ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یکم نومبر 1922، وہ دن تھا جب دنیا کی سب سے طاقتور اسلامی سلطنت کا چراغ بجھا دیا گیا اور امت کے اتحاد کو توڑ کر لوگوں کو علاقوں، قوموں اور فرقوں کی افضلیت کی ہڈی چسوانا شروع کی، اور اسی ہڈی کے ذائقے نے آج فلسطین، کشمیر، یمن، برما، چیچنیا، شام،عراق، اردن، بوسنیا اور صومالیہ کا درد امت کا نہیں ان علاقوں اور قوموں کا درد بنا دیا۔ سلطنتِ عثمانیہ چھ صدیوں تک اسلام کی طاقت، وحدت اور شان و شوکت کی علامت رہی۔ مگر اس کے زوال کی کہانی بہت دردناک ہے۔ یہ صرف ایک سلطنت کے خاتمے کی کہانی نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے بکھرنے، دھوکے اور غفلت کی ایک طویل داستان ہے۔
انیسویں صدی میں مغربی طاقتوں نے عثمانی خلافت کے خلاف خفیہ منصوبے بنانا شروع کیے۔ برطانیہ، فرانس اور روس نے اسے “یورپ کا بیمار آدمی” قرار دیا اور اس کے خلاف سیاسی، عسکری اور فکری جنگ چھیڑ دی۔ انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں قوم پرستی کے بیج بوئے، عربوں، ترکوں، کردوں اور دیگر اقوام کو آپس میں لڑا دیا۔ 1916 میں ہونے والا سائیکس-پیکو معاہدہ اسی سازش کا حصہ تھا، جس کے تحت مسلم دنیا کو یورپی طاقتوں نے آپس میں تقسیم کر لیا۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ جرمنی کے ساتھ کھڑی ہوئی۔ دشمن طاقتوں نے موقع غنیمت جانا۔ برطانیہ نے عرب قبائل کو بغاوت پر اکسایا اور لارنس آف عریبیہ کے ذریعے عربوں کو خلافت کے خلاف کھڑا کر دیا۔ انہیں جھوٹے وعدے دیے گئے کہ اگر وہ ترکوں سے الگ ہو جائیں تو انہیں آزاد عرب ریاستیں ملیں گی۔ نتیجتاً عربوں نے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور خلافت کا بازو اندر سے کٹ گیا۔
جنگِ عظیم میں سلطنت کو شکست ہوئی۔ شام، عراق، مصر، فلسطین، اور استنبول تک دشمن کے قبضے میں چلے گئے۔ خلافت کی بنیادیں ہل گئیں۔ اسی دوران مصطفیٰ کمال اتاترک کے نام سے ایک نئی تحریک ابھری، جو بظاہر آزادی کے لیے تھی مگر دراصل خلافت کے خاتمے کی تمہید تھی۔ 1922 میں اس نے سلطنت عثمانیہ کو ختم کر کے خود اقتدار سنبھال لیا، اور دو سال بعد 1924 میں خلافتِ عثمانیہ کو بھی سرکاری طور پر مٹا دیا گیا۔
اس کے بعد ترکی کو ایک سیکولر جمہوریہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسلامی شعائر پر پابندیاں لگیں۔ اذان عربی کی بجائے ترکی میں دی جانے لگی، حجاب پر قدغن لگائی گئی، اور عربی رسم الخط تک ممنوع قرار دے دیا گیا۔ مصطفی کمال پاشا نے ترکی کو ننگا کر کے یورپ کو دکھا دیا کہ کسی طریقے سے ہمیں بھی یورپ میں شامل کر لیا جائے۔ وہ سرزمین جہاں کبھی خلافتِ اسلامیہ کا پرچم لہراتا تھا، وہاں اب مغربی نظامِ حکومت کا بول بالا ہو گیا۔
یہ سب کچھ صرف ایک سلطنت کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کا بکھر جانا تھا۔ برطانیہ اور فرانس نے اسلامی دنیا کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کر دیا۔ فلسطین یہودیوں کے حوالے کر دیا گیا، عرب دنیا یورپی وفادار اور غدار بادشاہتوں میں بدل گئی، اور خلافت جو کبھی امت کا مرکز تھی، ماضی کی ایک یاد بن کر رہ گئی۔
یکم نومبر 1922 تاریخ کا وہ دن ہے جب امتِ مسلمہ نے اپنی عظمتِ رفتہ کو کھو دیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب مسلمان اپنی وحدت سے منہ موڑ لیتے ہیں، جب ایمان کے بجائے اقتدار کو ترجیح دی جاتی ہے، تو خلافتیں ختم ہو جاتی ہیں اور قومیں مٹ جاتی ہیں۔ یہ دن امت کے بکھرنے، آنسو بہانے اور تاریخ کے سب سے بڑے زخم کا نشان ہے۔