کچی بات۔ اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، چہ جائیکہ، لہٰذا، فبہا!

کچی بات

اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، چہ جائیکہ، لہٰذا، فبہا!

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بعض لوگ بات تو بڑی کرتے ہیں، مگر دلیل چھوٹی ہوتی ہے؛ دعویٰ آسمان سے باتیں کرتا ہے، مگر بنیاد زمین پر بھی نہیں ہوتی۔ ایسے میں گفتگو کے چند الفاظ پورے استدلال کا پوسٹ مارٹم کر دیتے ہیں: اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، چہ جائیکہ، لہٰذا، فبہا!

اگر دلیل ہے تو پیش کرو، مگر محض دعوے کو دلیل نہ بناؤ؛ چونکہ ہر بات محض کہہ دینے سے سچ نہیں ہوجاتی، چنانچہ ہر دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ جو بات ابتدائی درجے میں ہی ثابت نہ ہو، چہ جائیکہ اس پر بڑے بڑے نتائج کی عمارت کھڑی کردی جائے! لہٰذا گفتگو جذبات سے نہیں، دلیل سے کرو؛ اور اگر بات واقعی اصول و تحقیق کے مطابق ثابت ہوجائے تو فبہا!

ورنہ یاد رکھو: کچی بات کو بلند آواز، طویل تقریر اور پُراعتماد لہجہ پختہ دلیل نہیں بنا سکتے۔

علمی گفتگو میں اصل کمال یہ نہیں کہ انسان کتنی باتیں کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی ہر بات کے پیچھے کتنی دلیل، کتنا شعور اور کتنی دیانت موجود ہے۔