
۔۔۔۔۔ نظام چاہے امیر کو ۔۔۔۔۔
کتاب : گفتگو ۔ 9
حضرت واصف علی واصف رح
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔۔۔۔۔۔ نظام چاہے امیر کو ۔۔۔۔۔کتاب : گفتگو ۔ 9 ۔۔۔حضرت واصف علی واصف رح) خسرو ؒ چاہے فارسی میں لکھے ، چاہے اردو میں لکھے ، چاہے پنجابی میں لکھے ، چاہے ہندی میں لکھے ، خسرو ؒ فقیر ہے اور وہ فقیری میں داخل کر دیا گیا حالانکہ اس کے پاس باقاعدہ سلسلہ نظامیہ نہیں ہے بلکہ وہ حضرت نصیرالدین چراغ دہلویؒ پاس ہے ۔
خسرو ؒ کو خلافت نہیں ملی تھی کیونکہ خسرو ؒ مہم پر گئے ہوئے تھے اور پیچھے سے حضرت محبوب الہٰی ؒ کا وقت پورا ہو گیا تو انہوں نے خسروؒ کو بلایا ، یہ رات کا وقت تھا ۔ باہر خواجہ نصیر الدین چراغؒ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب انہوں نے کئی مرتبہ پوچھا تو وہی جواب ملا ۔ تب انہوں نے کہا نظام چاہے امیر کو اور اللّٰہ چاہے نصیر کو تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ تو حضرت نظام الدین اولیاء رح نے خلافت نصیر الدین چراغ دہلویؒ کو دے دی اور پھر فرمانے لگے کہ میں ایک بات کا اختیار رکھتا ہوں کہ میرا اور امیر خسرو ؒ کا عرس ایک ہی جگہ پر ہوا کرے گا ۔
اگر کبھی آپ وہاں جائیں تو دیکھیں گے کہ اِدھر امیر خسروؒ کا مزار شریف ہے اور اُدھر محبوبِ الہٰی کا مزار مبارک ہے اور عرس درمیان میں ہوتا ہے بلکہ امیر خسرو ؒ کا عرس ان کے آستانے پر نہیں ہوتا وہ بھی حضرت محبوب الہٰی رح کے مزار مبارک پر ہوتا ہے ۔ ودیعت والی خلافت بھی وہ خسرو ؒ کو دینا چاہتے تھے مگر انہوں نے فرمایا کہ خلافت اللّٰہ کریم کی طرف سے تھی اور ادھر کا حکم تھا ، سو ہم نے دے دی پھر فرمایا کہ میں چاہوں امیر کو اور اللّٰہ چاہے نصیر کو ، تو میں کیا کر سکتا ہوں ، اور پھر خواجہ نصیر الدینؒ کو خلافت عطا فرما دی ۔
پھر جب خواجہ نصیر الدین چراغ ؒ کا وصال ہو گیا تو فقراء سناتے ہیں کہ ادھر دکن سے ایک آدمی آیا ، انہوں نے آ کر دیکھا کہ یہاں تو ساری خلافتیں بانٹ دی گئی ہیں تو جس چار پائی پر میت اٹھائی گئی اس کی پائنتی لے کر خود ہی کہنے لگے کہ یہ میری خلافت ہے ۔ تو آپ کو پتہ ہے کہ وہ آدمی کون تھا؟ وہ تھے خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ ۔ اور اس پائنتی کے فیض سے انہوں سارا دکن مسلمان کیا ۔
کہنے کا مدعا یہ ہے کہ خلوص جو ہے یہ کسی خلافت کا محتاج نہیں ہے ۔ تو خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ کو ان کے خلوص کے ساتھ فیض میں داخل کر لیا گیا اور پھر اللّٰہ کریم نے ان سے بڑا کام لیا ۔ امیر خسرو ؒ سے بھی بڑا کام ہوا، میرا خیال ہے کہ محبت کا کام تو ان کے نام سے چلتا ہے ۔ تو آج بھی ”خسرو ؒ نظام کے بل بل جائیے “ پر صوفیاء اور درویش لوگ رقص کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ خسرو ؒ کا نام آئے تو کہتے ہیں کہ واہ جی واہ کیا نام ہے! وہ خسرو ؒ کیا کہتے ہیں کہ
زِ قید دو جہاں آزاد گشتم
اگر تو ہم نشینِ بندہ باشی
فرماتے ہیں کہ دو جہاں کی قید ختم ہو جاتی ہے جب آپ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں ۔ تو یہ پکی بات ہے کہ امیر خسرو ؒ محبت ہی محبت ہیں اور ان کے پاس بات ہی بات ہے چاہے بات مختصر ہو اور لمبی ہو ۔
وہ اگر بات ”نمی دانم“ سے شروع کریں تو بات کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتے ہیں ۔ تو یہ سارے فیض ہیں اور یہ سارے فیض آنے والے زمانے کے لیے ہیں ۔ فیض جب بھی ملا اللّٰہ کی طرف سے ملا ۔ جب بھی کوئی دریا آیا کناروں کو سیراب کرنے کے لیے آیا اور لوگوں کو ڈرانے کے لیے نہیں آیا کہ میں بہت بڑا دریا ہوں ۔
۔۔۔ حضرت واصف علی واصف رح
—————————————————-
( کتاب : گفتگو -9)
🌺🌸
Makhdoom Muhammad Hussain
![]()





