امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے قطر کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق قطری ثالثوں نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے۔ یہ تجویز اتوار کو تہران کے سامنے رکھی گئی تھی جس پر ایرانی قیادت غور کر رہی ہے۔
توقع ہے کہ ایران رواں ہفتے کے اختتام تک قطر کی تجویز پر اپنا جواب دے گا۔ یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ دوسری جانب امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نومبر میں ایران پر مختصر لیکن شدید نوعیت کے حملے کی منظوری دیں گے۔ منصوبے سے مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کو بھی آگاہ کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کے حق میں ہیں۔ نئے حملوں کیلئے امریکی بمبار اور لڑاکا طیارے تیار کیے جارہے ہیں ۔ میزائل دفاعی نظام کو بھی مزید مضبوط کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل بھی ایران کے خلاف نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے۔ دوسری جانب ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے باوجود سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔