**ایک نوجوان خاتون سائنس دان نے اندھیرے کمرے میں ایک ایسی تصویر بنائی جس نے انسانی زندگی کے بنیادی راز کو سمجھنے میں مدد دی۔ مگر جب دنیا نے اس دریافت پر نوبیل انعام دیا، وہ خاتون دنیا میں موجود ہی نہیں تھی۔**
یہ کہانی ہے **روزالنڈ فرینکلن (Rosalind Franklin)** کی۔
وہ **1920** میں لندن میں ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔
بچپن ہی سے ریاضی اور سائنس میں غیر معمولی دلچسپی تھی۔ اس دور میں جب خواتین کے لیے سائنس میں آگے بڑھنا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تھا، روزالنڈ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ انہیں سائنس دان بننا ہے۔
وہ **کیمبرج یونیورسٹی** پہنچیں اور natural sciences کی تعلیم حاصل کی۔
بعد میں انہوں نے کوئلے کی microscopic structure اور physical chemistry پر تحقیق کرتے ہوئے پی ایچ ڈی مکمل کی۔
لیکن انہیں ابھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی زندگی کا سب سے اہم کام ایک ایسے molecule پر ہوگا جو تقریباً ہر انسان، جانور اور پودے کے خلیوں کے اندر موجود ہے:
**ڈی این اے (DNA)**۔
**1951** میں روزالنڈ نے **King’s College London** میں کام شروع کیا۔
ان کا کام DNA کی ساخت معلوم کرنا تھا۔
آج ہم کتاب کھولتے ہیں تو DNA کا مشہور **double helix** چند سیکنڈ میں دیکھ لیتے ہیں۔
لیکن اس وقت کسی کو یقین سے معلوم نہیں تھا کہ DNA حقیقت میں دکھتا کیسا ہے۔
روزالنڈ نے **X-ray diffraction** استعمال کرنا شروع کیا۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔
نمونے میں نمی کا معمولی فرق، X-ray exposure، fibers کی orientation اور measurements کی precision نتیجہ بدل سکتی تھی۔
مہینوں کی محنت کے بعد روزالنڈ اور ان کے طالب علم **Raymond Gosling** نے ایک غیر معمولی تصویر حاصل کی۔
اس کا نام تھا:
**Photo 51۔**
ایک دھندلی سی سیاہ تصویر جس کے درمیان X کی شکل کا pattern دکھائی دیتا تھا۔
عام انسان اسے دیکھتا تو شاید اس میں کچھ خاص نظر نہ آتا۔
مگر ایک structural scientist کے لیے وہ pattern بہت کچھ کہہ رہا تھا۔
**DNA کی ساخت helical تھی۔**
اسی دوران کیمبرج میں **James Watson اور Francis Crick** بھی DNA کی ساخت سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔
یہاں کہانی ایک متنازع موڑ لیتی ہے۔
روزالنڈ کے ساتھی **Maurice Wilkins** نے Photo 51 واٹسن کو دکھائی، روزالنڈ کی براہِ راست اجازت یا علم کے بغیر۔ واٹسن اور کرک کو ان کے غیر شائع شدہ تحقیقی ڈیٹا تک بھی بالواسطہ رسائی ملی۔
یہ معلومات ان شواہد میں شامل تھیں جنہوں نے انہیں DNA کا درست **double-helix model** بنانے میں مدد دی۔
**1953** میں DNA کی ساخت سے متعلق تاریخی papers شائع ہوئے۔
روزالنڈ کا اپنا تحقیقی paper بھی اسی شمارے میں شائع ہوا۔
مگر آنے والے برسوں میں DNA کی دریافت کے ساتھ جن ناموں کو دنیا سب سے زیادہ جاننے لگی، وہ Watson اور Crick تھے۔
روزالنڈ آگے بڑھ گئیں۔
انہوں نے **Birkbeck College** میں کام شروع کیا اور RNA اور viruses کی ساخت پر شاندار تحقیق کی۔
خاص طور پر **Tobacco Mosaic Virus** پر ان کا کام structural virology کی ترقی میں اہم ثابت ہوا۔
یعنی DNA ان کی علمی زندگی کا اختتام نہیں تھا۔
وہ مسلسل نئی چیزیں دریافت کررہی تھیں۔
مگر پھر زندگی نے انہیں وقت نہیں دیا۔
انہیں **ovarian cancer** ہوگیا۔
بیماری اور علاج کے باوجود وہ حتی الامکان اپنی تحقیق جاری رکھتی رہیں۔
اور **1958** میں صرف **37 سال** کی عمر میں روزالنڈ فرینکلن کا انتقال ہوگیا۔
صرف چار سال بعد، **1962** میں، DNA کی molecular structure سے متعلق کام پر **James Watson، Francis Crick اور Maurice Wilkins** کو نوبیل انعام دیا گیا۔
روزالنڈ وہاں نہیں تھیں۔
نوبیل انعام بعد از مرگ نہیں دیا جاتا، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ کمیٹی انہیں لازماً چوتھے recipient کے طور پر منتخب کرتی۔ لیکن وقت کے ساتھ تاریخی ریکارڈ نے یہ کہیں زیادہ واضح کردیا کہ DNA structure کو سمجھنے میں ان کے experimental data کا کردار کتنا اہم تھا۔
آج روزالنڈ فرینکلن کا نام دنیا کی عظیم experimental scientists میں شمار ہوتا ہے۔
لیکن ان کی کہانی میرے لیے صرف یہ نہیں کہ **”ایک خاتون کو کریڈٹ نہیں ملا۔”**
اس میں ایک زیادہ گہرا سبق بھی ہے۔
سائنس میں بعض اوقات دنیا آخری model بنانے والے شخص کو یاد رکھتی ہے، مگر اس model کے نیچے کسی دوسرے سائنس دان کے برسوں کے خاموش experiments، failed samples اور painstaking measurements موجود ہوتے ہیں۔
**ہر بڑی دریافت کے پیچھے صرف وہ شخص اہم نہیں ہوتا جو آخری جواب لکھتا ہے؛ وہ شخص بھی اتنا ہی اہم ہوسکتا ہے جس نے وہ evidence پیدا کیا جس کے بغیر جواب ممکن ہی نہ ہوتا۔**
روزالنڈ صرف **37 سال** زندہ رہیں۔
مگر کبھی کبھی زندگی کی اہمیت اس کی لمبائی سے نہیں ناپی جاتی۔
**ایک مختصر زندگی بھی علم پر ایسا نشان چھوڑ سکتی ہے جو نسلوں تک باقی رہے۔**
اور شاید Photo 51 ہمیں DNA کے علاوہ ایک اور چیز بھی دکھاتی ہے:
**اچھا کام ہمیشہ فوراً پہچانا نہیں جاتا، لیکن مضبوط evidence کی ایک خوبی ہے — وقت گزرنے کے باوجود وہ اپنی اہمیت نہیں کھوتا۔**
**اسد (ناروے)**
![]()






