کیا صرف مسلمان گھرانے میں پیدا ہو جانا اس بات کے لیے کافی ہے کہ میں اپنے آپ کو مسلمان کہوں؟ یا مجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میں اسلام پر ایمان کیوں رکھتا ہوں، اسے اپنا دین کیوں مانتا ہوں، اور اس نعمت کی حفاظت کیسے کر سکتا ہوں؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو بظاہر بہت سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر انسان سنجیدگی سے اس پر غور کرے تو اسے اپنے ایمان، اپنی زندگی اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
اصل بات صرف یہ جاننا نہیں کہ میں مسلمان ہوں، بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ میرے مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے، میں اسلام پر کیوں ایمان رکھتا ہوں، اور اس ایمان پر ثابت قدم کیسے رہ سکتا ہوں؟
بلاشبہ، اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان گھرانوں میں پیدا فرمایا۔ ہم نے بچپن ہی سے کلمۂ توحید سنا، قرآن مجید کی تلاوت سنی، نماز سیکھی اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہوئے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی، اور ایسے نیک اعمال کروں جنہیں تو پسند فرمائے، اور میری اولاد میں بھی میرے لیے صلاح و خیر پیدا فرما۔ بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور یقیناً میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
(سورۃ الاحقاف: 15)
لیکن جب میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میں مسلمان کیوں ہوں؟ تو کیا میرا یہ جواب کافی ہے کہ میرے والدین مسلمان ہیں؟
یقیناً والدین اور ماحول وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے اسلام ہم تک پہنچا، لیکن ایمان کی حقیقت محض خاندانی نسبت تک محدود نہیں۔ اسلام کوئی ایسی موروثی شناخت نہیں جو صرف نام یا خاندان کے ساتھ وابستہ ہو، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے، اس کی وحدانیت کو تسلیم کرنے اور اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔
ایک شخص غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہو کر حق کی تلاش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اسلام کی ہدایت عطا فرما دیتا ہے۔ دوسری طرف ایک شخص مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے دین کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہ کرے تو ممکن ہے کہ اسلام اس کی زندگی میں صرف ایک سماجی شناخت یا بچپن سے چلی آنے والی عادت بن کر رہ جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے ایمان پر غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
🌸 اسلام کسی قوم، نسل یا وطن کا نام نہیں
میں صرف اس لیے مسلمان نہیں کہ میں کسی مسلم ملک میں پیدا ہوا، کسی مسلمان قوم سے تعلق رکھتا ہوں، یا میرے والدین مسلمان ہیں۔
اسلام اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دین ہے، جو کسی خاص قوم، زبان، رنگ یا نسل تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، اسی اللہ کا جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ پس اللہ اور اس کے رسول، نبی اُمّی پر ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پا سکو۔
(سورۃ الاعراف: 158)
رسول اللہ ﷺ نے بھی واضح فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا معیار نہ خاندان ہے، نہ رنگ، نہ زبان اور نہ ہی وطن، بلکہ ایمان اور تقویٰ ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔
(سورۃ الحجرات: 13)
لہٰذا، اسلام پر فخر کرنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
✨ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب کیا ہے؟
جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو میں صرف اپنی شناخت بیان نہیں کرتا، بلکہ ایک عظیم عقیدے کا اقرار کرتا ہوں۔
میں مسلمان ہوں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنا رب، خالق اور مالک مانتا ہوں۔ میں ایمان رکھتا ہوں کہ اللہ ایک ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
میں اللہ کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان رکھتا ہوں۔
میں قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی و رسول تسلیم کرتا ہوں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ ﷺ کی تعلیمات انسانیت کے لیے ہدایت ہیں، اور میری کامیابی اسی میں ہے کہ میں آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول کروں اور اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کروں۔
پس اسلام میرے لیے محض والدین سے ملنے والی شناخت نہیں، بلکہ وہ عقیدہ ہے جسے میں دل سے تسلیم کرتا ہوں، وہ راستہ ہے جس پر چلنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور وہ نعمت ہے جس پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔
📖 کیا ہمیں اپنے دین کے بارے میں جاننا ضروری نہیں؟
اگر اسلام اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے تو اس نعمت کا شکر صرف زبان سے ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنے دین کی بنیادی تعلیمات سیکھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔
ہر عاقل و بالغ مسلمان کے لیے اپنے عقیدے کی بنیادی باتوں کو جاننا ضروری ہے۔ اسے اپنے رب کی معرفت حاصل کرنی چاہیے، اس کی وحدانیت اور صفاتِ کمال کو سمجھنا چاہیے، اور ان باتوں کا علم حاصل کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہیں اور جن سے وہ پاک ہے۔ اسی طرح انبیائے کرام علیہم السلام کے مقام و مرتبے اور ان کی سچائی کو جاننا بھی ضروری ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر مسلمان فلسفی بنے، علمِ کلام کی باریکیوں میں مہارت حاصل کرے یا ہر بحث و مناظرے میں حصہ لے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ایمان کی بنیادوں سے واقف ہو، اپنے رب کو پہچانے، اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات کو سمجھے اور صحیح عقیدے کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔
ہم جس رب کی عبادت کرتے ہیں، اس کی معرفت حاصل کرنا ہمارے لیے کتنی اہم بات ہے! جب ہم اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کو جانتے ہیں تو اس کی محبت، اس کا خوف، اس سے امید اور اس پر توکل ہمارے دلوں میں مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
اسی لیے ایک مسلمان کو وراثت میں ملنے والے اسلام سے آگے بڑھ کر علم حاصل کرنا چاہیے، علم سے اپنے یقین کو مضبوط کرنا چاہیے اور پھر اس یقین کو اپنے اعمال میں ظاہر کرنا چاہیے۔
🌿 وراثت سے شعور اور شعور سے عمل تک
مجھے اسلام اپنے خاندان سے ملا، یہ میرے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ لیکن اب میری ذمہ داری ہے کہ میں اس نعمت کو سمجھوں، اس کی قدر کروں اور اسے اپنے کردار کا حصہ بناؤں۔
میں نے بچپن میں کلمہ پڑھا، اب مجھے اس کے مفہوم کو سمجھنا چاہیے۔
میں نے بچپن سے قرآن مجید سنا، اب مجھے اس کی آیات میں غور و فکر کرنا چاہیے۔
میں نے نماز پڑھنا سیکھی، اب مجھے کوشش کرنی چاہیے کہ میری نماز میرے اخلاق، معاملات اور کردار کو بھی بہتر بنائے۔
میں نے سنا کہ اللہ میرا رب ہے، اب مجھے اپنی زندگی میں اس کی بندگی اور اطاعت کو اہمیت دینی چاہیے۔
میں نے سنا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اب مجھے آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا، آپ ﷺ سے محبت کرنا اور آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾
ترجمہ: کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟
(سورۃ محمد: 24)
ترجمہ: عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔
(سورۃ فصلت: 53)
اسلام ہمیں غور و فکر سے نہیں روکتا، بلکہ قرآن میں تدبر کرنے، کائنات میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو پہچاننے اور حق کو سمجھ کر اس کی پیروی کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔
(سورۃ البقرہ: 111)
اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہر مسلمان دلیلوں اور مناظروں کا ماہر بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ انسان سچے دل سے ایمان لائے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق کرے، وحی کی ہدایت کو قبول کرے اور اپنے علم و یقین میں اضافے کی کوشش کرتا رہے۔
🌍 اسلام زندگی کے بنیادی سوالات کے جواب دیتا ہے
میں مسلمان کیوں ہوں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے مجھے زندگی کے چند بنیادی سوالات پر بھی غور کرنا چاہیے:
میں کہاں سے آیا ہوں؟ مجھے دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے؟ اور آخرکار مجھے کہاں لوٹ کر جانا ہے؟
اسلام مجھے بتاتا ہے کہ میری زندگی بے مقصد نہیں، میرا وجود محض اتفاق نہیں، اور میری دنیاوی زندگی ہی سب کچھ نہیں۔ مجھے ایک دن اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾
ترجمہ: کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی بے مقصد چھوڑ دیا جائے گا؟
(سورۃ القیامۃ: 36)
ترجمہ: اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
(سورۃ الذاریات: 56)
اسلام مجھے زندگی کا مقصد سمجھاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے میرا تعلق واضح کرتا ہے، اچھے اور برے میں فرق سکھاتا ہے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دلاتا ہے۔
یہ صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل راستہ ہے، جو انسان کو اپنے رب، اپنے نفس، دوسرے انسانوں اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
💚 کیا تفصیلی دلائل جاننا ایمان کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے؟
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اپنے ایمان کو سمجھنے اور اس کی بنیادوں کا علم حاصل کرنے کی دعوت کا یہ مطلب نہیں کہ جو مسلمان مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ہے، اس کا ایمان اس وقت تک درست نہیں جب تک وہ عقیدے کے تمام تفصیلی عقلی دلائل نہ جان لے۔
جو شخص اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور ایمان کے بنیادی عقائد کی سچے دل سے تصدیق کرتا ہے، اس کے لیے عقیدے کی تمام باریکیوں اور فلسفیانہ بحثوں کا ماہر ہونا شرط نہیں۔
ہر مسلمان کا مناظر یا فلسفی ہونا ضروری نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ وہ سچا ایمان رکھے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق کرے، حق کو قبول کرے، اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرے اور دین کا ضروری علم حاصل کرتا رہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام ہمیں وراثت میں ملا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کہیں ہم اسے وراثت میں پا کر اس کی حقیقت سے غافل تو نہیں ہو گئے؟
ایک شخص کہتا ہے: ’’میں مسلمان ہوں کیونکہ میرے والدین مسلمان ہیں۔‘‘
دوسرا شخص کہتا ہے: ’’میرے والدین کا مسلمان ہونا اللہ کی نعمت ہے، لیکن میں خود بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں، اس کے رسول ﷺ کی تصدیق کرتا ہوں، اسلام کو اپنا دین تسلیم کرتا ہوں اور اللہ سے اس پر ثابت قدمی کی دعا مانگتا ہوں۔‘‘
دونوں جملوں میں فرق یہ ہے کہ پہلا اپنے ماحول کا ذکر کرتا ہے، جبکہ دوسرا اپنے ایمان اور اس کے ساتھ اپنی ذمہ داری کا اظہار کرتا ہے۔
🌸 میں نے اپنے اسلام کے ساتھ کیا کیا؟
یہاں آ کر سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ اب بات صرف یہ نہیں رہتی کہ میں مسلمان کیوں پیدا ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام جیسی نعمت عطا فرمائی تو میں نے اس نعمت کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟
کیا میں نے اپنے رب کو پہچاننے کی کوشش کی؟
کیا میرے علم اور ایمان میں اضافہ ہوا؟
کیا میرے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت بڑھی؟
کیا میری نماز نے میرے کردار اور معاملات پر اچھا اثر ڈالا؟
کیا میں نے قرآن مجید کو اپنی زندگی کے لیے رہنما بنایا؟
کیا میں تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہوں، یا میری نیکی صرف لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتی ہے؟
کیا میں نے دوسروں کے حقوق ادا کرنے، سچ بولنے، امانت کی حفاظت کرنے اور اپنے اخلاق بہتر بنانے کی کوشش کی؟
یہ سوالات ہمیں اپنی اصلاح کا موقع دیتے ہیں۔ ایمان صرف زبان سے کلمہ ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اثرات انسان کے دل، زبان، کردار اور اعمال میں بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان سے کبھی غلطی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو پہچانے، توبہ کرے، اصلاح کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید وابستہ رکھے۔
🤲 میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوں
جب میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ میں مسلمان کیوں ہوں تو میرا جواب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔
بلکہ مجھے یہ شعور ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی نعمت عطا فرمائی، میں اس کی وحدانیت پر ایمان رکھتا ہوں، حضرت محمد ﷺ کو اس کا رسول مانتا ہوں، آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی تصدیق کرتا ہوں اور اسلام کو اپنے دین کے طور پر قبول کرتا ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے ایمان کو مضبوط کرے، میرے علم میں اضافہ فرمائے، میرے دل کو حق پر قائم رکھے اور مجھے زندگی کے آخری لمحے تک اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام محض نام اور سماجی وابستگی سے آگے بڑھ کر زندگی کی عملی حقیقت بنتا ہے: دل میں ایمان، زبان سے اقرار، اعمال میں اخلاص، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور نیکی پر استقامت۔
اسلام کا وراثت میں ملنا کوئی عیب نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ لیکن اس نعمت کا تقاضا ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس پر شکر ادا کریں اور اپنی زندگیوں میں اس کی تعلیمات کو جگہ دیں۔
وراثت ہمیں شروعات فراہم کرتی ہے، علم ہمیں شعور دیتا ہے، شعور ہمارے یقین کو مضبوط کرتا ہے اور ایمان ہمیں عمل اور بندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
⚠️ موروثی اسلام کا سب سے بڑا خطرہ
انسان کے لیے ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ صرف اپنے مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے پر مطمئن ہو جائے، اپنے نام اور نسب کو کافی سمجھے اور اپنے دین کو سیکھنے، اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کی کوشش چھوڑ دے۔
ہمیں اپنے خاندانی پس منظر پر غرور کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ کوئی شخص اپنے انجام کے بارے میں بے فکر نہیں ہو سکتا، اسی لیے ایک مومن ہمیشہ اللہ کی ہدایت اور ثابت قدمی کا محتاج رہتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔‘‘
اسی لیے ہمیں اپنے موجودہ ایمان پر غرور کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ مانگنا چاہیے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اہلِ ایمان کی یہ دعا سکھاتا ہے:
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دینا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرمانا، بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔
(سورۃ آل عمران: 8)
ایک مسلمان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ اسلام کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، دین کو سیکھے، اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرے اور ہمیشہ ثابت قدمی کی دعا مانگتا رہے۔
آخر میں، جب میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ ’’میں مسلمان کیوں ہوں؟‘‘ تو میرے لیے جواب صرف یہ نہیں کہ میرے والدین مسلمان ہیں، میں ایک مسلم معاشرے میں پیدا ہوا یا میرا تعلق کسی مسلمان قوم سے ہے۔
یہ سب وہ اسباب ہیں جن کے ذریعے مجھے اسلام ملا، اور ان پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ لیکن میرے ایمان کی بنیاد یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنا رب اور معبود مانتا ہوں، حضرت محمد ﷺ کو اس کا رسول تسلیم کرتا ہوں، آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی تصدیق کرتا ہوں اور اسلام کو اپنا دین قبول کرتا ہوں۔
اب میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافہ کروں، اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کروں، اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بناؤں اور اس نعمت پر ثابت قدم رہنے کی کوشش کروں۔
مجھے اسلام وراثت میں ملا، اس پر اللہ کا شکر ہے؛ اب مجھے اس وراثت کو شعور، یقین، عمل اور استقامت میں بدلنا ہے۔
اور آخرکار سب سے اہم سوال شاید یہ نہیں کہ میں مسلمان کیوں پیدا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ:
کیا میں نے مسلمان ہونے کی ذمہ داری کو سمجھا؟ کیا میں نے اس نعمت کی قدر کی؟ کیا میں نے اپنی زندگی کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کی؟
آئیے! آج ہم اپنے دلوں میں جھانکیں، اپنے ایمان کا جائزہ لیں، دین کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنے دین پر قائم رکھے۔
🤲 اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں کہ تو نے ہمیں اسلام کی نعمت عطا فرمائی اور ایمان کی روشنی سے نوازا۔ اے اللہ! ہمارے علم، ایمان اور یقین میں اضافہ فرما، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنا، قرآن و سنت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں حضرت محمد ﷺ کی سچی محبت اور پیروی نصیب فرما۔
اے ہمارے رب! ہمارا خاتمہ ایمان اور اسلام پر فرما، ہمیں حق پر ثابت قدم رکھ اور اپنی رحمت سے ہمیں اس حال میں اپنے پاس بلا کہ ہم تیرے دین پر قائم ہوں۔