سرگودھا کی مٹی، وقارالنسا نون اور گوادر کی داستان
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وقارالنسا نون — آسٹریا سے پاکستان تک ایک غیر معمولی عورت کی کہانی۔کچھ لوگ تاریخ میں صرف اپنے عہدے کی وجہ سے یاد نہیں رہتے، بلکہ اس لیے یاد رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کسی مقصد کے لیے وقف کردی۔ بیگم وقارالنسا نون بھی ایسی ہی شخصیت تھیں۔ ان کی زندگی آسٹریا سے شروع ہوئی اور پاکستان کے ساحلِ گوادر تک جا پہنچی۔
1920ء میں آسٹریا میں پیدا ہونے والی Victoria کی ملاقات 1940ء کی دہائی میں سر فیروز خان نون سے ہوئی۔ 1945ء میں دونوں کی شادی ہوئی۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور Victoria سے وقارالنسا نون بن گئیں۔ لیکن انہوں نے صرف نام نہیں بدلا، پاکستان کو اپنا وطن بھی بنایا اور اس کی جدوجہد میں عملی طور پر شامل ہوگئیں۔
مسلم لیگ کی سرگرمیوں، خواتین کے جلسوں اور پنجاب میں خضر حکومت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا اور گرفتار بھی ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ان کی زندگی سیاست تک محدود نہیں رہی؛ وہ سماجی خدمت، خواتین کی بہبود اور تعلیم کے لیے مسلسل کام کرتی رہیں۔
سر فیروز خان نون پاکستان کے وزیر خارجہ، مشرقی پاکستان کے گورنر اور پھر 1957ء میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ مگر اس جوڑے کی تاریخ کا ایک بڑا باب گوادر سے جڑا ہوا ہے۔
اس وقت گوادر پاکستان کا حصہ نہیں تھا بلکہ سلطنتِ عمان کے زیرِ انتظام تھا۔ سر فیروز خان نون نے حکومتی سطح پر اس کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششیں آگے بڑھائیں، جبکہ بیگم وقارالنسا نون نے لندن میں برطانوی سیاسی حلقوں میں پاکستان کے مؤقف کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر 1958ء میں گوادر پاکستان کا حصہ بن گیا۔
گوادر کسی ایک شخص کا کارنامہ نہیں تھا؛ یہ ریاستی مذاکرات، سفارت کاری، مالی انتظامات اور کئی افراد کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔ لیکن اس داستان میں سر فیروز خان نون اور وقارالنسا نون کے نام ہمیشہ ساتھ لیے جائیں گے۔
اور پھر اس کہانی کا ایک سرا آتا ہے نورپور نون، سرگودھا سے۔
سر فیروز خان نون کا تعلق نورپور نون سے تھا۔ میرے لیے نون خاندان کی یہ داستان صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں، کیونکہ اس خاندان سے ہمارے اپنے پرانے اور محبت بھرے تعلقات ہیں۔ عدنان نون، نائلہ نون اور ٹیا نون سے آج بھی ملاقات اور میل جول رہتا ہے۔ شہزاد کے بھی نون خاندان سے دیرینہ تعلقات تھے۔
اور میری اپنی سب سے خوبصورت یاد یہ ہے کہ بیگم وقارالنسا نون خود میرے دادا سے ملنے آئی تھیں۔ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی۔ اس وقت کہاں معلوم تھا کہ جس خاتون کو میں بچپن میں دیکھ رہی ہوں، وہ ایک دن میری اپنی تحریر میں پاکستان کی تاریخ کا ایک زندہ باب بن کر واپس آئیں گی۔
ان کی خدمات صرف سیاست یا گوادر تک محدود نہیں تھیں۔ تعلیم، سماجی بہبود اور خواتین کے لیے ان کی خدمات بھی نمایاں رہیں۔ ڈھاکہ اور راولپنڈی میں ان سے منسوب تعلیمی اداروں کا ذکر ملتا ہے، جبکہ ان کی تعلیمی میراث کو آگے بڑھانے میں نون فاؤنڈیشن کا بھی اہم کردار ہے، جو برطانیہ میں، خصوصاً آکسفورڈ سے وابستہ تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے ان کے وژن کو آگے لے کر چل رہی ہے۔
وقارالنسا نون 16 جنوری 2000ء کو اسلام آباد میں انتقال کر گئیں۔
لیکن کچھ لوگ واقعی مرتے نہیں۔
وہ اپنے بنائے ہوئے اداروں میں رہتے ہیں، اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کی یادوں میں رہتے ہیں، اور کبھی کبھی کسی ایسی بچی کی یاد میں بھی محفوظ رہ جاتے ہیں جو برسوں پہلے انہیں اپنے دادا کے گھر میں دیکھ کر بڑی ہوئی ہو۔
میرے لیے وقارالنسا نون صرف سر فیروز خان نون کی اہلیہ نہیں تھیں۔
وہ آسٹریا میں پیدا ہونے والی ایک عورت تھیں جنہوں نے پاکستان کو اپنا وطن بنایا؛ ایک سیاسی کارکن، سماجی خدمت گار، تعلیم کی حامی اور گوادر کو پاکستان کے نقشے میں شامل کرنے کی تاریخی جدوجہد کا ایک اہم کردار۔
نورپور نون، سرگودھا سے گوادر تک—یہ صرف ایک خاندان کی داستان نہیں، پاکستان کی تاریخ کا ایک خوبصورت باب ہے۔
تحریر و تحقیق: شازیہ چیمہ
سرگودھا کی مٹی، وقارالنسا نون اور گوادر کی داستان
وقارالنسا نون — آسٹریا سے پاکستان تک ایک غیر معمولی عورت کی کہانی
کچھ لوگ تاریخ میں صرف اپنے عہدے کی وجہ سے یاد نہیں رہتے، بلکہ اس لیے یاد رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کسی مقصد کے لیے وقف کردی۔ بیگم وقارالنسا نون بھی ایسی ہی شخصیت تھیں۔ ان کی زندگی آسٹریا سے شروع ہوئی اور پاکستان کے ساحلِ گوادر تک جا پہنچی۔
1920ء میں آسٹریا میں پیدا ہونے والی Victoria کی ملاقات 1940ء کی دہائی میں سر فیروز خان نون سے ہوئی۔ 1945ء میں دونوں کی شادی ہوئی۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور Victoria سے وقارالنسا نون بن گئیں۔ لیکن انہوں نے صرف نام نہیں بدلا، پاکستان کو اپنا وطن بھی بنایا اور اس کی جدوجہد میں عملی طور پر شامل ہوگئیں۔
مسلم لیگ کی سرگرمیوں، خواتین کے جلسوں اور پنجاب میں خضر حکومت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا اور گرفتار بھی ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ان کی زندگی سیاست تک محدود نہیں رہی؛ وہ سماجی خدمت، خواتین کی بہبود اور تعلیم کے لیے مسلسل کام کرتی رہیں۔
سر فیروز خان نون پاکستان کے وزیر خارجہ، مشرقی پاکستان کے گورنر اور پھر 1957ء میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ مگر اس جوڑے کی تاریخ کا ایک بڑا باب گوادر سے جڑا ہوا ہے۔
اس وقت گوادر پاکستان کا حصہ نہیں تھا بلکہ سلطنتِ عمان کے زیرِ انتظام تھا۔ سر فیروز خان نون نے حکومتی سطح پر اس کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششیں آگے بڑھائیں، جبکہ بیگم وقارالنسا نون نے لندن میں برطانوی سیاسی حلقوں میں پاکستان کے مؤقف کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر 1958ء میں گوادر پاکستان کا حصہ بن گیا۔
گوادر کسی ایک شخص کا کارنامہ نہیں تھا؛ یہ ریاستی مذاکرات، سفارت کاری، مالی انتظامات اور کئی افراد کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔ لیکن اس داستان میں سر فیروز خان نون اور وقارالنسا نون کے نام ہمیشہ ساتھ لیے جائیں گے۔
اور پھر اس کہانی کا ایک سرا آتا ہے نورپور نون، سرگودھا سے۔
سر فیروز خان نون کا تعلق نورپور نون سے تھا۔ میرے لیے نون خاندان کی یہ داستان صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں، کیونکہ اس خاندان سے ہمارے اپنے پرانے اور محبت بھرے تعلقات ہیں۔ عدنان نون، نائلہ نون اور ٹیا نون سے آج بھی ملاقات اور میل جول رہتا ہے۔ شہزاد کے بھی نون خاندان سے دیرینہ تعلقات تھے۔
اور میری اپنی سب سے خوبصورت یاد یہ ہے کہ بیگم وقارالنسا نون خود میرے دادا سے ملنے آئی تھیں۔ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی۔ اس وقت کہاں معلوم تھا کہ جس خاتون کو میں بچپن میں دیکھ رہی ہوں، وہ ایک دن میری اپنی تحریر میں پاکستان کی تاریخ کا ایک زندہ باب بن کر واپس آئیں گی۔
ان کی خدمات صرف سیاست یا گوادر تک محدود نہیں تھیں۔ تعلیم، سماجی بہبود اور خواتین کے لیے ان کی خدمات بھی نمایاں رہیں۔ ڈھاکہ اور راولپنڈی میں ان سے منسوب تعلیمی اداروں کا ذکر ملتا ہے، جبکہ ان کی تعلیمی میراث کو آگے بڑھانے میں نون فاؤنڈیشن کا بھی اہم کردار ہے، جو برطانیہ میں، خصوصاً آکسفورڈ سے وابستہ تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے ان کے وژن کو آگے لے کر چل رہی ہے۔
وقارالنسا نون 16 جنوری 2000ء کو اسلام آباد میں انتقال کر گئیں۔
لیکن کچھ لوگ واقعی مرتے نہیں۔
وہ اپنے بنائے ہوئے اداروں میں رہتے ہیں، اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کی یادوں میں رہتے ہیں، اور کبھی کبھی کسی ایسی بچی کی یاد میں بھی محفوظ رہ جاتے ہیں جو برسوں پہلے انہیں اپنے دادا کے گھر میں دیکھ کر بڑی ہوئی ہو۔
میرے لیے وقارالنسا نون صرف سر فیروز خان نون کی اہلیہ نہیں تھیں۔
وہ آسٹریا میں پیدا ہونے والی ایک عورت تھیں جنہوں نے پاکستان کو اپنا وطن بنایا؛ ایک سیاسی کارکن، سماجی خدمت گار، تعلیم کی حامی اور گوادر کو پاکستان کے نقشے میں شامل کرنے کی تاریخی جدوجہد کا ایک اہم کردار۔
نورپور نون، سرگودھا سے گوادر تک—یہ صرف ایک خاندان کی داستان نہیں، پاکستان کی تاریخ کا ایک خوبصورت باب ہے۔
تحریر و تحقیق: شازیہ چیمہ
The Soil of Sargodha, Begum Viqar-un-Nisa Noon and the Story of Gwadar
Begum Viqar-un-Nisa Noon — An Extraordinary Woman’s Journey from Austria to Pakistan
Some people are remembered by history not merely because of the positions they held, but because they devoted their lives to a purpose. Begum Viqar-un-Nisa Noon was one such remarkable woman. Her journey began in Austria and eventually reached the shores of Gwadar.
Born in Austria in 1920, Victoria met Sir Feroz Khan Noon in the 1940s. The two married in 1945. She embraced Islam and became Viqar-un-Nisa Noon. But she did more than change her name and faith—she made Pakistan her homeland and actively became part of its struggle.
She participated in Muslim League activities, women’s political gatherings, and the movement against the Khizr Ministry in Punjab, for which she was also arrested. After the creation of Pakistan, her life was not confined to politics. She continued to work for social welfare, women’s empowerment and education.
Sir Feroz Khan Noon served as Pakistan’s Foreign Minister, Governor of East Pakistan, and eventually became Prime Minister of Pakistan in 1957. But one of the most significant chapters in the couple’s history is closely connected with Gwadar.
At that time, Gwadar was not part of Pakistan; it was under the rule of the Sultanate of Oman. Sir Feroz Khan Noon pursued negotiations and diplomatic efforts at the governmental level for its acquisition, while Begum Viqar-un-Nisa Noon worked in London to build support for Pakistan’s position among British political circles. Eventually, in 1958, Gwadar became part of Pakistan.
Gwadar was not the achievement of one individual alone. Its accession was the result of state negotiations, diplomacy, financial arrangements and the combined efforts of many people. Yet the names of Sir Feroz Khan Noon and Begum Viqar-un-Nisa Noon will forever remain associated with this historic chapter.
And then, this story has another connection—to Noorpur Noon, Sargodha.
Sir Feroz Khan Noon belonged to Noorpur Noon. For me, the story of the Noon family is not confined to history books, because our family has had old and affectionate ties with them. I still remain in contact with Adnan Noon, Naila Noon and Tia Noon, and we continue to meet and maintain that connection. Shahzad, too, had longstanding relationships with the Noon family.
And one of my most beautiful personal memories is that Begum Viqar-un-Nisa Noon herself once came to meet my grandfather. I was very young at the time. I could never have imagined then that the woman I saw as a child would one day return to my own writing as a living chapter of Pakistan’s history.
Her services were not limited to politics or Gwadar. She also made notable contributions to education, social welfare and the advancement of women. Educational institutions associated with her name are mentioned in Dhaka and Rawalpindi, while the Noon Foundation has also played an important role in carrying forward her educational legacy through its activities in Britain, particularly those associated with Oxford.
Begum Viqar-un-Nisa Noon passed away in Islamabad on 16 January 2000.
But some people never truly die.
They live on in the institutions they helped establish, in the memories of their children and future generations, and sometimes even in the memories of a little girl who saw them many years ago in her grandfather’s home and grew up carrying that memory with her.
For me, Begum Viqar-un-Nisa Noon was not merely the wife of Sir Feroz Khan Noon.
She was a woman born in Austria who made Pakistan her homeland; a political activist, a social worker, an advocate of education, and an important figure in the historic struggle that ultimately brought Gwadar onto the map of Pakistan.
From Noorpur Noon, Sargodha, to Gwadar—this is not merely the story of one family. It is a beautiful chapter in the history of Pakistan.
Written and researched by: Shazia Shazia Shahzad Cheema
![]()






