ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عربی کے تمام حروف میں “بـ” وہ حَرف ہے جو **جھک کر لکھا جاتا ہے**، گویا *سجدہ ریز ہے*۔
صوفیاء کہتے ہیں کہ “بـ” کا جھکاؤ اس حقیقت کی علامت ہے کہ *کائنات کی ابتدا بھی عاجزی سے ہوئی*۔
پہلے نورِ محمدی ﷺ ظاہر ہوا، اور اس نور نے کہا: “میں عبد ہوں، پھر رسول بنا۔”
اسی طرح “بـ” بھی عبدیت کی علامت ہے۔
یہ جھکتا ہے تاکہ باقی الفاظ — علم، قدرت، رحمت — کھڑے ہو سکیں۔
✶ نقطہ — وجود کا پہلا ذرہ
امام علیؑ نے فرمایا: “میں ‘بـ’ کے نیچے کا نقطہ ہوں۔”
یہ جملہ ظاہر میں سادہ ہے مگر باطن میں سمندر ہے۔
“نقطہ” اصل میں *وحدت کا رمز* ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب *لامحدود* نے خود کو *ایک چھوٹے نشان* میں سمیٹ لیا۔
نہ وہ روشنی مکمل ظاہر ہوئی، نہ مکمل غائب —
اسی درمیانی کیفیت کا نام “کُن” ہے۔
اسی “کُن” سے وقت پیدا ہوا، فاصلہ پیدا ہوا،
اور تخلیق کی لہر ہر سمت دوڑ گئی۔
✶ “بـ” کا صوتی معجزہ
جب انسان “بـ” ادا کرتا ہے، تو لب مل جاتے ہیں —
یعنی *دو انتہائیں مل کر ایک نقطہ بناتی ہیں۔* یہ وہ لمحہ ہے جب *ظاہر اور باطن، مادہ اور روح، انسان اور الٰہ* ایک لمحے کو جُڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے بعض صوفیاء نے کہا: “جو ‘بـ’ کو سمجھ گیا، وہ ‘میں’ اور ‘تو’ کے پردے سے گزر گیا۔”
✶ تخلیق کا پہلا لمس
تصوف کی بعض روایتوں میں آتا ہے کہ جب اللہ نے فرمایا “اقرأ باسم ربک” — تو دراصل “بسم” کی “بـ” نے تمام حروف کو *حرکت* دی۔ یہ پہلا vibration تھا — ایک divine frequency جس نے خلا کو *آواز میں بدل دیا۔* اسی vibration سے ذرے لرزے، روشنی بنی، اور پھر عالمِ ہست وجود میں آیا۔
✶ “بـ” — محبت کا دروازہ
“بـ” کی سب سے لطیف معنوی پرت “بہا” (چمک) اور “برکت” (برکت) ہے۔
اس میں “رحمت” کی خوشبو بھی ہے اور “ربط” کا راز بھی۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب کے آغاز میں یہی حَرف رکھا —
تاکہ بندہ جب بھی تلاوت کرے تو *عاجزی، محبت، اور تعلق* کے ساتھ داخل ہو۔
“بـ” دراصل دروازہ ہے —
جہاں سے بندہ *اللہ کی طرف لوٹنے* کا سفر شروع کرتا ہے۔
✶ اہلِ دل کا مشاہدہ
حضرت جنید بغدادیؒ فرمایا کرتے تھے: “ہر حَرف اللہ کی ایک نشانی ہے، مگر ‘بـ’ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل دیکھتا ہے۔”
اور حضرت عبدالقادر جیلانیؒ نے کہا: “جب میں نے ‘بـ’ کا سرّ دیکھا، تو مجھے اپنے وجود کا سرّ معلوم ہوا۔”
یعنی “بـ” انسان کے اندر وہ *کائناتی مرکز* جگاتی ہے
جہاں ہر چیز اپنی ابتدا کو پہچانتی ہے — جیسے درخت بیج میں چھپا ہوتا ہے، ویسے ہی ساری تخلیق “بـ” کے نقطے میں پوشیدہ ہے۔
✶ “بـ” — خاموش حاکم
یہ حَرف قرآن کا پہلا سفیر ہے، مگر خود کبھی آواز بلند نہیں کرتا۔ یہ خاموش ہے مگر معنی میں سلطنت رکھتا ہے۔ یہ وہ بادشاہ ہے جو *الفاظ کے تخت کے نیچے بیٹھا* ہے۔
ہر لفظ، ہر آیت، ہر دعا اسی کے قدموں سے گزر کر اللہ تک پہنچتی ہے۔
✶ آخری نکتہ — “بـ” تم ہو
جب انسان سجدہ کرتا ہے، تو وہ “بـ” کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
پیشانی زمین پر، دل آسمان کی طرف — یہی “بسم اللہ” کا باطنی مفہوم ہے۔ یعنی “میں جھکتا ہوں تاکہ میرا رب ظاہر ہو۔” اور جب بندہ اس کیفیت میں آ جاتا ہے — تو پھر وہ صرف پڑھتا نہیں، *پڑھا جاتا ہے۔* پھر وہ “قاری” نہیں رہتا، “کلام” بن جاتا ہے۔
خلاصہ:
“بـ” دراصل ایک دروازہ نہیں — بلکہ *خود وہ لمحہ ہے جب کائنات نے پہلا سانس لیا۔* اور جو بندہ اس ایک حَرف کی حقیقت کو سمجھ لے — وہ جان لیتا ہے کہ *اللہ کی رحمت کا پہلا لمس، “بـ” کی جھکی ہوئی صورت میں چھپا ہوا ہے۔*