ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اللہ کا ذکر جمیل ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ عقیل احمد روبی)میں بڑی دیر سے چپ بیٹھا تھا۔ اشفاق احمد اور محمد افضل ، اللہ کی عظمت کو اپنی گفتگو سے ہوا میں چاروں طرف خوشبو کی طرح پھیلا رہے تھے کہ اچانک ممتاز مفتی بولے : ” روبی، تم پروفیسر رفیق اختر سے ملے ہو، وہ تمھاری ہی برادری کا آدمی ہے۔ پڑھاتا ہے گجر خان میں ۔۔۔۔۔۔۔ "
نہیں میں نہیں ملا ۔۔۔ میں نے جواب دیا
"نئیں توں جاندا ایں روبی” اشفاق احمد نے کہا ۔۔۔۔۔ "1964 چے لاہور کالج پڑھ دا سی”
کیا نام بتلایا آپ نے ۔۔؟
احمد رفیق اختر ۔۔۔ ممتاز مفتی بولے
یار ۔۔۔۔ رفیق جوگی ۔۔۔ اشفاق نے کہا
"رفیق جوگی ۔۔۔ ہاں میں جانتا ہوں” میں نے کہا
مشاعروں میں ہم اکٹھے جاتے رہے ہیں ۔
یار میں اس سے بہت متاثر ہوں ۔۔ ممتاز مفتی بولے ” کلین شیو، نہ داڑھی نہ دستار، نہ جبہ، نہ لباس میں ناز نخرہ ۔۔۔۔۔ نہ پیری نہ مریدی۔۔۔۔۔۔۔۔
ممتاز مفتی نے رفیق اختر کا نام لیا تو 1963، 1964 کا رفیق جوگی میری نظر میں لہرا گیا ۔ دبلا پتلا ذہین طالب علم ۔ اچھاشاعر ۔ چاروں طرف جائزہ لیتی آنکھیں جن میں سوچ اور فکر کی پرچھائیاں ہر وقت لہراتی رہتیں تھیں۔ ہم اکثر دوسرے شہروں میں مشاعرےپڑھنے جاتے رہے ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کی طرف سے اور میں یونیورسٹی کی طرف سے شرکت کرتا تھا۔ رفیق جوگی کی سادگی اور سیماب صفت دیکھ کر اس وقت بھی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ یہ آوارہ اور بے چین راہی کسی نادیدہ منزل کی تلاش میں ہے ۔ ایم اے کے بعد اس نے جب لاہور ہی میں نوکری کی تو رہائش راج گڑھ میں رکھی۔ رفیق جوگی کا گھر بے فکرے ، بے روزگار، لاہور کے تمام بھوکے ننگے افراد کا مسافر خانہ تھا ۔ جس جاننے والے کو کہیں سے کچھ نہ ملتا وہ رفیق جوگی کے ہاں آجاتا ۔
اس جوگی کی تنخواہ پہلی تاریخ کو ہی ختم ہو جاتی تھی۔ پہلی کو وہ پچھلا ادھار چکا کر اگلا ادھار لینے کے لیئے تازہ دم ہو جاتا تھا۔ کھانے والے سینکڑوں مگر مکانے والا صرف رفیق جوگی۔ جب گھر میں کچھ نہ ہوتا تو محلے والے بھیج دیتے تھے ۔
رفیق جوگی محلے میں بے حد مقبول تھا ۔ سب سے پیار کرنے والا، انسان دوست ۔ محلے والوں کا اس کے گھر یوں آنا جانا تھا جیسے یہ گھر سب کا گھر ہو۔ کچھ لوگ تو لمبے راستے کو cut short بنانے کے لیئے اس کی چھت اور سیڑھیاں بھی استعمال کرتے تھے ۔ ایک بکری والا تو بکری اسکی چھت سے گزار کر اپنے راستے کی طوالت کم کیا کرتا تھا ۔ پھر رفیق جوگی گجر خان چلا گیا اور احمد رفیق اختر بن گیا
"وہ تمھارا دوست ہے۔ مگر تم 30 سال پہلے کی بات کر رہے ہو۔ اب وہ ایک بدلا ہوا آدمی ہے۔ ” — ممتاز مفتی بولے۔ اللہ سے دوستی ہے اس کاذکر کرتا ہے، اپنی تحلیل نفسی کر کے اپنی ذات سے غیر ضروری چیزیں باہر نکالتا رہتا ہے۔ قرآن یوں پڑھتا ہے جیسے باتیں کر رہا ہو۔۔۔ مفتی بولے جا رہے تھے
” وہ دین اور قرآن تک عقل کے ذریعے پہنچا ہے”
اس کا پرانا دوست یعقوب ناسک کہتا ہے کہ جوگی کشف اور کرامات میں ڈوبا ہوا آدمی ہے۔ شہد میں لتھڑی ہوئی مکھی کی طرح ۔ وہ اللہ کو اس کی کرامت کے حوالے سے پہچانتا ہے۔
اللہ کاذکر کرنے والوں کی زبان بعض اوقات ہونے والی باتوں کا بے ساختہ اظہار کر دیتی ہے۔ ایک بار ایک کرنل، رفیق اختر کے پاس آئے اور اپنی پروموشن کے بارے میں پریشانی کا اظہار کیا۔
رفیق اختر نے کہا” جائیے پرسوں کام ہو جائے گا۔ "
کرنل چلا گیا ۔ دو دن بعد مٹھائی کا ڈبہ لے کر آیا اور رفیق اختر کے سامنے رکھ دیا۔ رفیق اختر نے جیب سے سو روپیہ کا نوٹ نکال کر ڈبے پر رکھا اور کہا” یہ میری طرف سے قبول فرمائیے اور چلے جائیے "
میں تو اس کی آنکھ اور اندرونی بصیرت کا قائل ہو گیا ہوں ۔ ممتاز مفتی نے کہا ۔
ایک بار رفیق اختر کوئٹہ جا رہے تھے ۔ کرنل ابدال نے انہیں اپنی ایک کتاب دی کہ فلاں بندے کو دے دیجیئے گا۔ بعد میں اس آدمی کا فون ابدال بیلا کو آیا ۔ وہ بے حد پریشان تھا پوچھنے لگا ” یہ کون صاحب تھے جن کے ہاتھ تم نے کتاب بھیجی تھی؟
ابدال بیلا نے نام بتایا ۔” پروفیسر احمد رفیق اور کہا ” کیوں کیا ہوا؟
اس آدمی نے سہمی ہوئی آواز میں بتایا ۔۔۔ ” وہ کہہ رہے تھے کہ جناب آپ نے تین بار خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے مگر ناکامی ہوئی۔ چوتھی بار بھی ناکامی ہو گی۔۔۔۔ زندہ رہنا سیکھیئے۔
گجر خان میں رفیق اختر پڑھاتے ہیں ۔ ان کا حلقہ احباب بہت بڑا ہے۔ دور دور سے لوگ آتے ہیں ۔ وہ صرف انہیں قرآن کے بارے میں بتلاتے ہیں
آیات قرآنی پڑھنے کے لیئے دیتے ہیں ۔ اللہ اور انسانوں کو دوستی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں
ایک بار محفل میں انسانی زندگی میں انقلاب اور تبدیلی کی بات ہو رہی تھی۔ ابدال بیلا نے پوچھا ” پروفیسر آپ میں یہ انقلاب کیسے آیا کہ سرکاری نوکری کی بجائے اللہ کے نوکر ہو گئے ؟ کیسے آئی یہ تبدیلی ؟
اس کے حکم سے آئی ہے جو بندوں پر نظر رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنا نوکر بنا لیتا ہے۔ میں نے قرآن کا مطالعہ کیا اور یہ میرے اندر گھر کر گیا ہے۔ میں قرآن کو اولیت دیتا ہوں ۔ اس کے مقابلے میں باقی چیزیں کم اہمیت رکھتی ہیں ۔ رفیق اختر بولے ۔” یار عقیل روبی ! میں مقدس اور صاحب کرامت کہلوانے کی بجائے بہتر سمجھتا ہوں کہ گنہگار اور گمنام رہوں ۔
میں نے ممتاز مفتی کی بات چھیڑی تو رفیق اختر نے کہا۔ ” ممتاز مفتی بہت بھلے آدمی ہیں ۔ ان کی کتاب "لبیک ان کتابوں میں سے ایک ہے۔ جن سے میں متاثر ہوا”