ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )فجر سے کچھ پہلے صحن میں نکلیں تو ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک ہوتی ہے اور مشرق کی دیوار کے اوپر آسمان کا رنگ آہستہ آہستہ بدلنے لگتا ہے۔ پہلے گہرا، سیاہی مائل نیلا۔ پھر ہلکا سا سرمئی۔ ستارے ایک ایک کر کے بجھنے لگتے ہیں۔
مگر سورج؟ وہ ابھی افق کے بہت نیچے ہے۔
لاہور میں یہ مدھم روشنی سورج نکلنے سے تقریباً اسّی سے سو منٹ پہلے شروع ہو جاتی ہے، موسم کے حساب سے۔ تو سوال یہ ہے کہ جب سورج نظر ہی نہیں آ رہا، تو یہ روشنی آ کہاں سے رہی ہے؟ اور اس سوال کے اندر ایک اور سوال چھپا ہے، جسے تقریباً ایک ہزار سال پہلے اندلس کے ایک ریاضی دان نے پکڑا: کیا یہی روشنی ہمیں بتا سکتی ہے کہ ہمارے سر پر ہوا کی چادر کتنی اونچی ہے؟
ان کا نام تھا ابو عبداللہ محمد ابن معاذ الجیانی۔ وہ گیارہویں صدی میں اندلس کے شہر جیان سے تعلق رکھتے تھے، جو آج اسپین میں ہے۔ ان کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے۔ مگر ان کا ایک چھوٹا سا رسالہ بچ گیا۔ اس کا اصل عربی متن آج موجود نہیں، صرف پرانے ترجمے ملتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کا عنوان کچھ یوں تھا: "ما الفجر والشفق”، یعنی فجر اور شفق کیا ہیں؟
جواب سمجھنے کے لیے ایک ایسی چیز سے شروع کرتے ہیں جو آپ نے ضرور دیکھی ہو گی۔
شام کو سورج ڈوب چکا ہوتا ہے۔ گلی میں سایہ پھیل گیا ہوتا ہے۔ مگر اوپر آسمان میں کوئی ہوائی جہاز گزرتا ہے، اور اس کے پیچھے بنی سفید لکیر سنہری چمک رہی ہوتی ہے۔ جہاز تقریباً دس گیارہ کلومیٹر کی اونچائی پر اڑتا ہے۔ وہاں سے سورج ابھی ڈوبا ہی نہیں۔
شمالی علاقوں میں صبح یہی منظر اُلٹا نظر آتا ہے۔ وادی ابھی اندھیرے میں ہوتی ہے، اور برف پوش چوٹی سب سے پہلے سنہری ہو جاتی ہے۔
اصول ایک ہی ہے۔ جو چیز جتنی اونچی ہو، وہ سورج کو اتنا پہلے دیکھ لیتی ہے، اور اتنا دیر سے رخصت کرتی ہے۔
اب ایک بات سوچیں۔ ہمارے سر کے اوپر ہوا بھی تو ہے۔ اور یہ ہوا جہاز سے کہیں زیادہ اونچی جاتی ہے۔ صبح جب سورج ہمارے لیے ابھی افق کے نیچے ہوتا ہے، اس ہوا کا سب سے اونچا حصہ دھوپ میں آ چکا ہوتا ہے۔ ہوا کے ننھے ذرے اور گرد اس دھوپ کو ہر طرف بکھیر دیتے ہیں۔ اس بکھری ہوئی روشنی کا کچھ حصہ نیچے ہماری آنکھ تک آ جاتا ہے۔
یہ ویسا ہی ہے جیسے کمرے میں کھڑکی سے دھوپ اندر آ کر ایک دیوار پر پڑے، اور پورا کمرہ ہلکا سا روشن ہو جائے۔ آپ کو سورج نظر نہیں آ رہا، مگر کمرے میں روشنی ہے۔
یعنی فجر کی پہلی روشنی سورج سے سیدھی نہیں آتی۔ یہ ہماری اپنی فضا ہے، جو اوپر پڑنے والی دھوپ کو نیچے ہم تک لوٹا رہی ہے۔ سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے کے بعد کی اسی بالواسطہ روشنی کو شفق (ٹوائی لائٹ) کہتے ہیں۔
ایک منٹ رکیے۔ سیدھی بات یہ ہے: سورج آپ کے لیے ابھی نیچے ہے، مگر آپ کے سر کے اوپر کی ہوا کے لیے نہیں۔ ہوا اسے پہلے دیکھ لیتی ہے، اور وہی روشنی آپ تک پہنچا دیتی ہے۔
اب اصل سوال۔ یہ روشنی شروع کب ہوتی ہے؟
آج کے ماہرینِ فلکیات اس کا جواب ایک زاویے میں دیتے ہیں۔ جب سورج افق سے تقریباً اٹھارہ درجے نیچے ہو، تب آسمان پر پہلی مدھم روشنی آتی ہے۔ اس سے پہلے سورج آسمان کو ذرا بھی روشن نہیں کرتا۔ اٹھارہ درجے کتنے ہوتے ہیں؟ بازو پوری طرح سیدھا کر کے مٹھی بند کریں۔ ایک مٹھی آسمان پر تقریباً دس درجے گھیرتی ہے۔ یعنی سورج افق سے تقریباً دو مٹھی نیچے ہو، تو فجر کی پہلی روشنی شروع ہوتی ہے۔
یہاں ایک بات واضح رہے۔ فجر اور عشاء کے اوقات کس زاویے پر طے ہوں، یہ علماء اور متعلقہ اداروں کا میدان ہے، اور مختلف کیلنڈر مختلف زاویے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پوسٹ صرف یہ بتا رہی ہے کہ وہ روشنی آتی کہاں سے ہے۔
ابن معاذ نے اپنے رسالے میں اٹھارہ درجے کا ذکر کیا، مگر حساب کے لیے انیس درجے کو بنیاد بنایا۔ اور پھر انہوں نے وہ کیا جس نے مجھے پہلی بار پڑھ کر حیران کر دیا۔
ان کی دلیل سادہ تھی۔ اگر پہلی روشنی اُس وقت آتی ہے جب سورج اتنے درجے نیچے ہو، تو سورج کی وہ کرن جو زمین کو چھوتی ہوئی گزرتی ہے، کہیں اوپر جا کر ہوا کی آخری تہہ سے ٹکرا رہی ہے۔ زمین کا سائز پہلے سے معلوم تھا۔ زاویہ اب معلوم ہو گیا۔ ان دونوں سے ایک سادہ مثلث بنتی ہے، اور اس مثلث سے نکل آتا ہے کہ وہ سب سے اونچی ہوا، جسے ابھی ابھی دھوپ لگی، زمین سے کتنی اوپر ہے۔
ان کا جواب تھا: تقریباً باون میل۔
اسی طریقے کو آج کے زمین کے ناپ اور اٹھارہ درجے کے ساتھ چلائیں تو تقریباً اسّی کلومیٹر بنتا ہے۔ موٹروے پر ایک سو بیس کی رفتار سے یہ چالیس منٹ کا فاصلہ ہے۔ بس سیدھا اوپر۔
یہ حساب آخری لفظ نہیں تھا۔ بعد میں کیپلر اور دوسرے ماہرین نے یہ اندازہ کافی کم کیا، اور آج ہم جانتے ہیں کہ فضا کسی ایک لکیر پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اوپر جاتے جاتے پتلی ہوتی جاتی ہے۔ مگر خیال اپنی جگہ درست تھا: شفق فضا کی اونچائی ناپنے کا ایک پیمانہ ہے۔
اس رسالے کے ساتھ ایک اور عجیب بات ہوئی۔ بارہویں صدی میں اس کا لاطینی ترجمہ ہوا، اور 1542 میں لزبن میں یہ ابن الہیثم کے نام سے چھپا۔ صدیوں تک یورپ اسے ابن الہیثم کا کام سمجھتا رہا، شاید اس لیے کہ کئی نسخے ابن الہیثم کی بصریات کی کتاب کے ساتھ جلد میں بندھے ہوتے تھے۔ آخرکار 1967 میں مؤرخِ سائنس عبدالحمید صبرہ نے دکھایا کہ اس کے اصل مصنف ابن معاذ تھے۔
تو اگلی بار جب فجر سے پہلے مشرق کا آسمان ہلکا ہوتا دیکھیں، تو یاد رکھیں کہ آپ سورج نہیں دیکھ رہے۔ آپ اپنے سر پر تنی ہوئی ہوا کی چادر کی چھت دیکھ رہے ہیں، جسے دھوپ ابھی ابھی چھو رہی ہے۔ وہ مدھم سی روشنی دراصل ایک فیتہ ہے۔ اسی فیتے سے، ایک ہزار سال پہلے، کسی نے آسمان کی اونچائی ناپ لی تھی۔
ہم میں سے اکثر نے ہزاروں صبحیں یہ روشنی دیکھی ہے، اٹھ کر وضو کیا ہے، چائے بنائی ہے، یا کروٹ بدل کر پھر سو گئے ہیں، اور کبھی یہ نہیں سوچا کہ آسمان کا یہ رنگ دراصل ایک سوال کا جواب ہے جو کسی نے بہت پہلے، بہت صبر سے پوچھا تھا۔ آپ کے خیال میں روزمرہ کی اور کتنی چیزیں ہوں گی جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، مگر ہم نے ابھی ان سے سوال پوچھنا شروع نہیں کیا؟
اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔