*مرض لگنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے – حیران کن تحقیق*

*الصلاة خير من النوم*

*مرض لگنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے – حیران کن تحقیق*

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک ماہر امراض دل لکھتے ہیں:مجھے دنیا بھر کے میڈیکل سیمینارز میں بلایا جاتا ہے، لیکن ایک بار جرمنی کے شہر ڈسلڈورف میں ہونے والا ایک سیمینار جس کا عنوان تھا "امراض لگنے کے اوقات” مجھے بغیر دعوت کے بھی وہاں جانے پر مجبور کر گیا۔

کیا دل کے دورے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے؟ کیا برین ہیمبرج، شوگر، یا دماغ کی شریان پھٹنے کا بھی کوئی خاص وقت ہوتا ہے؟ یہی جاننے میں جرمنی چلا گیا۔

پہلے دن ایک جرمن ڈاکٹر اسٹیج پر تھا، جو مسلمان نہیں تھا، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس نے کہا:

"دنیا بھر کے مریضوں کے ڈیٹا سے ہم نے یہ جانا ہے کہ دل کے دورے، دل کی شریان بند ہونا، اور دماغ کی شریان پھٹنے کے 80% کیسز صبح 8 بجے کے آس پاس ہوتے ہیں۔”

پھر اس نے اس کی تفسیر بتائی:

"جب ہم رات کو سوتے ہیں تو ہمارے جسم میں خون کا بہاؤ سست ہو جاتا ہے۔ اگر شریانیں پہلے سے ہی چکنائی سے تنگ ہوں تو سست خون وہاں جم کر لوتھڑے (Clots) بنا دیتا ہے۔

اللہ نے ہمارے جسم میں ایک کیمیائی نظام رکھا ہے جو صبح کے وقت شریانوں کو اکڑا دیتا ہے تاکہ وہ پھٹ نہ جائیں، لیکن اسی اکڑاؤ اور جمے ہوئے خون کی وجہ سے دل کا خون رک جاتا ہے اور ہارٹ اٹیک یا برین ہیمبرج ہو جاتا ہے۔

اس سے بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے – صبح سویرے جاگ جاؤ، تھوڑی دیر چلو پھرو، پانی پیو۔ اس سے وہ کیمیائی نظام جو شریانوں کو اکڑا رہا تھا، بند ہو جائے گا اور خون کا بہاؤ نارمل ہو جائے گا۔ اگر پھر نیند آئے تو ایک گھنٹے بعد دوبارہ سو جاؤ۔”

وہ بول رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا…

یہ شخص مجھے بس یہی سمجھانا چاہ رہا ہے کہ *”الصلاة خير من النوم – نماز نیند سے بہتر ہے”* لیکن اس کے پاس یہ الفاظ نہیں ہیں۔

اللہ ہماری میٹھی نیند کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ اس نے ہمیں صبح سویرے کسی عذاب کے لیے نہیں جگایا، بلکہ ہماری جان بچانے کے لیے جگایا ہے۔

سائنس آج کہہ رہی ہے جو اللہ نے 1400 سال پہلے اذان میں رکھ دیا تھا۔

فجر کے لیے جاگنے سے خون کا دباؤ نارمل ہو جاتا ہے، جمے ہوئے لوتھڑے تحلیل ہو جاتے ہیں اور ہم کتنے ہی بڑے امراض سے بچ جاتے ہیں۔

میرے کلینک پر جب کوئی مسیحی مریض بھی آتا ہے جسے خطرہ ہو، تو میں اسے بھی یہی کہتا ہوں: "بھائی صبح 4-5 بجے اٹھ کر گھر کا ایک چکر لگا لیا کرو، پانی پی لیا کرو، پھر چاہو تو سو جانا، مگر اس وقت جاگنا خود پر لازم کر لو۔”

*فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ*

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟