حمل کے دوران آئرن کی کمی اور خون کی کمی: ماں اور بچے کی صحت کے لیے ایک اہم چیلنج۔۔۔۔تحریر کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر کرن خالد ۔

حمل کے دوران آئرن کی کمی اور خون کی کمی: ماں اور بچے کی صحت کے لیے ایک اہم چیلنج

تحریر کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر کرن خالد ۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔ تحریر کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر کرن خالد)متوازن غذا، بروقت تشخیص اور طبی مشورے کے ذریعے حمل کے دوران انیمیا کی پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہے

آئرن انسانی جسم کے لیے ایک نہایت اہم معدنی جزو ہے، جو ہیموگلوبن کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیات میں موجود وہ پروٹین ہے جو پھیپھڑوں سے آکسیجن جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے۔ جسم میں آئرن کی کمی ہیموگلوبن کی سطح کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خون کی کمی، یعنی انیمیا، پیدا ہو سکتا ہے۔ بالخصوص حمل کے دوران آئرن کی مناسب مقدار ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں خون کی کمی ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے خواتین اور بچے بڑی تعداد میں متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی خواتین، خصوصاً حاملہ خواتین، میں انیمیا ایک سنگین طبی مسئلہ ہے۔ مختلف مقامی مطالعات میں حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی بلند شرح رپورٹ کی گئی ہے، تاہم اس کی شرح علاقے، غذائی عادات اور تحقیق کے طریقۂ کار کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

حمل کے دوران خون کی کمی کیوں ہوتی ہے؟

حمل کے دوران بچے کی نشوونما اور ماں کے جسم میں خون کے حجم میں اضافے کے باعث آئرن کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اگر جسم کو مطلوبہ مقدار میں آئرن نہ ملے تو ہیموگلوبن کی سطح کم ہو سکتی ہے۔ اس کیفیت کے باعث حاملہ خاتون کو تھکاوٹ، کمزوری، چکر آنے اور سانس پھولنے جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حمل میں خون کی کمی کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔ ناقص غذائیت: آئرن، فولک ایسڈ اور وٹامن بی 12 سے بھرپور غذاؤں کا ناکافی استعمال خون کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

2۔ متلی اور قے: حمل کے ابتدائی مہینوں میں مسلسل متلی اور زیادہ قے کی وجہ سے مناسب غذا لینا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے غذائی اجزاء کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

3۔ غذائی اجزاء کے جذب میں خرابی: معدے اور آنتوں کی بعض بیماریاں جسم میں آئرن اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کے جذب کو متاثر کر سکتی ہیں۔

4۔ خون کا ضیاع: حمل کے دوران یا اس سے پہلے زیادہ خون بہنا جسم میں آئرن کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

5۔ دائمی بیماریاں: گردوں کی بیماریوں اور بعض دیگر دائمی طبی مسائل کے باعث بھی انیمیا پیدا ہو سکتا ہے۔

6۔ مسلسل حمل اور مختصر وقفہ: بار بار حمل ٹھہرنے یا بچوں کی پیدائش کے درمیان کم وقفہ ہونے سے جسم میں آئرن کے ذخائر بحال ہونے کے لیے مناسب وقت نہیں مل پاتا۔

حمل میں خون کی کمی کے ممکنہ نقصانات

حمل کے دوران آئرن کی شدید کمی نہ صرف ماں کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ بچے کی نشوونما کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کی اہم پیچیدگیاں درج ذیل ہیں:

– قبل از وقت پیدائش: خون کی کمی کی صورت میں بچے کی مقررہ وقت سے پہلے پیدائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

– کم وزن بچے کی پیدائش: انیمیا بچے کے پیدائشی وزن پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

– مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری: ماں کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور جسمانی مشقت برداشت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

– جنین کی نشوونما متاثر ہونا: شدید خون کی کمی بچے کی مناسب نشوونما کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

– انفیکشن کا بڑھتا ہوا خطرہ: خون کی کمی اور اس سے وابستہ غذائی مسائل ماں کی مجموعی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

– زچگی کے دوران پیچیدگیاں: شدید انیمیا کی صورت میں بچے کی پیدائش کے دوران خون ضائع ہونے کی صورت میں خطرات بڑھ سکتے ہیں اور بعض حالات میں خون کی منتقلی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

– ولادت کے بعد ذہنی صحت کے مسائل: خون کی کمی اور مسلسل کمزوری ولادت کے بعد ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

آئرن کی کمی کی علامات کو نظرانداز نہ کریں

جسم میں آئرن کی کمی کی علامات بعض اوقات بتدریج ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے انہیں معمول کی تھکاوٹ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

تھکاوٹ اور کمزوری: مناسب آرام کے باوجود تھکاوٹ محسوس ہونا انیمیا کی عام علامات میں شامل ہے۔

چکر آنا اور سردرد: ہیموگلوبن کی کمی کے باعث دماغ اور جسم کے دوسرے حصوں تک آکسیجن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

دل کی دھڑکن تیز ہونا: جسم کو آکسیجن پہنچانے کے لیے دل کو معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے دھڑکن تیز محسوس ہو سکتی ہے۔

سانس پھولنا: چلنے پھرنے یا معمولی جسمانی سرگرمی کے دوران سانس لینے میں دشواری خون کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے۔

جلد کی زردی یا پیلاہٹ: خون کی کمی کی بعض صورتوں میں جلد اور آنکھوں کے اندرونی حصے کی رنگت پھیکی پڑ سکتی ہے۔

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے: یہ حلقے صرف آئرن کی کمی کی مخصوص علامت نہیں ہیں، کیونکہ نیند کی کمی، موروثی عوامل اور دیگر وجوہات بھی ان کا سبب بن سکتی ہیں۔

اگر ان علامات میں سے کوئی علامت مسلسل موجود ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ اور ضروری خون کے ٹیسٹ کروانا اہم ہے۔

حمل میں خون کی کمی سے بچاؤ اور علاج

حمل کے دوران خون کی کمی سے بچنے کے لیے متوازن غذا، بروقت تشخیص اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

1۔ آئرن سے بھرپور غذاؤں کا استعمال

روزمرہ خوراک میں آئرن سے بھرپور غذائیں شامل کی جائیں۔ ان میں پالک اور دیگر ہری پتوں والی سبزیاں، دالیں، چنے، لوبیا، راجما، بیج، گری دار میوے، انڈے، مچھلی، مرغی اور گوشت شامل ہیں۔ گوشت اور سمندری غذا میں موجود آئرن عموماً جسم میں زیادہ آسانی سے جذب ہوتا ہے، جبکہ نباتاتی ذرائع سے حاصل ہونے والے آئرن کے جذب کے لیے مناسب غذائی امتزاج مفید ہے۔

2۔ وٹامن سی کا استعمال

وٹامن سی نباتاتی غذاؤں سے حاصل ہونے والے آئرن کے جذب میں مدد دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے لیموں، مالٹا، امرود، ٹماٹر اور دیگر وٹامن سی سے بھرپور غذائیں کھانے میں شامل کی جا سکتی ہیں۔

3۔ آئرن اور فولک ایسڈ کے سپلیمنٹس

حمل کے دوران آئرن اور فولک ایسڈ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر خاتون کی طبی کیفیت، خون کے ٹیسٹ اور ضروریات کے مطابق سپلیمنٹس تجویز کر سکتے ہیں۔ آئرن کی گولیاں اپنی مرضی سے شروع کرنے یا ان کی مقدار بڑھانے کے بجائے طبی مشورے پر عمل کرنا چاہیے۔

4۔ بروقت طبی معائنہ

حمل کے دوران معمول کے طبی معائنے اور خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ہیموگلوبن کی سطح اور آئرن کی کمی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر مزید ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں تاکہ خون کی کمی کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

5۔ شدید کمی کی صورت میں علاج

اگر آئرن کی کمی زیادہ ہو، گولیاں برداشت نہ ہوں، ان سے مناسب فائدہ نہ ہو یا طبی طور پر فوری بہتری ضروری ہو تو ڈاکٹر رگ کے ذریعے آئرن دینے، یعنی انٹراوینس آئرن (IV Iron)، کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ خون کی منتقلی ہر مریض کے لیے ضروری نہیں ہوتی؛ اس کا فیصلہ خون کی کمی کی شدت، علامات، حمل کی مدت اور مجموعی طبی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

ماں اور بچے کی صحت کے لیے احتیاط ضروری ہے

حمل کے دوران خون کی کمی ایک قابلِ تشخیص اور قابلِ علاج مسئلہ ہے، بشرطیکہ اس کی بروقت نشاندہی کی جائے اور مناسب علاج اختیار کیا جائے۔ حاملہ خواتین کو چاہیے کہ وہ متوازن غذا استعمال کریں، تجویز کردہ سپلیمنٹس باقاعدگی سے لیں اور طبی معائنے میں غفلت نہ برتیں۔

یاد رہے کہ صرف علامات کی بنیاد پر آئرن کی کمی کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ مناسب خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر کے مشورے سے ہی اس کی تصدیق اور مؤثر علاج ممکن ہے۔ ماں کی بہتر صحت ہی بچے کی صحت مند نشوونما کی بنیاد ہے۔