ہدایت زندگی کا سب سے قیمتی عطیہ تحریر ۔۔۔ محمد شعیب عمر

تحریر  ۔  محمد شعیب عمر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہدایت انسان کی زندگی کا سب سے عظیم سوال اور سب سے قیمتی عطیہ ہے۔ انسان کے پاس علم ہو سکتا ہے مگر سمت نہ ہو، عقل ہو سکتی ہے مگر مقصد نہ ہو، صلاحیت ہو سکتی ہے مگر صحیح استعمال کا شعور نہ ہو؛ ہدایت ان تمام قوتوں کو ایک درست سمت عطا کرتی ہے۔ قرآن ہدایت کو محض معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں دیتا بلکہ اسے اللہ کی طرف سے حق کو پہچاننے، اسے قبول کرنے، اس پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کا جامع عمل بناتا ہے۔ اسی لیے قرآن اپنے آپ کو ﴿هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾ کہتا ہے۔ ہدایت انسان کو صرف یہ نہیں بتاتی کہ حقیقت کیا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ حقیقت کو زندگی میں کیسے اتارا جائے۔

ہدایت اور علم کا تعلق نہایت گہرا ہے، مگر دونوں ایک چیز نہیں۔ علم انسان کو کسی حقیقت سے آگاہ کر سکتا ہے، جبکہ ہدایت اسے اس حقیقت کے مطابق زندگی گزارنے کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک شخص حق کو جان کر بھی اس سے انحراف کر سکتا ہے، کیونکہ مسئلہ ہمیشہ معلومات کی کمی نہیں ہوتا؛ کبھی خواہش، تکبر، تعصب یا مفاد انسان کو معلوم حق سے دور کر دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن علم کے ساتھ خشیت اور عمل کو جوڑتا ہے۔ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت، اپنے نفس کی اصلاح اور اپنے عمل کی ذمہ داری تک پہنچائے۔ ایسا علم ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے، محض معلومات کا ذخیرہ نہیں رہتا۔

ہدایت اور عقل کا تعلق بھی اسی توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ عقل انسان کو غور، استدلال، موازنہ اور نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، مگر عقل خود بخود ہر غیبی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ دوسری طرف وحی عقل کو معطل نہیں کرتی بلکہ اسے صحیح دائرے میں استعمال کرنا سکھاتی ہے۔ قرآن بار بار تدبر، تفکر، تعقل اور نظر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے اسلامی تصور میں صحیح عقل اور صحیح وحی ایک دوسرے کی دشمن نہیں؛ عقل وحی کو سمجھنے، دلائل پر غور کرنے اور کائنات میں نشانیوں کو دیکھنے کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ وحی عقل کو ایسے حقائق کی رہنمائی دیتی ہے جہاں انسانی ادراک اپنی حدود تک پہنچ جاتا ہے۔

ہدایت کی سب سے مضبوط بنیاد وحی ہے۔ انسانی تجربہ محدود ہے، انسانی عقل مختلف حالات، خواہشات اور ثقافتی اثرات سے متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے انسان کو ایک ایسی رہنمائی درکار ہے جو اس کے خالق کی طرف سے آئے۔ قرآن اور سنت انسان کو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاملات، حقوق اور زندگی کے مقصد کے بارے میں بنیادی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ وحی انسان کے لیے صرف نظری معلومات نہیں بلکہ میزان ہے؛ وہ حق و باطل، خیر و شر اور عدل و ظلم کے درمیان فرق واضح کرتی ہے۔ اسی لیے ہدایت کا محفوظ راستہ وحی سے کٹ کر محض ذاتی احساس یا فلسفیانہ قیاس میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

ہدایت اور فطرت کا تعلق انسان کے اندر موجود اس ابتدائی شعور سے ہے جو اسے حق، خیر، معنی اور اپنے خالق کی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قرآن انسان کو فطرت اللہ پر پیدا ہونے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ فطرت وحی کا بدل نہیں، بلکہ وحی کو قبول کرنے کے لیے انسان کے اندر موجود ایک بنیادی استعداد ہے۔ ماحول، خواہشات، تعصبات اور مسلسل غفلت اس فطری شعور پر پردے ڈال سکتے ہیں، جبکہ وحی اسے صاف کرتی ہے اور صحیح سمت دکھاتی ہے۔ اسی لیے ہدایت انسان پر کوئی اجنبی حقیقت مسلط نہیں کرتی؛ وہ اس کے اندر موجود حق کی پیاس کو وحی کی روشنی میں درست سمت دیتی ہے۔

ہدایت کا اگلا مرحلہ ایمان ہے۔ حق کو جان لینا اور حق پر ایمان لانا ایک ہی چیز نہیں۔ ایمان دل کی تصدیق، زبان کے اقرار اور عمل کے تقاضوں سے وابستہ حقیقت ہے۔ قرآن میں ایمان کو محض نظری اعتراف نہیں بنایا گیا بلکہ اسے اطاعت، تقویٰ، صبر، توکل اور صالح عمل کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ایمان انسان کے اندر ایک نیا مرکز پیدا کرتا ہے؛ اب اس کی زندگی محض خواہشات، مفادات اور سماجی دباؤ کے تابع نہیں رہتی بلکہ اللہ کی رضا اس کی بنیادی ترجیح بننے لگتی ہے۔ یہی تبدیلی ہدایت کو معلومات سے زندگی میں منتقل کرتی ہے۔

ہدایت کا ثبوت عمل ہے۔ اگر انسان حق کو جانتا ہے مگر اس کے مطابق اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا تو اس کے علم اور ہدایت کے درمیان ایک خلا موجود ہے۔ عمل کا مطلب صرف ظاہری عبادات نہیں؛ سچ بولنا، امانت ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، معاملات میں انصاف، کمزور کے حق کی حفاظت، حرام سے بچنا اور لوگوں کے ساتھ خیر خواہی بھی ہدایت کے عملی آثار ہیں۔ قرآن نے ایمان کے ساتھ صالح عمل کا ذکر بار بار کیا ہے، کیونکہ ہدایت انسان کی زندگی کو تبدیل کرنے آتی ہے، صرف اس کی معلومات بڑھانے نہیں۔

ہدایت اور اخلاص کا تعلق اس لیے بنیادی ہے کہ ایک ہی عمل ظاہراً نیک ہو سکتا ہے مگر نیت کے فساد کی وجہ سے انسان کے لیے وبال بن سکتا ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی عبادت، علم، دعوت، خدمت اور نیکی کا اصل مقصد اللہ کی رضا کو بنائے۔ شہرت، تعریف، منصب اور لوگوں کی منظوری اگر عمل کا بنیادی محرک بن جائیں تو انسان بظاہر نیکی کرتے ہوئے بھی اپنے باطن میں کسی اور چیز کا طالب ہو سکتا ہے۔ اخلاص عمل کو اللہ کے لیے خالص کرتا ہے اور انسان کو لوگوں کی نگاہوں کی غلامی سے نکالتا ہے۔

ہدایت کا ایک اہم اثر تزکیہ ہے۔ تزکیہ کا مطلب صرف گناہوں سے بچنا نہیں بلکہ دل، نفس، خواہش، نیت اور کردار کی مسلسل اصلاح ہے۔ تکبر، حسد، کینہ، ریا، حرص، شہوتِ بے قید، بغض اور خود پسندی وہ باطنی امراض ہیں جو انسان کے علم اور عبادت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ ہدایت انسان کو اپنے باطن کا سامنا کرنا سکھاتی ہے۔ وہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے فلاح کو تزکیۂ نفس کے ساتھ جوڑا: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا﴾۔

ہدایت اخلاق کو بھی بدل دیتی ہے۔ اگر عقیدہ اور عبادت انسان کو سچائی، عدل، رحم، امانت اور حسنِ معاشرت تک نہ پہنچائیں تو ہدایت کے عملی ثمرات ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں عبادت اور اخلاق الگ الگ میدان نہیں تھے۔ آپ ﷺ نے بہترین اخلاق کی تکمیل کو اپنی بعثت کے مقاصد میں بیان فرمایا۔ ہدایت یافتہ انسان صرف مسجد میں اچھا نہیں ہوتا؛ وہ بازار میں بھی دیانت دار، گھر میں بھی رحیم، اختلاف میں بھی منصف، اختیار میں بھی امانت دار اور کمزور کے ساتھ بھی مہربان ہوتا ہے۔ اخلاق ہدایت کی معاشرتی زبان ہے۔

ہدایت اور محبت کا تعلق انسان کے باطن کو نرم کرتا ہے۔ اللہ سے محبت ایمان کی روحانی قوتوں میں سے ایک عظیم قوت ہے، اور رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن حقیقی محبت محض جذباتی وابستگی نہیں؛ محبت اطاعت، اتباع اور قرب پیدا کرتی ہے۔ جسے اللہ سے محبت ہو وہ اس کی نافرمانی کو معمول بنانے پر مطمئن نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اہل ایمان، اہلِ خانہ اور انسانوں کے ساتھ خیر خواہی بھی ہدایت کے اخلاقی دائرے میں آتی ہے۔ محبت اگر شریعت سے منقطع ہو جائے تو جذباتی غلو بن سکتی ہے، اور اگر محبت سے خالی ہو تو دین محض خشک قانونی تصور بن سکتا ہے۔ ہدایت دونوں کو متوازن کرتی ہے۔

ہدایت میں خوف بھی ہے، مگر ایسا خوف جو انسان کو اللہ سے بھگائے نہیں بلکہ اللہ کی نافرمانی سے بچائے۔ تقویٰ کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے جواب دہی کو حقیقی سمجھے۔ آخرت، حساب، جنت اور جہنم کا شعور اسے ظلم، خیانت اور گناہ سے روکتا ہے۔ لیکن خوف اگر رحمت اور امید سے الگ ہو جائے تو مایوسی پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن اور سنت نے خوف اور امید کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھا ہے۔ مومن نہ اپنے اعمال پر مغرور ہوتا ہے اور نہ اللہ کی رحمت سے مایوس۔

ہدایت اور امید کا رشتہ انسان کو گرنے کے بعد اٹھنا سکھاتا ہے۔ زندگی میں ناکامی، گناہ، کمزوری اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ ایک لغزش نے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تو وہ اصلاح کی کوشش چھوڑ سکتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے امید اسے دوبارہ توبہ، دعا اور عمل کی طرف لاتی ہے۔ امید کا مطلب گناہ پر بے خوف ہونا نہیں بلکہ اللہ کی رحمت کو اپنی اصلاح کی قوت بنانا ہے۔ ہدایت یافتہ انسان ناکامی کو آخری فیصلہ نہیں سمجھتا؛ وہ اس سے سبق لیتا اور دوبارہ اٹھتا ہے۔

ہدایت اور دعا کا تعلق بندے کے اللہ سے  تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان اپنی عقل، علم اور کوشش کے باوجود محدود ہے، اس لیے اسے اپنے رب سے رہنمائی مانگنے کی ضرورت رہتی ہے۔ ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ محض نماز میں پڑھی جانے والی آیت نہیں؛ یہ مومن کی پوری زندگی کی دعا ہے۔ انسان کو صرف ایک مرتبہ ہدایت مل جانا کافی نہیں، اسے ہر روز صحیح راستے پر قائم رہنے، حق کو حق سمجھنے، باطل سے بچنے اور اپنے ارادے کو درست رکھنے کے لیے اللہ کی مدد درکار ہے۔ دعا انسان کو اس حقیقت کا شعور دیتی ہے کہ ہدایت محض اپنی ذہانت کا حاصل نہیں بلکہ اللہ کی توفیق بھی ہے۔

ہدایت کی پختگی استقامت سے ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی انسان کسی وعظ، واقعے، آیت یا روحانی کیفیت سے بہت متاثر ہوتا ہے اور اصلاح کا عزم کرتا ہے، مگر کچھ عرصے بعد پرانی عادات واپس آ جاتی ہیں۔ استقامت یہ ہے کہ وقتی جذبات کے ختم ہونے کے بعد بھی انسان حق پر قائم رہے۔ نماز کا تسلسل، حلال و حرام کی پابندی، قرآن سے تعلق، اخلاق کی حفاظت، توبہ اور حقوق کی ادائیگی اسی استقامت کی شکلیں ہیں۔ ہدایت کا کمال کیفیت کے عروج میں نہیں بلکہ معمول کے دنوں میں حق پر قائم رہنے میں ظاہر ہوتا ہے۔

ہدایت کی حفاظت بھی خود ایک ذمہ داری ہے۔ انسان کو علم، صحبت، ماحول، خواہش، شبہات اور غفلت سے مسلسل مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ قرآن نے ایمان والوں کو اپنے ایمان کی حفاظت اور اللہ کی اطاعت پر قائم رہنے کی دعوت دی ہے۔ ہدایت کی حفاظت کے لیے صحیح علم، قرآن سے تعلق، سنت کی پیروی، صالح صحبت، ذکر، دعا، توبہ، محاسبہ اور گناہ کے اسباب سے دوری ضروری ہے۔ جس طرح جسم کو غذا اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایمان اور ہدایت کو بھی مسلسل تغذیہ اور حفاظت درکار ہے۔

ہدایت یافتہ انسان کی پہچان محض اس کی مذہبی شناخت نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔ وہ حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرتا ہے، اپنی غلطی تسلیم کر سکتا ہے، اختلاف میں انصاف کرتا ہے، علم میں عاجزی اختیار کرتا ہے، طاقت میں ظلم نہیں کرتا، کمزور کے حق کو پہچانتا ہے اور تنہائی میں بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ وہ اپنے دین کو دوسروں کی تحقیر کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتا ہے۔ ہدایت یافتہ انسان اپنے علم سے متکبر نہیں بلکہ زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے، اپنی عبادت سے مغرور نہیں بلکہ زیادہ عاجز ہوتا ہے اور اپنی نیکی کو دوسروں کے لیے اخلاقی برتری کا ہتھیار نہیں بناتا۔

جب ہدایت فرد سے آگے بڑھ کر گھر میں داخل ہوتی ہے تو گھر محض رہائش گاہ نہیں رہتا بلکہ تربیت، محبت، عبادت اور اخلاق کا مرکز بن جاتا ہے۔ ہدایت یافتہ گھر میں دین صرف بچوں کو حکم دینے کا نام نہیں؛ والدین اپنے کردار سے دین دکھاتے ہیں۔ وہاں نماز کے ساتھ محبت، قرآن کے ساتھ فہم، ادب کے ساتھ مکالمہ، حدود کے ساتھ رحمت اور تربیت کے ساتھ اعتماد ہوتا ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، اولاد کو عزت اور رہنمائی ملتی ہے، بزرگوں کی خدمت ہوتی ہے اور اختلاف دشمنی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ گھر کی ہدایت دراصل اگلی نسل کی شخصیت سازی کا آغاز ہے۔

جب یہی ہدایت معاشرے میں پھیلتی ہے تو اس کے آثار عدل، امانت، احسان، حقوق العباد، علم، خدمت اور اجتماعی ذمہ داری کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ہدایت یافتہ معاشرہ وہ نہیں جس میں صرف مذہبی شعارات زیادہ ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کا معیار ایک ہو، تجارت میں خیانت نہ ہو، علم کو عزت ملے، مزدور کا حق محفوظ ہو، یتیم اور محتاج بے سہارا نہ ہوں، خاندان محفوظ ہو، حکمران جواب دہ ہوں اور شہری اپنے فرائض سمجھیں۔ جب ہدایت اجتماعی کردار بن جائے تو عبادت کے اثرات مسجد سے نکل کر بازار، عدالت، گھر، مدرسہ، دفتر اور ریاست تک پہنچتے ہیں۔

یوں انسان کا سفر جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے نور تک صرف معلومات کے اضافے کا سفر نہیں بلکہ وجود کی تبدیلی کا سفر ہے۔ آغاز میں انسان سوال کرتا ہے؛ پھر علم اسے حق کے قریب لاتا ہے؛ عقل اسے غور کرنا سکھاتی ہے؛ وحی اسے میزان دیتی ہے؛ فطرت حق کی طرف متوجہ کرتی ہے؛ ایمان دل کو بدلتا ہے؛ عمل اس تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے؛ اخلاص اسے اللہ کے لیے خالص کرتا ہے؛ تزکیہ باطن کو صاف کرتا ہے؛ اخلاق اس نور کو کردار میں منتقل کرتے ہیں؛ محبت تعلق کو زندہ رکھتی ہے؛ خوف اسے حدود سے بچاتا ہے؛ امید اسے گرنے کے بعد اٹھاتی ہے؛ دعا اسے اپنے رب سے جوڑے رکھتی ہے؛ استقامت اسے راستے پر قائم رکھتی ہے؛ اور حفاظت اسے دوبارہ اندھیروں میں لوٹنے سے بچاتی ہے۔

پھر یہ نور فرد تک محدود نہیں رہتا۔ ہدایت یافتہ انسان ہدایت یافتہ گھر بناتا ہے، ہدایت یافتہ گھر ہدایت یافتہ نسل تیار کرتا ہے، اور ہدایت یافتہ نسل صالح معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ اس طرح ہدایت ایک شخص کے باطن سے نکل کر خاندان، معاشرت اور تہذیب تک اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن اس پورے سفر کا مرکز انسان نہیں، اللہ ہے؛ منزل محض بہتر شخصیت بننا نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ قرآن نے انسان کو جس راستے کی طرف بلایا وہ صرف اندھیروں سے نکلنے کا راستہ نہیں بلکہ نور کی طرف مسلسل بڑھنے کا راستہ ہے: ﴿اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾۔

اور یہی اس پورے انسانی سفر کی تکمیل ہے: جہالت سے علم تک، علم سے فہم تک، فہم سے ایمان تک، ایمان سے عمل تک، عمل سے تزکیہ تک، تزکیہ سے اخلاق تک، اخلاق سے اصلاح تک، اصلاح سے استقامت تک، اور استقامت سے قربِ الٰہی تک۔ انسان کا کمال یہ نہیں کہ وہ کبھی اندھیرے سے واقف ہی نہ ہوا ہو؛ کمال یہ ہے کہ جب اسے نور دکھائی دے تو وہ اس کی طرف چل پڑے، راستے میں گر جائے تو اٹھے، بھٹکے تو واپس آئے، کامیاب ہو تو عاجز رہے، آزمائش میں ثابت قدم رہے اور آخر تک اپنے رب سے ہدایت مانگتا رہے۔

﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ صرف ایک دعا نہیں؛ یہ مومن کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ ہدایت مل جانا منزل نہیں، ہدایت پر قائم رہنا بھی مطلوب ہے؛ اور ہدایت پر قائم رہنا محض ذاتی نجات نہیں، بلکہ اپنے وجود کو خیر، اپنے گھر کو سکون، اپنے معاشرے کو عدل اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنا دینا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جہالت کے اندھیرے پیچھے رہ جاتے ہیں، انسان کے اندر علم کا چراغ جلتا ہے، ایمان کا نور راستہ روشن کرتا ہے، عمل اس نور کو حقیقت بناتا ہے، اور انسان اپنے رب کی طرف بڑھتے ہوئے اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ اصل روشنی دنیا کی آنکھوں کو دکھائی دینے والی روشنی نہیں؛ اصل نور وہ ہدایت ہے جو انسان کے دل، فکر، کردار اور پوری زندگی کو اللہ کی طرف موڑ دے۔