“اور ستاروں کے ذریعے وہ راستہ پاتے ہیں” — آسمان مسافروں کا نقشہ کیسے بنتا تھا؟۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

“اور ستاروں کے ذریعے وہ راستہ پاتے ہیں” — آسمان مسافروں کا نقشہ کیسے بنتا تھا؟

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ذرا اپنے آپ کو ایک ایسی رات میں تصور کیجیے جب نہ جی پی ایس (GPS) تھا، نہ موبائل فون، نہ سڑکوں کے رہنما بورڈ اور نہ کسی ڈیجیٹل نقشے پر اپنی موجودہ جگہ دکھانے والا نیلا نقطہ۔ چاروں طرف لامتناہی صحرا پھیلا ہو، یا لکڑی کی بادبانی کشتی کھلے سمندر میں کسی ایسی جگہ پہنچ چکی ہو جہاں دور افق تک صرف پانی ہی پانی دکھائی دیتا ہو۔ دن کے اجالے میں اونچے پہاڑ، ساحلی پٹیاں، وادیاں اور دوسری زمینی نشانیاں انسان کو منزل کا سراغ دے سکتی ہیں، مگر رات کی سیاہ تاریکی میں مسافر کیا کرے؟ صدیوں تک انسان نے اس بنیادی سوال کا جواب اپنے سر کے اوپر جگمگاتے فلک پر تلاش کیا۔ قرآنِ حکیم ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ﴾، یعنی “اور نشانیاں بنائیں، اور ستاروں کے ذریعے وہ راستہ پاتے ہیں” (سورۃ النحل: 16)۔ اجرامِ فلکی—خواہ وہ سورج ہو، چاند، سیارے یا دور دراز کے ستارے—کے منظم مشاہدے اور زاویاتی پیمائش سے اپنی سمت اور جائے وقوع معلوم کرنے کے سائنسی طریقۂ کار کو جدید اصطلاح میں سیلسٹیل نیویگیشن (Celestial Navigation) کہا جاتا ہے، لیکن انسان اس علم کو یہ جدید نام ملنے سے صدیوں پہلے عملی میدان میں برت رہا تھا۔

امام طبریؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ “علامات” سے دن کے وقت نظر آنے والی راستوں کی زمینی نشانیاں مراد ہیں، جبکہ ﴿وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ﴾ رات کی تاریکی میں ستاروں کے ذریعے سمت اور راہ پانے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ امام طبریؒ نے اپنی ترجیح میں بھی دن کی زمینی نشانیوں اور رات کے فلکیاتی اجسام کے اس فطری تقابل کو اختیار کیا، اور الجدی (Polaris / Pole Star) اور الفرقدان جیسے شمالی ستاروں کا صریح ذکر کیا جن کے ذریعے قدیم مسافر اور قافلے سمت کا تعین کرتے تھے۔ امام ابن کثیرؒ بھی پہاڑوں اور دیگر زمینی خدوخال کو دن کے مسافروں کا رہبر اور ستاروں کو رات کے سفر کا رہنما قرار دیتے ہیں۔ امام قرطبیؒ ایک اور علمی نکتہ سامنے لاتے ہیں کہ “النجم” سے یہاں جنسِ نجوم یعنی ستارے عمومی طور پر مراد ہیں؛ وہ لکھتے ہیں کہ سفر میں ستاروں سے رہنمائی جمہور مفسرین کا قول ہے، جبکہ بعض اہل علم نے اس سے قبلے کی سمت پہچاننے کا مفہوم بھی مراد لیا ہے۔ لہٰذا ستاروں کے ذریعے سفر کی سمت اور راہ معلوم کرنا اس آیت کے اولین اور مستند ترین تفسیری معانی میں شامل ہے۔

زمین اپنے محوری خط پر مسلسل گھومتی ہے، اور اسی گردش کی وجہ سے رات کے وقت ہمیں آسمان پر موجود بیشتر ستارے مشرق سے طلوع ہو کر مغرب کی سمت سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن شمالی نصف کرے کے آسمان پر ایک ایسا خیالی نقطہ موجود ہے جس کے گرد باقی تمام ستارے رات بھر دائروں میں گھومتے نظر آتے ہیں؛ اسے شمالی آسمانی قطب یعنی نارتھ سیلسٹیل پول (North Celestial Pole) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں پولارس (Polaris) یعنی قطبی ستارہ اس آسمانی محور کے بے حد قریب واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی نصف کرے کے ناظر کو پولارس رات بھر اپنی جگہ پر تقریباً ساکت اور غیر متحرک دکھائی دیتا ہے۔ جب کسی مسافر کو شمالی آسمان پر پولارس کا سراغ مل جائے تو اسے حقیقی شمال (True North) کا اندازہ ہو جاتا ہے؛ اور اگر انسان اپنا چہرہ شمال کی سمت کر کے کھڑا ہو جائے تو اس کے دائیں جانب مشرق، بائیں جانب مغرب اور عین پیچھے جنوب واقع ہوگا۔ یہ سادہ جیومیٹری اور فلکیاتی اصول لق و دق صحراؤں یا بے کراں سمندروں میں راستہ بھول جانے والے مسافر کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا تھا۔

شمالی نصف کرے میں آسمان محض ایک قطب نما کی طرح صرف سمت ہی نہیں بتاتا، بلکہ کسی حد تک مسافر کے جغرافیائی مقام کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ افق سے پولارس کی زاویاتی بلندی (Angular Altitude) تقریباً مبصر کے عرضِ بلد (Latitude) کے مساوی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر قطبی ستارہ شمالی افق سے تقریباً 30 درجے بلند نظر آ رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ مبصر زمین پر تقریباً 30° شمالی عرضِ بلد کے متوازی خط پر موجود ہے۔ یہاں “تقریباً” کا لفظ سائنسی طور پر اس لیے ضروری ہے کیونکہ پولارس عین قطب کے نقطۂ صفر پر نہیں بلکہ اس کے بالکل قریب ہے، اس لیے جدید و دقیق جہاز رانی میں اس کے لیے معمولی حسابی تصحیح کی جاتی ہے۔ اسی بنیادی جیومیٹری کو تاریخی ادوار میں اصطرلاب (Astrolabe)، کواڈرینٹ (Quadrant)، اوکٹنٹ (Octant) اور بعد ازاں سیکسٹنٹ (Sextant) جیسے آلات کے ذریعے باریک بینی سے ناپا جانے لگا۔

صحرا میں سفر کرتے ہوئے انسان کو کبھی نہ کبھی پہاڑی سلسلے، ریت کے ٹیلوں کی ساخت یا گھاٹیوں کے نشانات مل جاتے ہیں، مگر کھلے سمندر کے سینے پر یہ تمام سہولتیں یکسر ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے تاریخ کی تمام بحری روایات میں آسمانی اجسام کی نگرانی ملاحوں کا سب سے قیمتی اثاثہ رہی۔ خصوصاً بحرِ ہند، بحیرۂ احمر اور خلیج کے خطوں میں عرب ملاح شمالی ستاروں کی بلندی سے اپنی شمال تا جنوب پوزیشن کا تخمینہ لگاتے تھے۔ امریکی موسمیاتی و بحری ادارے نووا (NOAA) کے تاریخی ریکارڈز میں “کمال” (Kamal) نامی لکڑی کے ایک سادہ مگر نہایت کارآمد روایتی آلے کا ذکر ملتا ہے، جس کے ذریعے ملاح افق اور قطبی ستارے کے درمیانی زاویے کو لکڑی کے تختے اور گرہوں والی ڈوری کی مدد سے ناپتے تھے۔ اگرچہ دنیا کے تمام خطوں کے ملاحوں کا طریقہ کار ایک جیسا نہیں تھا، مگر ستاروں کے طلوع و غروب کے مقامات اور ان کے افقی زاویوں سے جہاز رانی کرنا ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آسمان پر راستہ تلاش کرنے کے لیے صرف پولارس ہی کارآمد ہے، لیکن یہ ایک سطحی خیال ہے۔ اگرچہ شمالی نصف کرے میں پولارس کا مقام منفرد ہے، مگر سیلسٹیل نیویگیشن صرف ایک ستارے کا محتاج نہیں۔ جنوبی نصف کرے میں پولارس افق سے نیچے چھپ جاتا ہے اور دکھائی نہیں دیتا؛ وہاں قدیم اور جدید ملاح جنوبی صلیب (Southern Cross) اور دیگر اجرامِ فلکی کے ذریعے سمت کا تعین کرتے رہے ہیں۔ تجربہ کار ملاح اور بدوی رہنما رات کے مختلف پہروں میں ابھرنے اور ڈوبنے والے روشن ستاروں کی ترتیب اور کواڈرنٹس سے بخوبی واقف ہوتے تھے۔ جدید باقاعدہ بحری فلکیات میں سورج، چاند، سیاروں اور 57 مخصوص روشن ستاروں کو بطور حوالہ استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی نیول آبزرویٹری (USNO) اور برطانوی ناٹیکل المانک اس مقصد کے لیے ان اجرام کے زوال (Declination)، بلندی (Altitude) اور سمتی زاویوں (Azimuth) کے تفصیلی حسابی جداول فراہم کرتے ہیں، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ آسمان محض ایک ستارے کا نہیں بلکہ ایک مکمل کائناتی ریفرنس فریم ورک کا نام ہے۔

یہاں زمین اور کائنات کی ایک اور حیران کن فلکیاتی حقیقت سامنے آتی ہے جسے محوری گردش کا جھکاؤ یا ایکسیل پری سیشن (Axial Precession) کہا جاتا ہے۔ زمین کا محوری لٹھا بالکل جامد نہیں ہے بلکہ ایک گھومتے ہوئے لٹو کی مانند تقریباً 26,000 سال کے طویل عرصے میں فضا کے اندر ایک مکمل دائرہ بناتا ہے۔ اس سست رفتار تبدیلی کے باعث نارتھ سیلسٹیل پول کا رخ ہمیشہ ایک ہی ستارے کی طرف نہیں رہتا۔ آج کے دور میں پولارس اس قطب کے قریب ترین ہے، لیکن ہزاروں سال قبل قدیم مصریوں یا بابلیوں کے زمانے میں ثعبان (Thuban) نامی ستارہ قطب کے قریب تھا، اور آج سے تقریباً بارہ ہزار سال بعد روشن ستارہ ویگا (Vega) قطب کے قریب ترین ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے رہنمائی کو کسی ایک مخصوص ستارے کی ذات تک محدود نہیں کیا، بلکہ ﴿وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ﴾ فرما کر ایک وسیع، جامع اور ابدی حقیقت بیان فرمائی جو کائنات کے ہر دور کے مسافر پر صادق آتی ہے۔

ستارے درحقیقت خلا میں ساکن نہیں ہیں بلکہ وہ سب ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکز کے گرد تیز رفتاری سے سفر کر رہے ہیں۔ لیکن زمین سے ان کے فاصلے اس قدر ہوش ربا ہیں کہ انسان کی پوری زندگی، حتیٰ کہ سینکڑوں نسلوں کے گزرنے کے باوجود ان کے باہمی فاصلے اور شکلیں انسانی آنکھ کو بالکل ساکت اور غیر متبدل محسوس ہوتی ہیں۔ ستاروں کی اس بظاہر ٹھہری ہوئی ترتیب کے باعث ہی انسان کے لیے انہیں ایک قابلِ اعتماد حوالہ جاتی نقشہ (Reference Grid) بنانا ممکن ہوا۔ ایک طویل فلکیاتی پیمانے پر اگرچہ پری سیشن اور ستاروں کی ذاتی حرکت (Proper Motion) اس نقشے کو بتدریج بدلتی ہے، مگر انسانی سفر اور تہذیبی تاریخ کے تناظر میں یہ فلکیاتی نظام غیر معمولی طور پر منظم اور قابلِ پیش گوئی ہے۔

یہاں علمِ فلکیات (Astronomy) اور علمِ نجوم (Astrology) کے فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ستاروں کی طبعی پوزیشن سے سمت، وقت اور جغرافیائی راستے کا کھوج لگانا ایک خالص سائنسی اور مشاہداتی عمل ہے؛ اس کے برعکس ستاروں کی چال سے کسی انسان کی قسمت، خوش بختی، ناکامی یا مستقبل کے غیب کی خبریں گھڑنا ایک باطل اور وہمی نظریہ ہے۔ امام طبریؒ نے حضرت قتادہؒ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو تین مقاصد کے لیے پیدا فرمایا ہے: آسمان کی زینت، شیاطین کے لیے مار، اور وہ علامات جن سے راستوں کی رہنمائی حاصل کی جائے؛ پس جس نے ان کے علاوہ ستاروں سے کوئی اور بات اخذ کرنے کی کوشش کی اس نے خطا کی اور اپنے حصے کا ضیاع کیا۔ قرآنِ حکیم سورۃ الانعام میں اس مقصد کو مزید کھول کر بیان کرتا ہے: ﴿وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾، یعنی “اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے راستہ پاؤ” (سورۃ الانعام: 97)۔

قرآنِ کریم نے یہاں کوئی عرضِ بلد نکالنے کی ریاضیاتی مساوات، سیکسٹنٹ کے پیمانے، یا اسفیریکل ٹرگنومیٹری کے فارمولے درج نہیں کیے۔ قرآن کا اسلوب کسی سائنسی کتابچے کا نہیں بلکہ وہ انسان کی نگاہ کو کائنات میں پھیلی ہوئی عملی نشانیوں اور اس کے خالق کے ربوبیت بھرے نظام کی طرف موڑتا ہے۔ انسان نے اپنے تفکر اور سائنسی تحقیق سے بعد میں یہ جانا کہ زمین کے گھومنے، آسمانی قطب کے بننے، افق سے زاویوں کی پیمائش اور جیومیٹری کے ملاپ سے سفر کو کس طرح بے خطا بنایا جا سکتا ہے۔ قرآن کے الفاظ پر کوئی سائنسی تھیوری زبردستی مسلط کیے بغیر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس آیت نے جس انسانی ضرورت اور کائناتی سہولت کا ذکر کیا ہے، وہ انسانی تاریخ کے مادی ارتقا اور مشاہدے کا ایک درخشاں باب ہے۔

کسی قدیم بدوی قافلے کے پاس سر پر گھومتے مصنوعی سیارے نہیں تھے، اور طوفانی لہروں میں گھری کشتی کے ملاح کے پاس الیکٹرانک اسکرین نہیں تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کے سر پر ایک ایسا چمکتا ہوا کائناتی نقشہ سجا دیا کہ اگر نگاہ میں شعور اور دل میں فہم ہو تو گھپ اندھیری راتوں میں بھی مسافر بھٹکنے سے محفوظ رہتا ہے۔ زمین کے سینے پر اونچے پہاڑ نشانِ راہ بنتے ہیں اور فلک کی وسعتوں میں جگمگاتے تارے قطب نما کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ جدید سائنس ہمیں اس نظام کے پیچیدہ فلکیاتی میکانزم کی تفصیلات سمجھاتی ہے، اور قرآن ہمیں اس حقیقت کے ادراک کے ذریعے کائنات کے پروردگار کی حکمت اور رحمت کے حضور جھکنے کی دعوت دیتا ہے۔

#سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #قرآن_اور_سائنس #سورۃ_النحل #فلکیات #CelestialNavigation

حوالہ جات:

• القرآن الكريم — سورۃ النحل: 16

• القرآن الكريم — سورۃ الانعام: 97

• تفسير الطبری — جامع البيان عن تأويل آي القرآن، سورۃ النحل: 16

• تفسير القرطبی — الجامع لأحكام القرآن، سورۃ النحل: 16

• تفسير ابن كثير — تفسير القرآن العظيم، سورۃ النحل: 16

• NASA Science — Polaris, the Celestial Pole, and Earth’s Precession

• NOAA National Ocean Service — History of Celestial Navigation and Maritime Instruments

• U.S. Naval Observatory (USNO) & HM Nautical Almanac Office — The Nautical Almanac: Principles of Celestial Navigation

Loading