ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )فرض کریں ایک چاول کا دانہ ہے۔ اب فرض کریں یہ دانہ ایک سیکنڈ کے کھرب کھرب ویں حصے میں پھیل کر پورے پاکستان جتنا بڑا ہو جائے۔ یہ سائنس فکشن نہیں۔ کائنات کی زندگی کے پہلے ہی لمحوں میں کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
پچھلی پوسٹوں میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ بگ بینگ کے بعد کائنات پھیلنی شروع ہوئی۔ مگر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔ کیا یہ پھیلاؤ ہمیشہ ایک ہی رفتار سے چلتا رہا؟ یا شروع میں کچھ اور بھی ہوا؟
جواب حیران کن ہے۔
آپ کو یاد ہو گا: کوئی بھی چیز روشنی سے تیز سفر نہیں کر سکتی۔ آئن سٹائن کا یہی اصول ہے، اور یہ آج تک درست ثابت ہوا ہے۔ مگر کائنات کے پہلے ہی لمحے میں کچھ ایسا ہوا جو اس اصول کو چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔
سوچیں عید یا شادی کا ایک غبارہ۔ اُس پر دو نقطے بنا دیں۔ غبارہ پھلائیں تو دونوں نقطے ایک دوسرے سے دور ہوتے جائیں گے۔ نہ نقطہ اپنی جگہ سے ہلا، نہ غبارے کی سطح پر چلا۔ بس غبارہ خود بڑا ہو گیا۔
کائنات کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ خلا خود پھیل رہا تھا۔ جو چیزیں اُس خلا میں تھیں، وہ بس ساتھ ساتھ دور ہوتی گئیں۔ آئن سٹائن کا اصول اُس چیز پر لاگو ہوتا ہے جو خلا کے اندر سفر کرے۔ یہاں کوئی چیز سفر نہیں کر رہی تھی۔ خلا خود پھیل رہا تھا۔
اِس مختصر مگر شدید پھیلاؤ کو انفلیشن (پھیلاؤ کی اچانک چھلانگ) کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ 1980 میں سائنسدان ایلن گتھ نے پیش کیا۔ کائنات کے وجود میں آنے کے تقریباً ایک سیکنڈ کے کھرب کھرب ویں حصے میں یہ چھلانگ مکمل ہو چکی تھی۔
سیدھی بات یہ ہے کہ: کائنات کا پہلا سیکنڈ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا، اور اُس کا سائز پہلے ہی ناقابلِ یقین حد تک بڑھ چکا تھا۔
اِس چھلانگ کا ایک اور نتیجہ ہے۔ اگر پوری کائنات ایک ہی مختصر لمحے میں، ایک ہی جگہ سے، اِس رفتار سے پھیلی، تو اُس کے ہر کونے کی شروعات ایک جیسی حالت میں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم آسمان کے کسی بھی رخ دیکھیں، ابتدائی کائنات سے آنے والی روشنی تقریباً یکساں نظر آتی ہے۔ یہ پہیلی دہائیوں تک سائنسدانوں کو الجھائے رکھتی تھی، اور یہی چھلانگ اُسے حل کرتی نظر آتی ہے۔
یاد رہے، یہ نظریہ ابھی مکمل طور پر ثابت نہیں۔ شواہد اِس کی طرف مضبوطی سے اشارہ کرتے ہیں، خاص طور پر کائنات کی قدیم ترین روشنی میں ملنے والی یکسانیت۔ مگر یہ سوال ابھی کھلا ہے کہ یہ چھلانگ اصل میں کیسے شروع ہوئی۔
مجھے یہ بات آج تک حیران کرتی ہے کہ کائنات کی پوری بناوٹ کا فیصلہ ایک ایسے لمحے میں ہو گیا جو ہماری گھڑی کی سوئی کی حرکت سے بھی ناپا نہیں جا سکتا۔ اگلی بار جب لاہور یا کراچی کی چھت پر بیٹھ کر آسمان کو دیکھیں، تو یاد رکھیں: جو یکساں تارے بھری کائنات آپ دیکھ رہے ہیں، اُس کی بنیاد اُس ایک ناقابلِ تصور لمحے میں رکھی جا چکی تھی۔
🔭 ماخذ: Alan Guth، 1980 — Inflationary Universe Theory کی اصل تجویز؛ Planck Satellite (ESA)، 2013–2018 — Cosmic Microwave Background کی یکسانیت کی پیمائش
اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔
ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
![]()

