تصوف محض تسبیح کے دانوں میں انگلیاں پھیرنے کا نام نہیں۔
تصوف تو دل کی دنیا بدلنے کا نام ہے۔
باطن کو سنوارنے کا نام ہے۔
نفس کی سرکشی کو بندگی میں بدلنے کا نام ہے۔
اور اس تبدیلی کا پہلا زینہ ہے: مجاہدہ۔
مجاہدہ، یعنی خواہش ہو، مگر انسان خواہش کا غلام نہ ہو۔
دل چاہے، مگر بندہ رک جائے۔
نفس للچائے، مگر روح سنبھل جائے۔
خواہش پکارے، مگر ایمان جواب دے۔
دنیا بلائے، مگر ضمیر راستہ دکھائے۔
یہی وہ کشمکش ہے جو انسان کے اندر ہر روز برپا ہوتی ہے۔
ایک طرف نفس ہے۔
دوسری طرف روح کی پکار۔
ایک طرف خواہش ہے۔
دوسری طرف رضائے الٰہی۔
ایک طرف دنیا کی رنگینیاں ہیں۔
دوسری طرف آخرت کی ابدی حقیقت۔
اور ان دونوں کے درمیان کھڑا ہوا انسان!
کبھی ڈگمگاتا ہے۔
کبھی سنبھلتا ہے۔
کبھی گرتا ہے۔
کبھی اٹھتا ہے۔
مگر مجاہدہ کرنے والا وہ ہے جو گر کر بھی اٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
وہ ہار کر بھی کوشش نہیں چھوڑتا۔
وہ بھٹک کر بھی واپسی کا راستہ نہیں بھولتا۔
وہ لغزش کے بعد ندامت کو اپنا زادِ راہ بناتا ہے۔
کیوں کہ وہ جانتا ہے:
نفس کو شکست دینا ایک لمحے کا کارنامہ نہیں، عمر بھر کی ریاضت ہے۔
نفس بڑا عجیب ہے۔
کبھی تعریف کا بھوکا۔
کبھی شہرت کا طلب گار۔
کبھی دولت کا اسیر۔
کبھی اقتدار کا دیوانہ۔
کبھی چاہتا ہے کہ لوگ اسے دیکھیں۔
کبھی چاہتا ہے کہ لوگ اسے سراہیں۔
کبھی چاہتا ہے کہ لوگ اس کے سامنے جھکیں۔
اور کبھی!
وہ عبادت میں بھی اپنا حصہ تلاش کرتا ہے۔
وہ نیکی میں بھی اپنی بڑائی دیکھتا ہے۔
وہ تقویٰ میں بھی اپنی برتری کا احساس پال لیتا ہے۔
یہ نفس کی باریک چالیں ہیں۔
یہ نفس کے پوشیدہ فریب ہیں۔
یہ نفس کے وہ جال ہیں جن میں بظاہر نیک انسان بھی گرفتار ہو سکتا ہے۔
اسی لیے مجاہدہ صرف گناہ چھوڑنے کا نام نہیں۔
مجاہدہ نیکی کے اندر چھپی خودپسندی سے بچنے کا نام بھی ہے۔
صرف ہاتھوں کو گناہ سے روکنا کافی نہیں۔
دل کو تکبر سے بچانا بھی ضروری ہے۔
صرف زبان کو جھوٹ سے پاک کرنا کافی نہیں۔
زبان کو غیبت، طعنہ اور خودستائی سے بچانا بھی ضروری ہے۔
صرف ظاہری اعمال سنوارنا کافی نہیں۔
باطن کی نیتوں کو بھی سنوارنا ضروری ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ عمل نیکی کا ہو، مگر نیت میں شہرت کی طلب ہو۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ زبان ذکر سے تر ہو، مگر دل کینہ سے بھرا ہو۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ پیشانی سجدے میں جھکے، مگر دل تکبر میں اکڑا رہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مجاہدہ انسان کو اپنے اندر جھانکنا سکھاتا ہے۔
اپنے عیب دیکھنا۔
اپنی کوتاہیاں پہچاننا۔
اپنی نیتوں کا محاسبہ کرنا۔
اپنے باطن کی تاریکیوں کو محسوس کرنا۔
اور پھر خاموشی سے خود کو بدلنے میں لگ جانا۔
نہ دعوے۔
نہ نمائش۔
نہ خودستائی۔
بس کوشش۔
بس ریاضت۔
بس رجوع الی اللہ۔
مجاہدہ شور نہیں کرتا، انسان کے اندر خاموش انقلاب برپا کرتا ہے۔
یہ انقلاب آنکھوں میں حیا پیدا کرتا ہے۔
زبان میں نرمی پیدا کرتا ہے۔
مزاج میں اعتدال پیدا کرتا ہے۔
دل میں رحم پیدا کرتا ہے۔
یہ انسان کو عاجزی سکھاتا ہے۔
صبر سکھاتا ہے۔
قناعت سکھاتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، اپنے رب کے سامنے محتاجی کا احساس عطا کرتا ہے۔
مجاہدہ یہ نہیں کہ انسان اپنی فطری ضرورتوں کو مٹا دے۔
مجاہدہ یہ ہے کہ ضرورتیں حدود میں رہیں۔
خواہشیں اخلاق کے تابع رہیں۔
آرزوئیں شریعت کے دائرے میں رہیں۔
کھانا بھی ہے، مگر حرص نہیں۔
مال کمانا بھی ہے، مگر حرام نہیں۔
دنیا میں رہنا بھی ہے، مگر دنیا کو دل کا خدا نہیں بنانا۔
لوگوں سے محبت بھی کرنی ہے، مگر محبت میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرنی۔
یہی اعتدال ہے۔
یہی بندگی ہے۔
یہی مجاہدے کا حسن ہے۔
اور یہ راستہ آسان نہیں۔
کبھی نفس تھکا دے گا۔
کبھی خواہشات گھیر لیں گی۔
کبھی ماحول بہکا دے گا۔
کبھی تنہائی آزمائے گی۔
کبھی غصہ قابو سے باہر ہونے کو ہوگا۔
کبھی زبان کسی کا دل دکھانے پر آمادہ ہوگی۔
کبھی دل بدلے کی آگ میں جلنے لگے گا۔
کبھی انا معافی مانگنے سے روک دے گی۔
اور عین اسی لمحے مجاہدہ دروازہ کھٹکھٹائے گا۔
رک جاؤ!
خاموش ہو جاؤ!
معاف کر دو!
اپنے رب کو یاد کرو!
یاد رکھو!
ہر جواب دینا ضروری نہیں۔
ہر خواہش پوری کرنا ضروری نہیں۔
ہر بحث جیتنا ضروری نہیں۔
ہر بات منوانا ضروری نہیں۔
کبھی خاموش رہ جانا بھی مجاہدہ ہے۔
کبھی غصہ پی جانا بھی مجاہدہ ہے۔
کبھی معاف کر دینا بھی مجاہدہ ہے۔
کبھی اپنی جائز قوت کے باوجود انتقام سے رک جانا بھی مجاہدہ ہے۔
اور کبھی!
اپنے حق کے لیے کھڑے رہنا بھی مجاہدہ ہے، جب نفس خوف کے باعث تمہیں خاموش رکھنا چاہے۔
کیوں کہ مجاہدہ محض خواہش کو دبانے کا نام نہیں۔
مجاہدہ خواہش کو اس کی صحیح جگہ پر رکھنے کا نام ہے۔
نفس کی ہر بات مان لینا غلامی ہے، اور ہر حال میں نفس کی مخالفت کرنا بھی حکمت نہیں؛ اصل کمال حق کو پہچان کر اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا ہے۔
صوفیا کی نگاہ میں انسان کا اصل سفر باہر سے اندر کی طرف ہے۔
دنیا کو فتح کرنے سے پہلے اپنے باطن کو پہچانو۔
لوگوں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرو۔
دوسروں کے عیب گنوانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو۔
کیوں کہ سب سے طویل سفر قدموں سے نہیں، نفس سے طے ہوتا ہے۔
سب سے دشوار جنگ میدانوں میں نہیں، دل کے اندر لڑی جاتی ہے۔
اور سب سے بڑی فتح کسی دوسرے انسان کو زیر کر دینا نہیں، اپنے اندر کے تکبر، حرص، حسد اور خودپسندی پر قابو پانا ہے۔
یہ فتح تلوار سے نہیں ملتی۔
یہ فتح صبر سے ملتی ہے۔
یہ فتح اخلاص سے ملتی ہے۔
یہ فتح مسلسل محاسبۂ نفس سے ملتی ہے۔
یہاں انسان کو ہر روز اپنے آپ سے پوچھنا پڑتا ہے:
میں نے یہ کام کیوں کیا؟
میں نے یہ بات کیوں کہی؟
میرے دل میں یہ خیال کیوں پیدا ہوا؟
میں جس نیکی پر خوش ہوں، کیا وہ واقعی اللہ کے لیے تھی؟
یہ سوال آسان نہیں۔
مگر یہی سوال باطن کے دروازے کھولتے ہیں۔
یہی سوال انسان کو غفلت سے بیداری کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہی سوال دل کو اپنی حقیقت سے آشنا کرتے ہیں۔
اور جب انسان اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے تو اس کے لہجے میں نرمی آ جاتی ہے۔
وہ دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتا۔
وہ اپنی عبادت پر ناز نہیں کرتا۔
وہ اپنی نیکیوں کا چرچا نہیں کرتا۔
بلکہ وہ ڈرتا ہے۔
وہ جھکتا ہے۔
وہ اپنے رب سے عافیت مانگتا ہے۔
اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت اللہ کی عطا ہے۔
توفیق اللہ کی عطا ہے۔
ثبات اللہ کی عطا ہے۔
بندے کا کام کوشش کرنا ہے۔
اپنی کمزوری تسلیم کرنا ہے۔
لغزش کے بعد توبہ کرنا ہے۔
اور رحمتِ الٰہی سے کبھی مایوس نہ ہونا ہے۔
مجاہدہ یہ نہیں کہ انسان کبھی گرے ہی نہیں؛ مجاہدہ یہ ہے کہ گرنے کے بعد گناہ پر اصرار نہ کرے، بلکہ توبہ کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔
یہی امید کا راستہ ہے۔
یہی رجوع کا راستہ ہے۔
یہی بندگی کا راستہ ہے۔
اور آخرکار!
تصوف کا حسن اسی میں ہے کہ انسان کا ظاہر بھی سنورے اور باطن بھی۔
اس کی عبادت بھی بہتر ہو اور معاملات بھی۔
اس کی تنہائی بھی پاکیزہ ہو اور محفل بھی۔
اس کا دل بھی نرم ہو اور کردار بھی مضبوط۔
وہ اللہ کے حقوق ادا کرے۔
بندوں کے حقوق کا خیال رکھے۔
اپنی خواہشات کو حدود میں رکھے۔
اپنی انا کو حق کے تابع کرے۔
نہ خود کو کامل سمجھے۔
نہ اپنی اصلاح سے مایوس ہو۔
بس چلتا رہے۔
بس سنبھلتا رہے۔
بس سیکھتا رہے۔
بس اپنے رب کی طرف بڑھتا رہے۔
کیوں کہ نفس کی اصلاح ایک دن کا قصہ نہیں۔
یہ عمر بھر کا سفر ہے۔
یہ سفر آنسوؤں سے بھی گزرتا ہے۔
یہ سفر ندامت سے بھی گزرتا ہے۔
یہ سفر صبر سے بھی گزرتا ہے۔
اور یہ سفر اللہ کی رحمت سے امید وابستہ رکھنے کا نام بھی ہے۔
اے طالبِ تصوف!
اپنے نفس سے غافل نہ ہو۔
اپنی نیت سے بے خبر نہ ہو۔
اپنی خواہشات کا اسیر نہ ہو۔
اپنے دل کو دیکھ۔
اپنی زبان کو دیکھ۔
اپنے کردار کو دیکھ۔
جہاں تکبر ہو، وہاں عاجزی پیدا کر۔
جہاں حسد ہو، وہاں خیرخواہی پیدا کر۔
جہاں حرص ہو، وہاں قناعت پیدا کر۔
جہاں غصہ ہو، وہاں ضبط پیدا کر۔
جہاں غفلت ہو، وہاں ذکر پیدا کر۔
اور جہاں گناہ ہو جائے، وہاں توبہ کا دروازہ کھٹکھٹا۔
بار بار کھٹکھٹا۔
خاموشی سے کھٹکھٹا۔
آنسوؤں کے ساتھ کھٹکھٹا۔
کہ رحمت کا دروازہ تیرے رب کے اختیار میں ہے، اور بندے کے لیے امید، توبہ اور رجوع کا راستہ ہمیشہ اہمیت رکھتا ہے۔
آخر میں بس اتنا سمجھ لے:
مجاہدہ نفس کو مٹانے کا نام نہیں، نفس کو بندگی سکھانے کا نام ہے۔
خواہش کو حق کا تابع بنانے کا نام ہے۔
انا کو عاجزی میں ڈھالنے کا نام ہے۔
غفلت کو بیداری میں بدلنے کا نام ہے۔
اور اپنے وجود کو رضائے الٰہی کے راستے پر چلانے کا نام ہے۔
یہی تصوف ہے۔
یہی تزکیہ ہے۔
یہی مجاہدہ ہے۔
اور یہی وہ خاموش ریاضت ہے جس میں انسان دوسروں سے کم، اپنے نفس سے زیادہ مقابلہ کرتا ہے؛ دنیا کے شور سے کم، اپنے باطن کی آواز سے زیادہ آشنا ہوتا ہے؛ اور اپنی بڑائی ثابت کرنے کے بجائے اپنے رب کے سامنے اپنی بندگی کا اعتراف کرنا سیکھتا ہے۔
پس کامیاب وہ نہیں جو دنیا کی نگاہ میں بڑا بن جائے؛ کامیاب وہ ہے جو اپنے نفس کی غلامی سے نکل کر اللہ کی بندگی میں جینا سیکھ لے۔