ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دلی والوں کی نظر میں۔۔۔۔
ایک ذائقہ، ایک تہذیب، ایک یادگار روایت۔۔
ایک زمانہ تھا جب کراچی میں،
نہاری بکتی نہیں رہتی تھی،
بک جاتی تھی۔۔
دیگ چڑھتی، خوشبو گلیوں میں پھیلتی اور چند ہی گھنٹوں میں دیگ کا صفایا ہو جاتا۔ صبح آٹھ بجے کے بعد اچھی نہاری ملنا بھی مشکل تھا۔
گویا نہاری کھانا محض ناشتے کا اہتمام نہیں، ذائقے کی ایک ایسی روایت میں شریک ہونا تھا جس کے اپنے آداب تھے۔
نہاری کا اصل لطف اس وقت ہے جب دیگ ابھی ابھی کھلی ہو، نہاری تازہ تیار ہوئی ہو، اس کی بھاپ اٹھ رہی ہو اور گرم گرم نان اس کے ساتھ دسترخوان پر آ جائیں۔ اس لمحے نہاری کے شوربے کی خوشبو، گوشت کی نرمی اور مصالحوں کی مہک مل کر ذائقے کا وہ جادو جگاتے ہیں جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔
پھر وہ زمانہ بھی تھا جب نہاری میں چھوٹے کا مغز ڈالا جاتا اور اوپر سے خالص اصلی گھی کا بگھار لگتا۔ گرم نان کا نوالہ، شوربے کی چاشنی، مغز کی ملائمت اور دیسی گھی کی خوشبو—یہ سب مل کر ایک ایسی لذت پیدا کرتے تھے جس کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آج نہاری ہر وقت دستیاب ہے، مگر ہر وقت دستیاب ہونے اور اپنے اصل ذائقے کے ساتھ ملنے میں بڑا فرق ہے۔ آپ نے بہت بار تجربہ کیا ہوگا نہاری گھر لانے پر ٹھنڈی ہو کر جم جاتی ہے بشکل جیلی،
پہلے نہاری کا اپنا وقت تھا، اپنی خوشبو تھی، اپنے قدر دان تھے اور دیگ کھلنے کا اپنا ایک انتظار تھا۔
سو، اگر آج بھی اصلی نہاری کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیے: نہاری کھانی ہو تو دیگ کھلنے کے وقت کھائیے۔ اور اگر اس میں بونگ کی بوٹی کے ساتھ، خالص گھی کا بگھار اور چھوٹے کا مغز کتری ہوئی ادرک اور ہرچ مرچ کچھ لوگ لیموں بھی نچوڑتے ہیں یہ سب میسر آ جائے تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے محض نہاری نہیں کھائی، بلکہ کراچی کے ایک سنہری ذائقے کی جھلک پا لی ہے۔
کیونکہ بعض ذائقے صرف زبان پر نہیں رہتے، یادوں میں بھی بس جاتے ہیں۔
نہاری پیٹ بھرنے کا نام نہیں، یہ کراچی کی تہذیب، روایت اور ذوقِ طعام کا ایک زندہ استعارہ ہے۔۔