگی داخل ہوئی:

**جائیداد۔**

2015ء میں ایک مبینہ حملے کے بعد جائیداد کے تنازعے کی خبریں سامنے آئیں۔ روحی بانو نے اس وقت ایک مختلف مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی نے قتل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ گاڑی کا شیشہ توڑتے ہوئے انہیں خود چوٹ لگی تھی اور ان کے بعض رشتہ داروں نے معاملہ غلط انداز میں پیش کیا۔

بعد میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خاندان کے بعض افراد کراچی اور لاہور میں موجود ان کی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کی دستاویزات بھی غائب کی گئی ہیں۔ ([The Express Tribune][4])

لیکن یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔

**یہ روحی بانو کا مؤقف تھا، ثابت شدہ عدالتی حقیقت نہیں۔**

ان کی بہن روبینہ بیگم نے ان الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان روحی بانو کی حفاظت اور علاج کے لیے انہیں Fountain House میں رکھ رہا تھا، نہ کہ ان کی جائیداد حاصل کرنے کے لیے۔ ([The Express Tribune][1])

اور یہی وہ جگہ ہے جہاں روحی بانو کی کہانی نفسیات کے طالب علم کے لیے بہت پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

ایک طرف ایک ذہنی بیماری سے لڑتی ہوئی عورت تھی۔

دوسری طرف اس کا یہ احساس تھا کہ لوگ اس کی جائیداد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اور تیسری طرف خاندان کا مؤقف تھا کہ وہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔

ہم آج، اتنے برس بعد، ان تینوں میں سے کسی ایک فریق کو مکمل سچ نہیں قرار دے سکتے۔

لیکن ایک چیز ضرور سمجھ سکتے ہیں:

**ذہنی بیماری میں مبتلا انسان کی بات کو صرف اس لیے جھوٹ نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہ بیمار ہے۔**

اور دوسری طرف، بیماری کے دوران ہر خیال کو حقیقت بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہی تو psychiatry کی مشکل ہے۔

مریض کی عزتِ نفس برقرار رکھتے ہوئے اس کے تجربے کو سننا بھی ضروری ہے، اور حقیقت اور بیماری کے ممکنہ اثرات میں فرق کرنا بھی۔

2016ء میں روحی بانو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زبردستی Fountain House میں رکھا گیا اور وہ اپنی جائیداد کے معاملے میں خوف زدہ ہیں۔ Fountain House کے حکام نے ان کے علاج اور نگرانی کو ضروری قرار دیا، جبکہ ان کی بہن نے پھر ان کے الزامات کی تردید کی۔ ([The Express Tribune][1])

یہ منظر تصور کیجیے۔

ایک ایسی عورت جو کبھی لاکھوں لوگوں کے سامنے اداکاری کرتی تھی، اب صحافیوں کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے ہی گھر، اپنے ہی خاندان اور اپنی آزادی کے بارے میں فریاد کر رہی ہے۔

2015ء میں Fountain House میں ان کی سالگرہ بھی انتہائی تنہائی میں گزری۔ رپورٹ کے مطابق وہ اپنے پرانے دوستوں اور خاندان کے افراد کا انتظار کرتی رہیں، مگر کوئی نہ آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مرحوم بیٹے کو بہت یاد کرتی ہیں۔ ([The Express Tribune][4])

شاید یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ تھا۔

**شہرت ختم ہونا اتنا بڑا المیہ نہیں جتنا انسان کا تنہا ہو جانا۔**

روحی بانو نے کبھی ہزاروں لوگوں کے سامنے کردار ادا کیے تھے۔

لیکن زندگی کے آخری برسوں میں شاید انہیں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ان کے پاس بیٹھ کر صرف یہ پوچھتا:

**”روحی، آج آپ کیسی ہیں؟”**

2018ء میں ان کے بارے میں پھر خبریں آئیں کہ وہ Fountain House سے نکل کر اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہی ہیں، اگرچہ ان کے علاج اور صحت کے بارے میں مختلف رپورٹس سامنے آتی رہیں۔ ([The Express Tribune][5])

آخرکار جنوری 2019ء میں وہ ترکی کے شہر استنبول کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ ان کے آخری دنوں میں kidney failure سمیت کئی جسمانی مسائل بھی رپورٹ ہوئے۔ ([The Express Tribune][6])

وہ 67 برس کی تھیں۔

ان کے مرنے کے بعد بہت لوگوں نے ان کی اداکاری کو یاد کیا۔

لیکن شاید ہمیں ان کی زندگی سے اداکاری سے زیادہ کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

**ذہنی بیماری ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں آتی۔**

کبھی وہ ایک خاموش کمرے میں بیٹھی ہوئی عورت کی شکل میں ہوتی ہے۔

کبھی ایک ایسے شخص میں جسے یقین ہوتا ہے کہ دنیا اس کے خلاف ہو گئی ہے۔

کبھی ایک ایسے انسان میں جو اپنے کسی عزیز کو کھونے کے بعد خود بھی اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔

اور کبھی وہ ہمارے بالکل قریب ہوتی ہے، مگر ہم اسے صرف یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں:

**”اس کا دماغ خراب ہے۔”**

روحی بانو کا سب سے بڑا المیہ شاید schizophrenia نہیں تھا۔

شاید اس سے پہلے ہی ان کی زندگی میں **تنہائی، ناکام رشتے، بیٹے کا قتل، صدمہ، عدم تحفظ اور سماجی تنہائی** ایک دوسرے پر جمع ہو چکے تھے۔

اور شاید یہی سوال ہم سب کے لیے ہے:

**کیا ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو صرف اس وقت یاد کرتے ہیں جب وہ ہمیں کچھ دے رہے ہوں؟**

جب وہ خوبصورت ہوں، کامیاب ہوں، مشہور ہوں، کمائیں، ہنسائیں؟

یا اس وقت بھی جب وہ ٹوٹ رہے ہوں؟

روحی بانو نے اپنی زندگی میں بے شمار کردار ادا کیے۔

لیکن آخر میں وہ ہمیں ایک آخری کردار دے گئیں—

**ایک ایسے انسان کا کردار جسے شہرت سے زیادہ انسانوں کی ضرورت تھی۔**

اور شاید ذہنی صحت کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:

**کسی انسان کو اس کی بیماری سے پہلے انسان سمجھیں۔**

— **ڈاکٹر ناصر جاوید**

Loading