ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ وراثت۔۔۔ تحریر۔۔۔ خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ)کتنی عجیب بات ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ساری زندگی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیئے سامانِ دنیا اپنے گرد اکٹھا کیا ، چند روز اُسے سینے سے لگانے کے بعد دوسرے لوگوں کے لیے وراثت میں چھوڑ گئے۔ ان کے مرنے کے بعد لوگوں نے ان کے نام بھی فراموش کر دئیے۔
دوسری طرف وہ پاکیزہ نفس لوگ ہیں جن کے ذکر پر آج بھی پیشانیاں عقیدت و محبّت کے جذبات سے جھک جاتی ہیں۔ جب تک یہ لوگ عوام میں موجود تھے، پریشان قلوب اور سکون کے طلب گار اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے اور جب پسِ پردہ چلے گئے تب بھی ان کا تشخص لوگوں کے سامنے موجود رہا۔ اس لیئے کہ انہوں نے ذاتی اغراض و مقاصد اور خود پسندی کو بالائے طاق رکھ دیا ، مایآجال ان کو اپنی گرفت میں نہیں لے سکا ۔ان سعید رُوحوں نے یہ راز جان لیا تھا کہ خود سے گزرے بغیر خدا نہیں مل سکتا۔
کتاب اواز دوست
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی رح
![]()