ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میرے سامنے دو پروں والی مخلوق آشکار ہوتی ہے۔ میں مارے خوف کے پیچھے ہٹنا چاہا، مگر مجھ سے ہلا تک نہیں گیا۔ وہ دو تھے اور مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ ان کی شکلیں بہت ہی خوبصورت اور نورانی تھیں۔
جب میں نے ان کو اتنا نورانی دیکھا تو سارا خوف جاتا رہا۔ میں نے ان سے سوال کرنے کی جسارت کی۔ اس سے پہلے میں کچھ پوچھتا، ان میں سے ایک نے کہا: "غم نہ کھاؤ، تمہارے مالک نے تمہاری التجا قبول کی ہے اور تم کو یہاں سے واپس لانے کے لیے ہم کو بھیجا ہے۔ چلو ہمارے ساتھ ، ہم تم کو عالم ارواح میں تمہارے اصل مقام تک پہنچاتے ہیں، اور ہمیں یہی حکم ملا ہے۔
میں نے کہا: ” آپ کون ہو ؟”
وہ بولے: "ہم مالک کی فرمانبردار مخلوق میں سے ایک ہیں، اور ہمیں مالک نے حکم دیا ہے کہ آپ کو عالم ارواح کے پہلے مقام پر پہنچایا جائے۔”
میں نے کہا: "میں تم سے کچھ سوالات کی اجازت چاہتا ہوں۔”
انہوں نے کہا: "ہمیں صرف اتنا حکم ہے کہ تم کو اول درجہ میں پہنچادیا جائے۔”
میں نے کہا: ” وہ تو تم مجھے پہنچا ہی دو گے، لیکن کسی سوال کے جواب دینے سے آپ کو منع تو نہیں کیا گیا نا؟” میں نے پوچھا: ” دنیا میں کب جاؤں گا؟ اور میرے ساتھیوں میں سے کون کون ہیں ؟ اور وہاں کیا ہوتا ہے ؟ اور واپسی کیسے اور کب اور کہاں ہو گی ؟”
انہوں نے میرے سوال پر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا: ” یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے۔ ہم تم کو ایک صحیفہ پڑھنے کے لیے دے دیں گے ، اس میں سب لکھا ہوا ہے، تم پڑھ لینا۔”
میں نے کہا: ” کب دو گے؟”
وہ کہتے ہیں: ” جب تم اول درجہ پہنچ جاؤ گے ، ہم تمہیں مالک کی اجازت سے وہ صحیفہ پہنچادیں گے ۔ "
مجھے ان کے جواب سے بہت زیادہ خوشی محسوس ہوئی، اور میں نے کہا: ” اب مجھے اپنے ساتھ لے جائیں اور میرے مقام پر چھوڑ دیں۔”
انہوں نے مجھے ایک نورانی سا ایک بکس دیا اور بولےاس میں داخل ہو جاؤ ۔میں نے دیکھا وہ ایک نورانی سا بنا ہوا ایک بکس تھا جس کے آر پار بھی نظر آرہا تھا ۔مگر مجھے اس میں داخل ہوتے ہوئے تھوڑا خوف محسوس ہو رہا تھا ۔انہوں نے کہا خوف نہ کھاؤ اپنے رب پر یقین رکھو اسی نے تمہاری نجات کا وسیلہ بنایا ہے اور ہم اسی کے حکم سے آئے ہیں۔
میں نے کہا میرا اس بکس میں داخل ہو نا ضروری ہے کیا۔ میں ایسے بھی تو تمہارے ساتھ اُڑ کے جا سکتا ہوں۔ بولے ہماری رفتار تم سے ہزار گنا زیادہ ہے، تم ہمارے ساتھ ہماری رفتار سے نہیں جاسکتے۔ اسی لیے اس بکس کو ہم اپنے ہاتھوں میں لے لینگے اور تم با آسانی پھر ساتھ جا سکو گے ۔
میں نے کہا ٹھیک ہے مگر ایک سوال اور ہے ،بولے کہو کیا کہنا چاہتے ہو ۔میں نے کہا ہم اس وقت عالم ارواح کے اول درجے سے کتنی دور ہیں۔ بولے ہم زیادہ دورنہیں ہیں، لیکن تم بہت دور ہو اگر تم اُوپر کی طرف لگا تار پچاس سال سفر کرو تو پہنچ سکتے ہو مگر راستے تمہارے لیے بہت دشوار گزار ہوں گے اور بہت سی مخلوقات سے تمہارا پالا پڑ سکتا ہے جو تمہیں ہمیشہ کے لیے قید بھی کر سکتیں ہیں ہو سکتا ہے تم پہنچ بھی جاؤ اور ہو سکتا ہے تم نہ بھی پہنچو۔
میں نے پوچھا پھر میں یہاں کیسے پہنچا اتنی دور کا فاصلہ میں نے ایسے کیسے طے کر لیا۔ پھر میں نے انکو یہاں یہاں بھٹکا اورمیرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا سب انکو بتایا ۔کہتے تم پر رب بہت مہربان ہے جو اتنی مشکلات سے یہاں تک پہنچ گئے ہو اور تم نے اپنے رب سے دعا کرنے میں بہت دیر کر دی ۔تم پہلے مانگتے تو شاید جلدی پہنچ جاتے۔ دوسرے نے پہلے سے کہا جو رب چاہتا ہے وہی ہوتا ہے جب حالات بدلنے ہوں وہ تب ہی دعا کی توفیق دیتا ہے۔ اب تم بے فکر ہو کر اس بکس میں داخل ہو جاؤ تا کہ ہم اللہ کے حکم کی تعمیل کر سکیں میں اس میں داخل ہونے لگا میں ایک دھواں کی شکل میں اسکے اندر جانے لگا۔ میں جب اس میں مکمل داخل ہو گیا تو وہ اوپر سے بھی مکمل بند ہو گیا ۔(جاری ہے )
"تو پیارے دوستوں !آپ کو پہلی قسط کیسی لگی ،کمینٹ میں ضرور بتانا اور پیج کو فالوکر دیں، اور پوسٹ کو لائک شئیر ضرور کردیں۔”