امام مہدی کا ظہور اور عصر حاضر ۔۔۔۔۔۔

امام مہدی کا ظہور

اور عصر حاضر ۔۔۔۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کچھ لوگ اس گمان میں ہیں کہ امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت جدید ہتھیار اور جنگی ٹیکنالوجی خودبخود ناکارہ ہو چکی ہوگی اور جنگیں صرف قدیم طرز کے ہتھیاروں سے لڑی جائیں گی۔ لیکن ذرا تاریخ پر نظر ڈالیں تو جن ہتھیاروں کو آج ہم قدیم کہتے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی تھے۔

اگر اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہوتی کہ کسی برگزیدہ ہستی کے ظہور پر دشمن کے ہتھیار خودبخود ناکارہ ہو جاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کو بھی بدر، اُحد اور خندق جیسے معرکوں میں جنگیں لڑنے، لشکر تیار کرنے، حکمتِ عملی اختیار کرنے اور قربانیاں دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

پھر یہ تصور کیوں قائم کر لیا گیا ہے کہ امام مہدیؑ کے دور میں جدید ہتھیار اور جنگی ٹیکنالوجی لازماً ناکارہ ہو جائیں گے؟ ممکن ہے اس دور میں بھی جدید ٹیکنالوجی موجود ہو اور جنگیں اسی زمانے کے دستیاب وسائل سے لڑی جائیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے ظہور سے پہلے ہی کسی عالمی جنگ میں دشمن ممالک ایک دوسرے کے خلاف اپنے تباہ کن ہتھیار استعمال کرکے ایسی بربادی پھیلا دیں کہ دنیا ایک طویل عرصے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہو کر قدیم دور میں واپس چلی جائے۔ تاہم یہ ایک امکان ہے، کوئی ثابت شدہ پیش گوئی نہیں۔

امام مہدیؑ کا ظہور بہت سے لوگوں کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ہوگا۔ روایات میں ان کے لشکر سے مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کے الگ ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں کے پہلے سے قائم تصورات اور توقعات بھی ان کے لیے آزمائش بن جائیں۔

اصل امتحان یہ نہیں ہوگا کہ جنگ کس زمانے کے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ جب حق سامنے آئے گا تو کون اس کا ساتھ دیتا ہے اور کون اپنے پہلے سے قائم تصورات کی وجہ سے اس سے دور ہو جاتا ہے۔

#facebookpost #facebookviral #storybook #ww3