ججز کی تقرریوں اور تبادلوں میں انتظامی مداخلت، جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا، جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر لاہور ہائیکورٹ میں فرائض انجام دے رہے تھے۔

نئے ججز روسٹر میں جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ راولپنڈی بنچ میں کیا گیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے 2032 میں ریٹائر ڈ ہونا تھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ایل ایل بی کی ڈگری 1994 کو پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی، جسٹس محسن اختر کیانی گیارہ فروری 1970 کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے،23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج تعینات ہوئے تھے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کی کاپی سماء نے حاصل کرلی۔ لکھا ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا۔ ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھوں۔

استعفے کی کاپی کے مطابق اپنے عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا، ججز کی تقرری اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے لکھا کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے، عام سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھوں، وکالت میں واپس آکر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کروں گا۔