تاریخِ صلیبی جنگیں اور سلطان صلاح الدین ایوبی  ۔

تاریخِ صلیبی جنگیں اور سلطان صلاح الدین ایوبی  قسط 02

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) پیٹر دی ہرمٹ (راہب) کے لشکر کی تباہی، شہرِ نائسیا کا گھیراؤ اور بازنطینی حکمران کی مکارانہ حکمتِ عملی

🌪️ اناطولیہ میں کسانوں کے غیر منظم لشکر کی آمد اور بربادی

قسطنطنیہ کے بازنطینی فرمانروا نے پیٹر راہب کی سرکردگی میں آنے والے لاکھوں افراد پر مشتمل اس بے قابو اور وحشی ہجوم کو سمندر عبور کروا کر مسلمانوں کے علاقے اناطولیہ کی جانب روانہ کر دیا۔ یہ صلیبیوں کا ایک ایسا گروہ تھا جس کے پاس نہ جنگی تربیت تھی اور نہ ہی کوئی نظم و ضبط، تاہم ان کی کثیر تعداد کا یہ عالم تھا کہ وہ کسی سیلاب کی طرح جہاں سے گزرتے، تباہی کی داستان چھوڑ جاتے۔ انہوں نے اناطولیہ کے دیہاتوں کو تاراج کرنا شروع کیا، وسیع پیمانے پر لوٹ مار کی اور نہتے کسانوں کا بے دردی سے خون بہایا۔ ان کا گمان تھا کہ وہ اس بے پناہ ہجوم کی طاقت سے مسلمانوں کو روندتے ہوئے سیدھے یروشلم (بیت المقدس) تک جا پہنچیں گے، مگر وہ اس بات سے قطعی بے خبر تھے کہ آگے ان کا ٹکراؤ کس طاقت سے ہونے والا ہے۔

🦅 سلطان قلج ارسلان کا قہر اور صلیبیوں کا بھیانک انجام

اناطولیہ کی اس سرزمین پر سلجوقی سلطنت کے ایک نہایت شجاع اور نڈر فرمانروا، سلطان قلج ارسلان کی عملداری تھی۔ جب سلطان تک ان صلیبیوں کی غارت گری اور بربادی کی اطلاعات پہنچیں تو ان کی رگوں میں دوڑتا سلجوقی خون جوش میں آ گیا۔ سلطان نے بلاتاخیر اپنا انتہائی ماہر اور برق رفتار گھڑ سوار دستہ ترتیب دیا اور ان حملہ آوروں کی جانب پیش قدمی کی۔ ڈوریلیئم کی وادی کے قریب مسلمانوں کی اس منظم فوج کا سامنا پیٹر راہب کے ان لاکھوں بلوائیوں سے ہوا۔

سلطان قلج ارسلان نے ایک ہیبت ناک اور تباہ کن حملہ کیا۔ سلجوقی تیر اندازوں نے اپنے دوڑتے گھوڑوں سے صلیبیوں پر تیروں کا وہ مینہ برسایا کہ ان کی صفیں تتّر بتّر ہو گئیں۔ محض چند گھنٹوں کے اندر یہ لاکھوں کا ہجوم کٹے ہوئے درختوں کی طرح زمین بوس ہو گیا۔ پیٹر راہب کسی نہ کسی طرح اپنی جان بچا کر واپس قسطنطنیہ فرار ہو گیا، اور کسانوں کی اس ابتدائی صلیبی مہم کا مسلمانوں کے ہاتھوں ایسا بھیانک انجام ہوا کہ اناطولیہ کی زمین ان کی لاشوں سے اٹ گئی۔ اس عظیم الشان فتح نے سلطان قلج ارسلان کو اس غلط فہمی کا شکار کر دیا کہ صلیبیوں کا طوفان بس یہی تھا اور وہ اسے ہمیشہ کے لیے دفن کر چکے ہیں۔

🛡️ منظم صلیبی فوج کی آمد اور دارالحکومت نائسیا کا محاصرہ

صلیبیوں کے اس گروہ کو مکمل طور پر ختم سمجھ کر سلطان قلج ارسلان نے اپنا رخ مشرق کی جانب کر لیا تاکہ اپنے ایک دیرینہ مسلمان حریف، دانشمند قبیلے کے ساتھ حساب چکتا کر سکیں۔ مگر اس واقعے کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ قسطنطنیہ کی جانب سے ایک اور دل دہلا دینے والی اطلاع نے سلطان کو چونکا دیا۔ یہ اطلاع تھی کہ صلیبیوں کا ایک حقیقی، منظم اور انتہائی خطرناک لشکر اناطولیہ میں قدم رکھ چکا ہے، جس کی کمان یورپ کے نامور شہزادے اور تجربہ کار جنگجو کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ یہ کوئی کسانوں کا بے ہنگم ہجوم نہیں تھا، بلکہ سر سے پاؤں تک لوہے کی زرہوں میں غرق، جدید اسلحے سے لیس اور ماہر جرنیلوں کی قیادت میں آگے بڑھنے والا ایک ہولناک سیلاب تھا۔

اس نئی صلیبی فوج نے پہنچتے ہی سلجوقی سلطنت کے پایہ تخت، نائسیا کا انتہائی تنگ محاصرہ کر لیا۔ نائسیا ایک مضبوط ترین فصیلوں والا شہر تھا اور اس کے ایک پہلو میں ایک بڑی جھیل واقع تھی جس کے راستے شہر کے باسیوں کو مسلسل راشن اور پانی فراہم ہو رہا تھا۔ جب سلطان قلج ارسلان کو اس سنگین صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر دانشمندوں کے ساتھ جنگ بندی کی اور اپنے دارالخلافہ کو بچانے کے لیے آندھی کی طرح واپس لوٹے۔

⚔️ ہولناک تصادم اور بازنطینی حکمران کی مکارانہ چال

سلطان قلج ارسلان نے نائسیا کے مضافات میں صلیبی فوج پر ایک بھرپور اور زوردار حملہ کیا۔ یہ ایک خونریز معرکہ تھا جس میں سلجوقی سرفروشوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر لڑائی کی، لیکن صلیبیوں کی کثرت اور ان کے جدید ہتھیاروں کو دیکھ کر سلطان کو یہ ادراک ہو گیا کہ وہ کھلے میدان میں اس سمندر کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ حالات کے پیشِ نظر انہیں شہر کا محاصرہ توڑنے کی بجائے پہاڑوں کی جانب پسپائی اختیار کرنی پڑی تاکہ گوریلا طرزِ جنگ اپنا کر ان کا راستہ روکا جا سکے۔

دوسری جانب صلیبیوں نے نائسیا کی جھیل میں اپنی کشتیاں اتار کر شہر کو ملنے والی رسد کا آخری راستہ بھی مسدود کر دیا۔ اب نائسیا کے مسلمان محافظوں کو یقین ہو چلا تھا کہ شہر مزید مزاحمت کے قابل نہیں رہا۔ اس نازک ترین گھڑی میں قسطنطنیہ کے مکار شہنشاہ الیکسیوس نے ایک انتہائی گہری چال چلی۔ اس نے درپردہ نائسیا کے مسلمانوں کو پیغام بھیجا کہ اگر تم شہر کے دروازے صلیبیوں کی بجائے میری فوج کے لیے کھول دو، تو میں تمہاری جان، مال اور اہل و عیال کے تحفظ کی مکمل گارنٹی دیتا ہوں، کیونکہ اگر صلیبی شہر پر قابض ہو گئے تو وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ شہر کے دفاع پر مامور مسلمانوں نے اپنی عوام کی جانیں بچانے کی خاطر یہ پیشکش قبول کر لی۔ اگلی صبح جب صلیبی لشکر شہر پر حتمی حملے کی تیاری مکمل کر چکا تھا، تو انہوں نے فصیلوں پر صلیب کی بجائے بازنطینی سلطنت کا جھنڈا لہراتے دیکھا۔ شہر خاموشی سے بازنطینیوں کے قبضے میں جا چکا تھا اور صلیبی بس حیرانی اور غیض و غضب سے ہاتھ ملتے رہ گئے۔

💡 اس تاریخی واقعے سے ملنے والے اسباق

پہلا سبق: دشمن کو حقیر نہ جاننا

سلطان قلج ارسلان نے کسانوں کے جتھے کو مار بھگانے کے بعد یہ گمان کر لیا تھا کہ اب کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ دشمن کی طاقت کا غلط اندازہ لگانے کی اسی چوک نے صلیبیوں کو ان کے دارالحکومت تک رسائی کا موقع فراہم کیا۔ ایک دانا اور سچا قائد کبھی غفلت کا شکار نہیں ہوتا۔

دوسرا سبق: اندرونی اختلافات کی تباہ کاریاں

جس وقت صلیبی فوجیں یورپ سے روانہ ہو رہی تھیں، عین اسی وقت مسلمان آپسی رنجشوں میں مبتلا تھے اور سلطان قلج ارسلان دانشمند قبیلے کے خلاف محاذ کھولے ہوئے تھے۔ اسی اندرونی انتشار کا بھرپور فائدہ بیرونی دشمن نے اٹھایا۔

تیسرا سبق: سیاست میں دھوکہ دہی اور مفاد پرستی

بازنطینی شہنشاہ نے گو کہ صلیبیوں کو مسلمانوں کے خلاف مدد کے لیے بلایا تھا، لیکن اس نے اپنے ہی اتحادی صلیبیوں کو دھوکہ دے کر نائسیا پر خود قبضہ جما لیا۔ عالمی سیاست کا یہ اصول ہے کہ اس میں کوئی کسی کا سگا نہیں ہوتا، بلکہ ہر شخص صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کا اسیر ہوتا ہے۔

📌 اگلی قسط کا احوال

نائسیا کے قبضے کے بعد لاکھوں صلیبیوں کا یروشلم (بیت المقدس) کی جانب خونی مارچ۔ اناطولیہ کے جھلساتے ہوئے صحراؤں میں سلطان قلج ارسلان کی وہ حیران کن گوریلا جنگ جس نے صلیبی لشکر کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسنے پر مجبور کر دیا۔ ڈوریلیئم کا وہ لرزہ خیز میدان جہاں سلجوقی کمانداروں نے یورپ کے زرہ پوش جنگجوؤں پر موت برسائی، اور پھر صلیبیوں کا وہ طویل ترین محاصرہ جس نے انطاکیہ جیسے ناقابلِ تسخیر شہر کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس داستان کا ایک نیا اور سنسنی خیز باب!

مستند مراجع:

 * الکامل فی التاریخ

 * البدایہ والنہایہ