مریخ پر 1,800 کلومیٹر لمبا بادل ہر صبح کیسے بنتا ہے؟ — ایک حیرت انگیز سائنسی راز
تحقیق و ترتیب طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)تصور کیجیے کہ آپ مریخ کے گرد گردش کرتے ہوئے کسی خلائی جہاز کی کھڑکی سے نیچے دیکھ رہے ہیں۔ نیچے سرخ چٹانیں، لق و دق میدان، گہری وادیاں اور آسمان کو چھوتے ہوئے دیو ہیکل پہاڑ پھیلے ہوئے ہیں۔
اچانک مریخ کے ایک عظیم الشان آتش فشاں کے دامن سے سفید رنگ کی ایک انتہائی باریک لکیر نمودار ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ لکیر پھیلنے لگتی ہے اور چند ہی گھنٹوں میں اس کی لمبائی سینکڑوں کلومیٹر سے بڑھ کر تقریباً 1,800 کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔
پھر جیسے ہی سورج چڑھتا ہے اور دوپہر کی تپش بڑھتی ہے، یہ پراسرار سفید پٹی آہستہ آہستہ گھل کر غائب ہو جاتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مریخ کے مخصوص موسم میں ہر اگلی صبح بالکل اسی مقام پر یہی حیرت انگیز منظر دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔
یہ کسی آتش فشاں کا زہریلا دھواں نہیں اور نہ ہی مریخ پر اٹھنے والا مٹی کا کوئی عام طوفان ہے۔ یہ دراصل مریخ کی فضا میں معلق پانی کی جمی ہوئی برف کا ایک انتہائی لمبا بادل ہے۔
7 اکتوبر 2026 کو ممتاز سائنسی جریدے نیچر جیو سائنس (Nature Geoscience) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے اس بادل کے بننے کا ایسا سائنسی راز کھولا ہے جس نے دوسرے سیاروں کے موسمیاتی نظام کے بارے میں ماہرین کے پرانے مفروضوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مریخ کے آسمان پر یہ دیو ہیکل بادل آخر کہاں جنم لیتا ہے؟
یہ طویل بادل مریخ کے خطِ استوا کے قریب واقع ایک بے پناہ اونچے اور قدیم آتش فشاں آرسیا مونس (Arsia Mons) کے اردگرد بنتا ہے۔
آرسیا مونس مریخ کے تھارسس (Tharsis) نامی آتش فشانی خطے کا حصہ ہے، جس کی اونچائی تقریباً 20 کلومیٹر یعنی زمین کے ماؤنٹ ایورسٹ سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس پہاڑ کی اتنی بڑی جسامت مریخ کی پوری فضائی گردش کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔
اسی فلک بوس پہاڑ کی چوٹی سے ہر صبح سفید بادل تیزی کے ساتھ مغرب کی سمت پھیلتا ہے۔ سائنس کی اصطلاح میں اسے آرسیا مونس کا طویل بادل یعنی آرسیا مونس ایلونگیٹڈ کلاؤڈ (Arsia Mons Elongated Cloud) کہا جاتا ہے، جسے مختصراً اے ایم ای سی (AMEC) کا نام دیا گیا ہے۔
یورپی خلائی ادارے ایسا (ESA) کے خلائی جہاز مارس ایکسپریس (Mars Express) نے اپنے ہائی ریزولیوشن کیمروں سے کئی سالوں تک اس بادل کے روزانہ نمودار ہونے، پھیلنے اور مٹ جانے کے چکر کو باریک بینی سے ریکارڈ کیا ہے۔
کیا یہ کسی آتش فشاں کا دھواں ہے؟
جب پہلی بار اس کی خلائی تصاویر سامنے آئیں تو ایسا لگا جیسے آرسیا مونس آتش فشاں دوبارہ جاگ اٹھا ہے اور راکھ اگل رہا ہے۔ لیکن ارضیاتی تحقیق نے ثابت کیا کہ یہ آتش فشاں کروڑوں سالوں سے خاموش ہے۔
یہ بادل دراصل ایک پہاڑی بادل یعنی اوروگرافک کلاؤڈ (Orographic Cloud) ہے۔ جب ہوا کسی بہت بلند پہاڑ کی ڈھلوان سے ٹکراتی ہے تو وہ مجبوراً اوپر کی طرف چڑھتی ہے۔ بلندی پر جانے سے ہوا پھیلتی ہے، اس کا درجہ حرارت تیزی سے گرتا ہے اور اس کے اندر موجود نمی ٹھنڈی ہو کر بادل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
زمین پر مٹی اور گرد کے بغیر بادل کیوں نہیں بن سکتے؟
زمین پر بادل بننے کے لیے ہوا میں موجود آبی بخارات کو مائع قطروں یا برف کے ذرات میں بدلنے کے لیے کسی ٹھوس سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سہارا فضا میں تیرتے ہوئے نمک کے ذرات، راکھ یا باریک مٹی فراہم کرتے ہیں جن پر نمی جمنا شروع ہوتی ہے۔
سائنس کی زبان میں اس عمل کو غیر یکساں مرکزہ سازی یعنی ہیٹروجینئس نیوکلیئیشن (Heterogeneous Nucleation) کہتے ہیں۔
لیکن مریخ کے اس 1800 کلومیٹر لمبے بادل کے سامنے پرانے سائنسی ماڈلز ناکام ہو رہے تھے۔ جب سائنس دانوں نے عام روایتی اصولوں کے تحت کمپیوٹر میں مریخ کے گرد و غبار کے ذرات پر برف جمنے کا حسابی ماڈل بنایا، تو کمپیوٹر اس بادل کی اتنی زیادہ لمبائی، اس کی شاندار شفافیت اور محض چند گھنٹوں میں اتنی تیز رفتاری سے بننے کی سائنسی وضاحت پیش کرنے سے بالکل قاصر رہا۔
اکتوبر 2026 کی تحقیق کا بڑا انکشاف — یکساں مرکزہ سازی کا عمل
معروف محقق ہرنانڈیز برنال (Hernández-Bernal) اور ان کی سائنسی ٹیم نے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے کمپیوٹر ماڈل میں برف بننے کا ایک بالکل نیا اصول شامل کیا جسے یکساں برفانی مرکزہ سازی یعنی ہوموجینئس آئس نیوکلیئیشن (Homogeneous Ice Nucleation) کہا جاتا ہے۔
اس عمل کی خاص بات یہ ہے کہ پانی کے بخارات کو برف بننے کے لیے مٹی یا گرد کے کسی بیرونی ذرے کے سہارے کی قطعی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ پانی کے اپنے ہی مالیکیول اتنی شدت سے ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ وہ خود بخود آپس میں جڑ کر برف کے ننھے کرسٹل بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
لیکن ایسا خودکار عمل عام حالات میں ناممکن ہوتا ہے۔ اس کے لیے دو کٹھن شرائط درکار ہوتی ہیں:
اول یہ کہ فضا میں پانی کے بخارات کا دباؤ اپنی قدرتی حد سے بہت زیادہ ہو جائے، جسے فوق اشباعی کیفیت یا سپر سیچوریشن (Supersaturation) کہتے ہیں۔
اور دوم یہ کہ درجہ حرارت پلک جھپکتے میں ناقابلِ تصور حد تک نیچے گر جائے۔
صرف دس منٹ میں 30 ڈگری سینٹی گریڈ کی برفیلی گراوٹ
یہ حیرت انگیز معجزہ آرسیا مونس کی 20 کلومیٹر اونچی چوٹی کے باعث ہی ممکن ہوتا ہے۔
جب مریخ کی ہوائیں اس دیو ہیکل پہاڑ سے ٹکراتی ہیں تو فضا میں لہروں کا زبردست ارتعاش پیدا ہوتا ہے جنہیں فضائی کششِ ثقل کی لہریں یعنی ایٹموسفیرک گریویٹی ویوز (Atmospheric Gravity Waves) کہتے ہیں۔ یہ لہریں مریخ کی ہوا کو ایک جھٹکے کے ساتھ سیدھا آسمان کی بلندیوں میں پھینک دیتی ہیں۔
یورپی خلائی ایجنسی کے تازہ ترین موسمی ماڈلز نے انکشاف کیا کہ اس غیر معمولی جھٹکے سے ہوا کا درجہ حرارت محض دس منٹ کے اندر 30 ڈگری سینٹی گریڈ گر جاتا ہے۔
اس اچانک اور شدید ٹھنڈک کے نتیجے میں پانی کے بخارات کو مٹی کا سہارا تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، بلکہ پانی کے مالیکیول خودبخود ایک دوسرے سے لپٹ کر برف کے اربوں ننھے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور لمحوں میں ایک گھنا برفانی بادل وجود میں آ جاتا ہے۔
بادل 1,800 کلومیٹر لمبا کیسے ہو جاتا ہے؟
پہاڑ کی چوٹی پر برف کے اس سفید کارخانے سے جیسے ہی بادل بنتا ہے، مریخ کی بالائی فضا کی تیز رفتار ہوائیں ان برفانی ذرات کو اڑا کر مغرب کی جانب سینکڑوں میل دور دھکیل دیتی ہیں۔
پہاڑ کے دہانے پر نیچے سے تازہ نمی مسلسل اوپر چڑھ کر نیا بادل بناتی رہتی ہے جبکہ پرانا حصہ ہوا کے دوش پر آگے سفر کرتا رہتا ہے۔ اس مسلسل بہاؤ کے نتیجے میں مریخ کے آسمان پر ایک نہ ختم ہونے والی 1,800 کلومیٹر لمبی سفید لکیر کھنچ جاتی ہے جو کراچی سے لاہور تک کے فاصلے سے بھی کہیں زیادہ طویل بنتی ہے۔
پھر جیسے ہی دن کے وقت مریخ کی سطح پر سورج کی روشنی پڑتی ہے اور درجہ حرارت بڑھتا ہے، تو یہ برفیلا بادل دوبارہ بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے، اور آسمان بالکل صاف ہو جاتا ہے۔
سائنسی توازن اور اس دریافت کی وسعت
یہاں علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ یہ واضح رہے کہ سائنس دانوں نے مریخ پر بیٹھ کر انفرادی مالیکیولز کو برف بنتے ہوئے آنکھ سے نہیں دیکھا، بلکہ جدید ترین سیٹلائٹ مشاہدات اور موسمی کمپیوٹر ماڈلز کے ملاپ نے اس عمل کا ٹھوس ریاضیاتی ثبوت فراہم کیا ہے۔
یہ دریافت صرف مریخ تک محدود نہیں ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ سائنسی اصول زمین کے قطبین کی انتہائی بلندیوں، زہرہ (Venus) کے بادلوں اور نظامِ شمسی سے باہر دور دراز سیاروں کی فضاؤں میں بادل بننے کے طریقۂ کار کو سمجھنے کے لیے ایک انقلابی کلید ثابت ہوگا۔
قرآنی تدبر اور بادلوں کے دوش پر چلنے والی ہواؤں کا الٰہی نظام
ہم روزانہ زمین پر بادلوں کو دیکھتے ہیں لیکن کروڑوں کلومیٹر دور ایک سرخ، بنجر اور بظاہر بے جان سیارے کی فضا میں ہواؤں، پہاڑوں اور پانی کی اس محیر العقول ترتیب کو دیکھ کر انسان خالقِ کائنات کی کاریگری پر دنگ رہ جاتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالی قرآنِ مجید کی سورۃ النور کی آیت 43 میں بادلوں کے بننے، ان کے پہاڑوں سے جڑنے اور ہوا کے دوش پر ان کے پھیلائے جانے کے اس کائناتی اصول کو کتنے دل نشین انداز میں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادلوں کو چلاتا ہے، پھر ان کے ٹکڑوں کو آپس میں جوڑتا ہے، پھر انہیں تہہ بہ تہہ گھنا بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش نکلتی ہے، اور وہ آسمان سے، یعنی فضا میں پھیلے ہوئے بادلوں کے پہاڑوں سے اولے اور جمی ہوئی برف نازل فرماتا ہے۔
اسی طرح سورۃ الروم کی آیت 48 میں ہوائیں چلا کر فضا میں بادلوں کو میلوں دور پھیلانے کے اسی قانونِ قدرت کا اعلان کیا گیا ہے:
ترجمہ: اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، پس وہ بادل کو اٹھاتی ہیں، پھر وہ جس طرح چاہتا ہے اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے۔
یہ آیاتِ بینات کائنات کے اس عظیم اور یکساں قانون کو سامنے لاتی ہیں کہ چاہے ہماری اپنی زمین ہو یا دور دراز سیارہ مریخ، ہواؤں کا چلنا، بلند پہاڑوں کے اوپر بادلوں کا گھنا ہونا اور آسمان کی وسعتوں میں ان کا سینکڑوں میل تک پھیل جانا کسی اندھے حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اسی ایک قادرِ مطلق رب کا طے کردہ فلکیاتی و طبیعیاتی نظام ہے جو تمام جہانوں کا تنہا پروردگار ہے۔
حاصل کلام
مریخ کے آرسیا مونس پر ہر صبح طلوع ہونے والا 1,800 کلومیٹر لمبا برفیلا بادل نظامِ شمسی کے دلفریب ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔
اکتوبر 2026 کی یہ سائنسی پیش رفت واضح کرتی ہے کہ انتہائی کم درجہ حرارت اور پہاڑوں کی پیدا کردہ فضائی لہریں بغیر کسی گرد کے بھی پانی کو براہِ راست برف کے بادل میں بدل سکتی ہیں۔
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ہر گوشہ، ہر سیارہ اور ہر فضا اپنے اندر رب کے ایسے ان گنت قوانین سمیٹے ہوئے ہے جن کی تہیں جیسے جیسے کھلتی جا رہی ہیں، انسانی عقل اپنے خالق کی بے مثال کاریگری، تدبیر اور قدرت کے آگے مزید سربسجود ہوتی جا رہی ہے۔