پی سی او ایس: خواتین میں ہارمونل عدم توازن کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟
تحریر: کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر کرن خالد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ پی سی او ایس: خواتین میں ہارمونل عدم توازن کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟۔۔۔ تحریر: کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر کرن خالد)خواتین میں ہارمونز کا توازن صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہارمونز میں ہونے والی بے قاعدگی ماہواری، جلد، بالوں، وزن اور تولیدی صحت سمیت جسم کے مختلف نظاموں کو متاثر کر سکتی ہے۔ پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) ایسی ہی ایک عام ہارمونل اور میٹابولک کیفیت ہے، جس کا سامنا بہت سی خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔
پی سی او ایس کیا ہے؟
PCOS ایک ایسی طبی کیفیت ہے جس میں ہارمونز، ماہواری اور بیضہ دانی سے انڈے کے اخراج یعنی اوویولیشن میں بے قاعدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض خواتین میں اینڈروجن، جنہیں عام طور پر مردانہ ہارمونز کہا جاتا ہے، کی سطح یا ان کے اثرات معمول سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ PCOS محض بیضہ دانی میں سسٹ بننے کا نام نہیں۔ بہت سی خواتین میں الٹراساؤنڈ کے دوران بیضہ دانی میں متعدد چھوٹے فولیکلز نظر آ سکتے ہیں، جو دراصل نشوونما پانے والے انڈوں سے متعلق ساختیں ہوتی ہیں۔ انہیں عام معنوں میں سسٹ سمجھنا درست نہیں۔
PCOS کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جن میں انسولین کے خلاف مزاحمت، ہارمونل عدم توازن، موروثی عوامل اور جسمانی وزن سے متعلق عوامل شامل ہیں۔ تاہم ہر مریضہ میں اس کی وجہ اور علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
پی سی او ایس کی عام علامات
PCOS کی علامات ہر خاتون میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ عام علامات میں درج ذیل شامل ہیں:
1۔ ماہواری میں بے قاعدگی
ماہواری کا دیر سے آنا، کئی ہفتوں یا مہینوں تک نہ آنا، یا بعض اوقات معمول سے زیادہ یا کم خون آنا اس کی عام علامات میں شامل ہو سکتا ہے۔
2۔ جسم اور چہرے پر غیر معمولی بالوں کی افزائش
اینڈروجن کے زیادہ اثر کی وجہ سے چہرے، ٹھوڑی، سینے یا جسم کے بعض حصوں پر غیر معمولی طور پر زیادہ بال آ سکتے ہیں۔ اسے ہیرسوٹزم (Hirsutism) کہا جاتا ہے۔
3۔ مہاسے اور چکنی جلد
ہارمونز میں تبدیلی کے باعث چہرے پر مہاسے، جلد کا زیادہ چکنا ہونا یا ایکنی کی شکایت ہو سکتی ہے۔
4۔ وزن میں اضافہ یا وزن کم کرنے میں دشواری
کچھ خواتین میں وزن بڑھ سکتا ہے یا وزن کم کرنا نسبتاً مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ تاہم ہر PCOS مریضہ کا وزن زیادہ ہونا ضروری نہیں۔
5۔ سر کے بالوں کا پتلا ہونا
اینڈروجن کے اثرات کے باعث بعض خواتین کے سر کے بال پتلے ہونے یا جھڑنے کی شکایت بھی سامنے آ سکتی ہے۔
6۔ حمل ٹھہرنے میں دشواری
اوویولیشن میں بے قاعدگی کی وجہ سے بعض خواتین کو حاملہ ہونے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم PCOS کا مطلب بانجھ پن نہیں ہے؛ مناسب تشخیص اور علاج کے ذریعے بہت سی خواتین کامیابی سے حاملہ ہوتی ہیں۔
7۔ ذہنی دباؤ اور جذباتی مسائل
PCOS کے ساتھ بعض خواتین میں ذہنی دباؤ، بے چینی یا موڈ سے متعلق مسائل بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسے مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا چاہیے۔
PCOS صرف ماہواری کا مسئلہ نہیں
PCOS کو صرف ماہواری کی بے قاعدگی تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ بعض خواتین میں یہ کیفیت جسم کے میٹابولک نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے اور انسولین کے خلاف مزاحمت، خون میں شوگر کے بڑھنے، ٹائپ 2 ذیابیطس اور خون میں چکنائی کے مسائل کے خطرے سے منسلک ہو سکتی ہے۔
اسی لیے PCOS کی تشخیص کے بعد صرف ماہواری کو معمول پر لانا ہی کافی نہیں، بلکہ مجموعی صحت، وزن، بلڈ شوگر اور دیگر متعلقہ عوامل کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
PCOS کی تشخیص کسی ایک علامت یا صرف الٹراساؤنڈ کی بنیاد پر نہیں کی جاتی۔ ڈاکٹر عموماً مریضہ کی علامات، ماہواری کی تاریخ، جسمانی معائنے، ضرورت کے مطابق ہارمونز کے ٹیسٹ اور بعض صورتوں میں الٹراساؤنڈ کو سامنے رکھتے ہوئے تشخیص کرتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی دوسری طبی وجوہات کو خارج کیا جائے جو ماہواری کی بے قاعدگی یا ہارمونز میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہیں۔
علاج اور طرزِ زندگی
PCOS کا علاج ہر خاتون کی علامات اور ضروریات کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ علاج کا مقصد ماہواری کو منظم کرنا، ہارمونل علامات کو کم کرنا، میٹابولک صحت بہتر بنانا اور، اگر ضرورت ہو، حمل کے امکانات کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔
متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور صحت مند وزن برقرار رکھنا علاج کا اہم حصہ ہو سکتا ہے۔ بعض خواتین کو ڈاکٹر ہارمونل ادویات، انسولین سے متعلق ادویات یا حمل کے حصول کے لیے مخصوص علاج بھی تجویز کر سکتے ہیں۔
بروقت تشخیص اہم ہے
ماہواری میں مسلسل بے قاعدگی، چہرے یا جسم پر غیر معمولی بالوں کی افزائش، شدید ایکنی، بالوں کا غیر معمولی جھڑنا یا حمل ٹھہرنے میں دشواری کو محض معمولی ہارمونل مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات کی صورت میں ماہرِ امراضِ نسواں سے مشورہ اور مناسب تشخیص ضروری ہے۔
PCOS ایک قابلِ انتظام طبی کیفیت ہے۔ درست تشخیص، مناسب علاج اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے اس کی علامات اور اس سے وابستہ صحت کے خطرات کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے۔