✨ نظر بد کی حقیقت اور ایک صحابی رسول کا سبق آموز واقعہ

✨ نظر بد کی حقیقت اور ایک صحابی رسول کا سبق آموز واقعہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معیت میں مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ دوران سفر قافلے کا گزر شِعب الخرار نامی ایک مقام سے ہوا جہاں پانی کا ایک چشمہ یا کنواں موجود تھا۔

یہاں پہنچ کر جلیل القدر صحابی سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ سفر کی تھکان اور گرد اتارے اور غسل کرے۔ عرب کے سخت موسم اور تیز دھوپ کی وجہ سے عموما وہاں کے لوگوں کا رنگ گندمی ہوتا تھا لیکن سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کی رنگت اس کے برعکس بہت گوری، صاف اور پرکشش تھی۔

غسل کے دوران ایک اور صحابی سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی نگاہ ان کے جسم پر پڑ گئی اور ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ آج تک میں نے ایسا خوبصورت بدن نہیں دیکھا، کسی پردے میں رہنے والی دوشیزہ کا رنگ بھی ایسا نکھرا ہوا نہیں ہوگا۔ الفاظ کا نکلنا تھا کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ وہیں بے سدھ ہو کر زمین پر گر پڑے۔ دوسرے صحابہ نے انہیں ہوش میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ اٹھے۔

بالآخر صحابہ کرام انہیں اسی بے ہوشی کی حالت میں نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ، سہل کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا پا رہے۔

آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں کو کسی پر شبہ ہے جس کی نظر لگی ہو۔ صحابہ نے بتایا کہ عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا اور سخت ناراضی کے عالم میں ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو قتل کرنے پر کیوں آمادہ ہو جاتا ہے۔ جب تم نے ایک اچھی چیز دیکھی تھی تو اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہیں کی۔

🌿 اچھی چیز دیکھ کر کیا پڑھیں

رسول اللہ ﷺ کی واضح ہدایت ہے کہ جب بھی کسی کی کوئی نعمت یا خوبی دل کو بھائے تو فوراً اس کے حق میں برکت کی دعا کرنی چاہیے۔ آپ یہ کلمات کہہ سکتے ہیں اللهم بارك یا تبارك الله یا بارك الله لك جس کا مطلب ہے کہ اے اللہ اس نعمت میں برکت عطا فرما۔

💧 نظر بد کے علاج کا طریقہ

اس کے بعد آپ ﷺ نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو وضو اور غسل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک برتن میں اپنا چہرہ، کہنیوں تک ہاتھ، گھٹنے، پاؤں اور اپنے لباس کا اندرونی حصہ دھویا۔ پھر یہ سارا پانی ایک دم سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے سر اور پیٹھ پر پیچھے کی طرف سے بہا دیا گیا۔

🌸 فوری اور حیران کن شفا

جیسے ہی ان پر یہ پانی ڈالا گیا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فوراً اٹھ بیٹھے اور ان کی طبیعت بالکل ہشاش بشاش ہو گئی، یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ وہ مکمل تندرست ہو کر لوگوں کے ساتھ چلنے پھرنے لگے۔

❓ حسد اور نظر بد کا فرق

یہ واقعہ حسد کا نہیں بلکہ خالص نظر لگنے کا تھا۔ نظر لگانے والا اور حسد کرنے والا دو الگ کردار ہیں۔ جو شخص کسی کی خوبی دیکھ کر خوش ہو مگر برکت کی دعا نہ پڑھے تو اس کی نظر غیر ارادی طور پر نقصان پہنچا دیتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی محبت کرنے والا کیوں نہ ہو۔ جبکہ حسد کرنے والا وہ ہوتا ہے جو دل میں کینہ اور بغض رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ سامنے والے سے یہ نعمت چھن جائے۔ حسد ایک انتہائی خطرناک روحانی مرض ہے۔

🛡️ نظر بد سے بچاؤ کے اذکار

دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر ہمیشہ اللهم بارك، ما شاء الله، تبارك الله یا اللهم زد وبارك پڑھیں۔ اور جب اپنی کوئی چیز یا خوبی اچھی لگے تو سورہ الکہف کی تعلیم کے مطابق ما شاء الله لا قوة الا بالله کا ورد کریں۔

⚠️ احادیث مبارکہ کی روشنی میں نظر بد کی حقیقت

صحیح مسلم اور دیگر کتب کی احادیث کے مطابق فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے کہ نظر لگنا برحق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر کو پیچھے چھوڑ سکتی تو وہ نظر بد ہوتی۔ ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا کہ نظر انسان کو قبر کے گڑھے تک اور اونٹ کو پکنے کے لیے ہانڈی تک پہنچا دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے فیصلے اور تقدیر کے بعد میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظر بد کے نتیجے میں ہوں گی۔

🌹 ایک اہم نصیحت

ان واقعات اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نظر بد ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس سے خود کو محفوظ رکھنا اور دوسروں کو اپنی نظر سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ جب بھی کسی کی کوئی اچھی بات نظر آئے تو دل میں حسد لانے کے بجائے فوراً برکت کی دعا کریں۔

اور اگر آپ یہ تحریر مکمل پڑھ چکے ہیں تو محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ پر درود پاک ضرور بھیجیں۔

#محبت_رسول #victory #islamic #صحابہ_کرام

حوالہ جات

مؤطا امام مالک

مسند احمد بن حنبل

صحیح مسلم

سنن ابن ماجہ

صحیح ابن حبان

مستدرک الحاکم

المعجم الکبیر للطبرانی

مسند الطیالسی