پلوٹو پر ایک سال زمین کے تقریباً 248 سالوں کے برابر ہوتا ہے، یعنی پلوٹو کو سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرنے میں 248 زمینی سال لگتے ہیں۔ کائنات کے اس بونے سیارے کا مدار سورج سے انتہائی دور ہے، جس کی وجہ سے اسے نظامِ شمسی کا ایک چکر لگانے کے لیے ایک طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ پلوٹو سورج سے اوسطاً 5.9 ارب کلومیٹر دور ہے، اس لیے وہاں سورج کی روشنی اور کششِ ثقل دونوں زمین کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ 1930 میں اپنی دریافت کے بعد سے اب تک پلوٹو نے سورج کے گرد اپنا ایک چکر بھی مکمل نہیں کیا ہے، اور وہ اپنی دریافت کے بعد سے اب تک کے پہلے سال کا چکر سنہ 2178 میں جا کر مکمل کرے گا۔
پلوٹو کا یہ طویل سال اور اس کا بیضوی مدار وہاں کے موسموں کو انتہائی شدید اور انوکھا بناتا ہے۔ اپنے 248 سالہ سفر کے دوران، جب پلوٹو سورج کے قریب ترین نقطے پر آتا ہے، تو اس کی سطح پر جمی نائٹروجن اور میتھین گیسیں پگھل کر ایک عارضی ماحول بنا لیتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ سورج سے دور مہیب اندھیروں کی طرف بڑھتا ہے، یہ ماحول دوبارہ جم کر برف کی شکل میں سطح پر گر جاتا ہے اور وہاں صدیوں پر محیط طویل اور شدید سردی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ پلوٹو کے اس سست رفتار سال کے برعکس، وہاں اپنے محور پر ایک چکر (یعنی ایک دن کا دورانیہ) زمین کے تقریباً 6.4 دنوں کے برابر ہوتا ہے۔