سچ بولنے کا عہد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ: صدق و صفا کی کٹھن آزمائش اور ربِ کریم کا انعام 🌟
💭 زندگی کا کٹھن ترین فیصلہ اور ایک لمحے کی کشمکش
خود کو ایک ایسے مقام پر فرض کیجیے جہاں آپ سے کوئی زبردست لغزش ہو گئی ہو۔ اب آپ کے روبرو زندگی کا سب سے کڑا امتحان کھڑا ہو: کیا آپ وقتی سزاؤں سے بچنے کی خاطر جھوٹ کا لبادہ اوڑھیں گے؟ یا پھر سچائی کا دامن تھام کر اس کی بھاری قیمت چکانے کو تیار ہوں گے؟ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں، بلکہ جلیل القدر صحابی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والا ایک سچا اور سبق آموز واقعہ ہے۔
🏕️ مہمِ تبوک کی تیاریاں اور ایک لمحے کا تساہل
غزوہ تبوک کا موقع تھا اور رسولِ اکرم ﷺ صحابہ کرام کے ایک بڑے لشکر کو لے کر سخت تپتے ہوئے موسم میں جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ سفر خاصا طویل، زادِ راہ انتہائی محدود، اور مدمقابل دشمن بے حد طاقتور تھا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ اس سفر میں شریک ہونے کی پوری استطاعت رکھتے تھے۔ ان کے پاس بہترین سواری اور بھرپور جسمانی طاقت موجود تھی۔ مگر ان سے محض ایک سستی ہو گئی اور وہ دل ہی دل میں یہ سوچتے رہے کہ میں کل نکل پڑوں گا، یا پرسوں تیاری کر لوں گا۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ قافلے کو لے کر روانہ ہو گئے اور یہ پیچھے رہ گئے۔ ان کا مدینہ میں رک جانا کسی نفاق یا جہاد سے پہلو تہی کے سبب نہ تھا، بلکہ یہ صرف ٹال مٹول اور تاخیر کا ایک لمحہ تھا۔
⚖ منافقوں کے بہانے اور کعب رضی اللہ عنہ کا کورا سچ
نبی مہربان ﷺ جب تبوک سے فاتحانہ واپس لوٹے، تو مہم میں شریک نہ ہونے والے منافقین نے حاضر ہو کر جھوٹی قسمیں کھائیں اور طرح طرح کے عذر تراشنے لگے۔ پھر حضرت کعب رضی اللہ عنہ دربارِ رسالت میں پیش ہوئے۔ انہیں بھی گفتگو کا ہنر خوب آتا تھا اور وہ چاہتے تو کوئی بھی خوبصورت عذر پیش کر کے وقتی طور پر خود کو بچا سکتے تھے۔ مگر انہوں نے سچائی کا راستہ چنا اور صاف عرض کر دیا کہ خدا کی قسم اے اللہ کے رسول! میرے پاس پیچھے رہ جانے کا کوئی عذر نہ تھا، اور میں مالی و جسمانی لحاظ سے اس قدر مضبوط پہلے کبھی نہ تھا جتنا اس وقت تھا۔ انہوں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس سچ کی قیمت بہت بھاری ہو گی۔
🛑 سماجی مقاطعہ اور پچاس دنوں کی صبر آزما گھڑیاں
ان کا سچ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے، اب تم جاؤ یہاں تک کہ اللہ تمہارے حق میں کوئی فیصلہ فرمائے۔ اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان کا اور ان کے دو ساتھیوں کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے۔
دن گزرنے لگے اور مدینے کی جانی پہچانی فضا ان کے لیے بالکل اجنبی ہو کر رہ گئی۔ وہ اپنے سب سے عزیز چچا زاد بھائی حضرت ابو قتادہ کے باغ میں تشریف لے گئے، انہیں سلام کیا، مگر انہوں نے بھی سلام کا کوئی جواب نہ دیا۔ آزمائش مزید کڑی ہو گئی جب چالیس دن گزرنے پر دربارِ نبوی سے حکم آیا کہ اپنی بیویوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لو، چنانچہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی ان کے میکے روانہ کر دیا۔
اسی اثناء میں غسان کے ایک عیسائی بادشاہ کا قاصد ان کے پاس ایک خط لے کر پہنچا۔ اس میں درج تھا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہارے آقا نے تم پر زیادتیاں کی ہیں، تم ہمارے پاس چلے آؤ، ہم تمہاری قدر و منزلت کریں گے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر پڑھ کر فرمایا کہ یہ میری آزمائش کا ایک اور کڑا مرحلہ ہے، اور فوراً اس خط کو تنور کی نذر کر دیا۔ یہ پچاس دن انہوں نے اس قدر تنہائی اور روحانی کرب میں گزارے کہ زمین اپنی بے پناہ وسعتوں کے باوجود ان پر سمٹ کر رہ گئی۔
🕊️ آسمانی فیصلہ، نویدِ مسرت اور سجدۂ شکر
بالآخر وہ مبارک فجر طلوع ہوئی جب خالقِ کائنات نے ان کی مشکل کشائی کا فیصلہ فرما دیا۔ حضرت کعب اپنے گھر کی چھت پر اسی دل گرفتہ کیفیت میں بیٹھے تھے کہ سلع نامی پہاڑی کی چوٹی سے ایک منادی نے بلند آواز لگائی: اے کعب بن مالک! تمہیں خوشخبری ہو۔ یہ آواز کانوں میں پڑتے ہی وہ سجدے میں گر گئے اور سمجھ گئے کہ رب کی رحمت جوش میں آ گئی ہے۔
ان کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ خوشخبری لانے والے کو انعام میں دینے کے لیے ان کے پاس کچھ نہ تھا، تو انہوں نے اپنے جسم کے دونوں کپڑے اتار کر اسے پہنا دیے اور خود کسی اور سے کپڑے عاریتاً مانگ کر زیب تن کیے اور دربارِ رسالت کی جانب دوڑ پڑے۔ مسجدِ نبوی میں رسولِ کائنات ﷺ کا چہرہ انور خوشی کے مارے چاند کی مانند چمک رہا تھا۔
اس موقع پر سورۃ التوبہ کی آیت ۱۱۸ کی تلاوت کی گئی، جس کا مفہوم ہے کہ اللہ نے ان تینوں پر بھی رحمت فرمائی جن کا معاملہ مؤخر کر دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین فراخ ہونے کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی، اور ان کی جانیں ان پر بوجھ بن گئیں، اور وہ جان گئے کہ اللہ کی گرفت سے بچنے کے لیے اسی کی ذات کے سوا کوئی پناہ نہیں، تب اللہ نے ان کی توبہ قبول کی تاکہ وہ توبہ پر قائم رہیں۔ بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
💎 سدا سچ بولنے کا عہد اور مال کی قربانی
اس قرآنی فیصلے نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے دل کی کلی کھلا دی۔ ان کی سچائی نے انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی رسوائیوں سے محفوظ کر لیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ کی قبولیت کی خوشی میں یہ بھی شامل ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا، زبان سے صرف سچ ہی نکالوں گا۔ نبی مہربان ﷺ نے ان کی اس پیشکش پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ لو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔
یوں وہ پچاس راتوں کی کٹھن مسافت اپنے اختتام کو پہنچی، مگر قیامت تک کے انسانوں کو یہ ابدی سبق دے گئی کہ سچائی آغاز میں انسان کو تنہا اور مشکل میں ڈال سکتی ہے، مگر انجام کار یہی نجات کا واحد راستہ ہے۔ دوسری طرف جھوٹ انسان کو وقتی طور پر بچا تو لیتا ہے، لیکن بالآخر اسے ذلت کا دائمی اسیر بنا دیتا ہے۔
❓ غور کیجیے، آپ کا فیصلہ کیا ہوتا؟
اپنے آپ کو ذرا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی جگہ پر کھڑا کر کے دیکھیے۔ اگر آپ دو راستوں کے دوراہے پر ہوں: ایک طرف وہ جھوٹ ہو جو آپ کو فوری طور پر ہر سزا سے بچا لے، اور دوسری طرف وہ سچ ہو جو آپ کو مسلسل پچاس راتوں کے لیے تنہائی اور کرب میں دھکیل دے، تو آپ کس راستے کا انتخاب کرتے؟
اپنی سچی رائے کمنٹس میں ضرور دیجیے گا، نبی کریم ﷺ کی ذاتِ بابرکات پر درود و سلام بھیجیے گا، اور اس ایمان افروز واقعے کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیجیے گا۔
اللہ رب العزت حضرت کعب بن مالک اور رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے راضی ہو۔
مستند حوالہ جات
قرآن مجید، سورۃ التوبہ
صحیح البخاری
صحیح مسلم
![]()






