ترکی ادب سے انتخاب۔۔۔۔۔  عزیز نے سن  ۔۔۔۔۔

ترکی ادب سے انتخاب

۔۔۔۔۔  عزیز نے سن  ۔۔۔۔۔

(قسط نمبر1)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ترکی ادب سے انتخاب۔۔۔۔۔  عزیز نے سن  ۔۔۔۔۔)کسی زمانے میں کرہ ارض کے کسی حصے میں ایک ایسا ملک آباد تھا جس کا ذکر آج نہ جغرافیے کی کسی کتاب میں ملتا ہے نہ تاریخ میں۔

سنتے ہیں ایک وقت ایسا آیا جب دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کے تمام باشندوں کی جسمانی ساخت میں چند نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ۔ پہلے تو لوگوں کے سر چکھنے شروع ہوئے اور چکتے پکتے کندھوں کے درمیان اتنے دھنس گئے کہ مرد نہیں بالکل ناپید ہو گئیں۔ پھر ہر شخص کی کمر میں کبڑا پن نمودار ہوا جس نے بڑھتے بڑھتے ساری قوم کی

کمریں دہری کر کے رکھ دیں۔ بالآخر لوگوں کے لیے قدم اٹھا کر چلنا دو بھر ہو گیا اور انہوں نے زمین پر پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چلنا شروع کر دیا۔ دیکھنے والوں کو یوں لگتا جیسے ملک کی ساری آبادی کسی غیر معمولی بوجھ تلے دبی جا رہی ہے اور لوگوں کے پاؤں بھاری بھر کم زنجیروں میں جکڑ دیے گئے ہیں۔

زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ چھوٹے بڑے، مرد عورتوں نے کر اہنا شروع کر دیا۔ سب کے منہ یز نے سن سے یہ جملے سنائی دیے۔ اف ! اب نہیں کھینچ سکتے ، ہائے اب نہیں اُٹھا سکتے ۔ “ رفتہ رفتہ یہ جملے آہ و بکا میں بدل گئے۔

جب عوام کے کراہنے کی آواز میں ساتویں آسمان تک سنائی دینے لگیں ، تب جا کر حاکم وقت کے کانوں تک بھی یہ درد بھری آوازیں پہنچیں ۔ اس نے برہم ہو کر مصاحبوں سے دریافت کیا۔ ” ہماری نیند میں خلل ڈالنے والی یہ صدائیں کہاں سے آرہی ہیں …. ؟

عرض کیا۔ ” سر کار عالی ! یہ آپ کی رعایا کی پکار ہے ۔ ابتداء میں جب یہ آوازیں ہماری کانوں تک پہنچی تھیں تو ہم نے انہیں ہوا کی سرسراہٹ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ اس طرف کان ہی نہ دھرے۔ جب وہی بھنک بڑھتے بڑھتے شور میں تبدیل ہو گئی ، تو ہم نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں کہ شاید یوں اس شور سے نجات مل جائے۔ اب بندر یک وہ شور، ہنگامے کی صورت احتیاط کر چکا ہے۔ اگر سر کار عالی اجازت فرمائیں تو ہر فرد کے گلے کے چند صوتی تار کاٹ دیے جائیں تاکہ لوگوں کی بلند چیخ پکار حضور کو بے آرام نہ کر سکے۔“ حاکم وقت نے ڈانٹ کر کہا ۔ ” ہم قرون وسطی کے نہیں، دور جدید کے باشندے ہیں۔ تم گزرے ہوئے کل کی بات نہ کرو کہ آج کا دن آتے ہی کل کا دن دفن ہو جاتا ہے ۔ ہمیں دقیانوسی علاج تجویز کرنے کے بجائے ملک میں منادی کر دو کہ ساری رعایا دارالحکومت کے بڑے میدان میں جمع ہو جائے تا کہ مابدولت عصر جدید کی روایات کی شایان شان اپنی رعایا سے خطاب کر سکیں۔“

اگلے روز رعایا میدان میں جمع ہوئی تو حاکم وقت نے پہلی بار عوام کے کندھوں میں دھنے ہوئے سر اور خمیدہ پشتیں دیکھیں۔ اس نے متعجب ہو کر ہمدردانہ لہجے میں دریافت کیا۔ ” بتاؤ تم لوگوں کو کیا تکلیف پیش آرہی ہے ….؟

حاضرین نے ایک زبان ہو کر وہی جملے و ہرائے۔ اب ہم نہیں کھینچ سکتے ۔ “

حاکم وقت نے رعایا میں سے چند دانش وروں کو قریب بلا کر پوچھا۔ ” صاف صاف بتاؤ! کیا بات ہے؟ تم لوگ کیا نہیں کھینچ سکتے ؟ کیا نہیں اُٹھا سکتے ….؟

دانش وروں نے جواب دیا۔

جناب والا! ہم خود مجھنے سے قاصر ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے پاؤں میں بھاری زنجیریں ڈال دی گئی ہیں جن کے ناقابل برداشت بوجھ نے ہمیں پاؤں اُٹھا کر چلے سے معذور کر دیا ہے ۔ یہ پر اسرار زنجیریں دن بدن بھاری ہوتی جارہی ہیں۔ اگر یہی حالت رہی تو تھوڑے ہی عرصے بعد یہ پوری قوم ساکت ہو کر رہ جائے گی۔ ہر شخص انسان نمادرخت کی طرح زمین میں گڑا نظر آئے گا۔ حضور ! یہ زنجیریں اب اتنی بھاری ہو گئی ہیں کہ لوگوں میں انہیں کھینچنے کی تاب وطاقت باقی نہیں رہی۔“

حاکم وقت مسکرا کر بولا ۔ ” اچھا! تو اب سمجھا یہ لوگ کیا نہیں کھینچ سکتے ، مگر تم لوگ ایک دوسرا انعرہ بھی تو لگاتے رہتے ہو، وہ کیا چیز ہے جو تم لوگوں سے اُٹھائی نہیں جاتی ….؟

جناب عالی ! ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے سر پر ایک پر اسرار قسم کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ یہ بوجھ بھی زنجیروں کی طرح روز بروز بھاری ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ اس بوجھ کا اثر ہے کہ ہماری گردنیں کندھوں میں دھنستے دھنتے سرے سے ناپید ہو گئی ہیں اور ہماری پشتیں دوہری ہو گئی۔ عزت مآب ! ہم لوگوں سے اب یہ بوجھ نہیں اُٹھایا جاتا۔ “

یہ سن کر حاکم وقت رعایا سے یوں گویا ہوا۔ ” میرے عزیز ہم وطنو! تم بالکل فکرمت کر و ہم آج ہی اپنے قابل ترین ماہرین کی ایک کمیٹی مقرر کر رہے ہیں جو اس بات کی تفتیش کرے گی۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اپریل 2026