ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ صبر اور شکر ، بلند پرواز۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی وہ ہمیں ہماری پسندیدہ چیزیں عطا کرتی ہے اور کبھی وہ ہم سے وہ چیزیں بھی چھین لیتی ہے جن کے بغیر ہم زندگی کا تصور نہیں کر سکتے۔ کبھی کامیابی قدم چومتی ہے، کبھی ناکامی راستہ روک لیتی ہے۔ کبھی خوشیوں کی بارش ہوتی ہے اور کبھی غم کے بادل دل و دماغ کو گھیر لیتے ہیں۔ ایسے میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: آخر مؤمن زندگی کے ان تمام اتار چڑھاؤ کے درمیان خود کو کیسے سنبھالتا ہے؟
اس سوال کا جواب دو الفاظ میں پوشیدہ ہے: صبر اور شکر!
صبر اور شکر محض دو اخلاقی خوبیاں نہیں بلکہ مؤمن کی پوری زندگی کا نظام ہیں۔ یہ وہ دو روحانی پر ہیں جن کے ذریعے انسان حالات کی زمین سے بلند ہو کر اللہ کی رضا، قرب اور آخرت کی کامیابی کی طرف پرواز کرتا ہے۔ ایک پر اسے مصیبتوں میں گرنے سے بچاتا ہے اور دوسرا نعمتوں کی بلندی پر اسے غرور کے ساتھ اڑنے نہیں دیتا۔
زندگی کے دو مختلف موسم اور مؤمن کا ایک ہی راستہ
انسان کی زندگی میں دو طرح کے حالات آتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں انسان پسند کرتا ہے، اور دوسرے وہ جن سے بچنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ کبھی مال ملتا ہے، کبھی مال چلا جاتا ہے۔ کبھی صحت ہوتی ہے، کبھی بیماری آتی ہے۔ کبھی اپنے ساتھ ہوتے ہیں، کبھی تنہائی مقدر بنتی ہے۔ کبھی عزت ملتی ہے، کبھی لوگوں کی باتیں دل کو زخمی کرتی ہیں۔ کبھی دعائیں پوری ہوتی دکھائی دیتی ہیں اور کبھی انسان طویل انتظار میں رہتا ہے۔ عام انسان کا رویہ اکثر حالات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ خوشی میں وہ اپنی کامیابی کو اپنی قابلیت سمجھنے لگتا ہے اور مشکل میں اپنی زندگی کو بدقسمتی قرار دینے لگتا ہے۔ لیکن مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ اس کا تعلق اللہ کے ساتھ حالات کا محتاج نہیں ہوتا۔ اسے نعمت ملے تو وہ اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے، اور آزمائش آئے تو وہ اسی اللہ کے سامنے ثابت قدم رہتا ہے۔ اس کے حالات بدل سکتے ہیں، لیکن اس کا اللہ سے تعلق نہیں بدلتا۔
پہلا پر: صبر — جب زندگی ہماری مرضی کے خلاف ہو
صبر کا مطلب صرف خاموشی سے تکلیف برداشت کرنا نہیں، بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مشکل حالات میں بھی اپنے ایمان، اخلاق، کردار اور اللہ سے تعلق کو محفوظ رکھے۔ جب کوئی خواہش پوری نہ ہو تو حرام راستہ اختیار نہ کرے۔ جب کسی کی طرف سے تکلیف پہنچے تو ظلم کا جواب ظلم سے نہ دے۔ جب حالات مشکل ہوں تو مایوسی کو اپنے دل میں جگہ نہ دے۔ جب گناہ کا موقع ملے تو اللہ کے خوف سے رک جائے۔ یہ بھی صبر ہے کہ انسان نیکی کے راستے پر قائم رہے، چاہے اس راستے میں مشکلات ہی کیوں نہ ہوں۔ قرآن مجید صبر کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: قرآنی آیت: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ترجمہ: اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۃ البقرہ: 153) غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے مشکل حالات میں انسان کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ اسے دو سہارے دیے: صبر اور نماز۔ صبر انسان کے اندر استقامت پیدا کرتا ہے اور نماز اسے اس ذات سے جوڑتی ہے جس کے اختیار میں تمام حالات ہیں۔ ہم اکثر چاہتے ہیں کہ ہماری پریشانیاں فوراً ختم ہو جائیں، ہماری دعائیں فوراً قبول ہو جائیں اور ہمارے راستے فوراً آسان ہو جائیں۔ لیکن کبھی کبھی اللہ تعالیٰ ہمیں مطلوبہ منزل تک پہنچانے سے پہلے اس قابل بناتا ہے کہ ہم اس منزل کو سنبھال سکیں۔ بعض اوقات تاخیر محرومی نہیں ہوتی، تربیت ہوتی ہے۔ بعض اوقات رکاوٹ سزا نہیں ہوتی، حفاظت ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات وہ چیز نہ ملنا جسے ہم اپنی خوشی سمجھ رہے ہوتے ہیں، ہمارے حق میں بہت بڑی بھلائی ہوتی ہے۔ صبر ہمیں یہ یقین عطا کرتا ہے کہ ہم ہر بات نہیں جانتے، لیکن ہمارا رب ہر بات جانتا ہے۔
دوسرا پر: شکر — جب زندگی ہمیں ہماری خواہش سے زیادہ عطا کرے
اگر صبر مشکلات میں مؤمن کی حفاظت کرتا ہے تو شکر نعمتوں کے درمیان اس کے ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔ انسان کی ایک عجیب نفسیات ہے: جو چیز اسے حاصل نہیں ہوتی، وہ اسے بہت بڑی محسوس ہوتی ہے، اور جو کچھ اسے حاصل ہو چکا ہوتا ہے، وہ آہستہ آہستہ معمولی لگنے لگتا ہے۔ جس شخص کے پاس روزگار نہیں، وہ روزگار کو اپنی سب سے بڑی خوشی سمجھتا ہے۔ لیکن جب روزگار مل جاتا ہے تو وہ زیادہ آمدنی کی خواہش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جس کے پاس چھوٹا گھر ہے، وہ بڑے گھر کا خواب دیکھتا ہے۔ جس کے پاس تھوڑا مال ہے، وہ زیادہ مال کی فکر کرتا ہے۔ جس کے پاس صحت ہے، وہ اکثر اس کی قدر نہیں کرتا۔ یوں انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ ان چیزوں کے انتظار میں گزار دیتا ہے جو اس کے پاس نہیں، اور ان نعمتوں کو بھول جاتا ہے جو پہلے ہی اس کے پاس موجود ہیں۔ ذرا سوچیں! آپ کی آنکھیں جو دنیا دیکھ رہی ہیں، کسی کی سب سے بڑی خواہش ہیں۔ آپ کے پھیپھڑے جو ہر لمحہ سانس لے رہے ہیں، کسی کی دعا ہیں۔ آپ کے گھر میں موجود لوگ، جن کی موجودگی کبھی آپ کو معمولی محسوس ہوتی ہے، کسی کی زندگی کی سب سے بڑی محرومی ہو سکتے ہیں۔ آپ کا چلنا، بولنا، دیکھنا، سننا، کھانا، پینا، سونا اور صبح اٹھ کر دوبارہ زندگی کا موقع ملنا؛ کیا یہ سب نعمتیں نہیں؟ قرآن مجید فرماتا ہے: قرآنی آیت: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ترجمہ: اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ (سورۃ ابراہیم: 7) یہاں ایک اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شکر صرف زبان سے الحمدللہ کہنے کا نام نہیں، بلکہ شکر یہ ہے کہ انسان نعمت کو پہچانے، نعمت دینے والے کو یاد رکھے اور اس نعمت کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرے۔ آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں حرام سے بچایا جائے۔ زبان کا شکر یہ ہے کہ اسے جھوٹ، غیبت اور دل آزاری سے محفوظ رکھا جائے۔ مال کا شکر یہ ہے کہ اس میں ضرورت مندوں کا حق ادا کیا جائے۔ علم کا شکر یہ ہے کہ اسے دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے۔ جس نعمت کو انسان اللہ کی نافرمانی میں استعمال کرتا ہے، وہ درحقیقت اس نعمت کے شکر کا حق ادا نہیں کرتا۔
صبر اور شکر: دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں
ذرا ایک ایسے شخص کا تصور کریں جس کے پاس بہت دولت ہے، لیکن وہ ہر وقت پریشان رہتا ہے کہ کہیں اس کا مال کم نہ ہو جائے۔ اسے مزید دولت چاہیے، مزید آسائش چاہیے، مزید کامیابی چاہیے۔ اس کے پاس بہت کچھ ہے، لیکن اس کا دل مطمئن نہیں۔ اس کے برعکس ایک ایسا شخص بھی ہے جس کے پاس محدود وسائل ہیں، مگر وہ حلال کماتا ہے، اپنے گھر والوں کے ساتھ محبت سے رہتا ہے، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے اور مشکلات میں صبر سے کام لیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں حقیقی سکون کس کے پاس ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سکون صرف حالات کی فراوانی سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ دل کے اللہ سے جڑنے سے پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مؤمن کی اس کیفیت کو کتنے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا: عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ ترجمہ: مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (صحیح مسلم) پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مؤمن کی زندگی عام انسان کی زندگی سے مختلف ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے خوشی بھی اللہ کی طرف سے ایک موقع ہے اور غم بھی اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ایک موقع۔ نعمت اسے شکر گزار بناتی ہے اور آزمائش اسے صابر بناتی ہے۔
ہماری سب سے بڑی غلطی: خوشی کو کامیابی اور تکلیف کو ناکامی سمجھنا
ہم اکثر زندگی کے حالات کو ظاہری پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ اگر کسی کو دولت مل رہی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ اس سے خوش ہے، اور اگر کوئی مصیبت میں مبتلا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ شاید اس پر اللہ کی ناراضی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ دنیا کی نعمتیں بھی آزمائش ہیں اور دنیا کی محرومیاں بھی آزمائش ہیں۔ مال ملنا بھی امتحان ہے کہ انسان اسے کہاں خرچ کرتا ہے، اور مال کی کمی بھی امتحان ہے کہ انسان حلال و حرام کی حدود پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔ طاقت ملنا بھی امتحان ہے کہ انسان کمزوروں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے، اور کمزوری بھی امتحان ہے کہ انسان اللہ پر بھروسا رکھتا ہے یا نہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قرآنی آیت: وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ترجمہ: اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی دونوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔ (سورۃ الانبیاء: 35) یہ آیت ہماری سوچ کا زاویہ بدل دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف مصیبت آزمائش ہے، لیکن قرآن بتاتا ہے کہ آسائش بھی آزمائش ہے۔ کبھی انسان غربت میں اللہ کو یاد رکھتا ہے لیکن دولت ملتے ہی بھول جاتا ہے۔ کبھی بیماری میں دعائیں کرتا ہے لیکن صحت ملتے ہی عبادت میں سستی کرنے لگتا ہے۔ کبھی ضرورت کے وقت اللہ کے سامنے روتا ہے، لیکن ضرورت پوری ہوتے ہی اسی اللہ کی نافرمانی شروع کر دیتا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کو کبھی مشکل پیش نہ آئے، بلکہ کامیابی یہ ہے کہ مشکل میں اس کا ایمان نہ ٹوٹے اور خوشی میں اس کا کردار نہ بگڑے۔
صبر اور شکر انسان کی شخصیت کیسے بدلتے ہیں؟
صبر انسان کو جذبات کا غلام بننے سے بچاتا ہے۔ وہ ہر بات پر غصہ نہیں کرتا، ہر ناکامی پر ہمت نہیں ہارتا، ہر مخالفت پر بدلہ لینے کے لیے بے چین نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ ہر معاملے کا جواب فوری ردعمل نہیں ہوتا۔ کبھی خاموشی بہتر ہوتی ہے، کبھی برداشت، کبھی دعا اور کبھی حکمت کے ساتھ قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح شکر انسان کو دوسروں سے مقابلہ کرنے کی بیماری سے بچاتا ہے۔ وہ ہر وقت یہ نہیں دیکھتا کہ دوسرے کے پاس کیا ہے اور میرے پاس کیا نہیں۔ وہ اپنی زندگی میں موجود نعمتوں کو پہچانتا ہے اور دوسروں کی خوشیوں پر حسد کرنے کے بجائے ان کے لیے خیر چاہتا ہے۔ صبر اسے برداشت سکھاتا ہے اور شکر اسے قناعت۔ صبر اسے ثابت قدم بناتا ہے اور شکر اسے عاجز۔ صبر اسے مایوسی سے بچاتا ہے اور شکر اسے ناشکری سے۔ یہ دونوں خوبیاں مل کر ایک ایسی شخصیت بناتی ہیں جو حالات سے شکست نہیں کھاتی بلکہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتی ہے۔
آج ہم ان دونوں پروں سے محروم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟
آج کا انسان سہولتوں کے باوجود بے سکون ہے۔ اس کے پاس پہلے سے زیادہ وسائل ہیں، لیکن برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ رابطے کے ذرائع بڑھ گئے ہیں، لیکن رشتوں میں صبر کم ہو گیا ہے۔ آسائشیں بڑھ گئی ہیں، لیکن قناعت کم ہو گئی ہے۔ ہم فوری نتائج چاہتے ہیں، فوری کامیابی چاہتے ہیں، فوری خوشی چاہتے ہیں۔ اگر دعا کا نتیجہ ہماری مرضی کے مطابق نہ آئے تو بے چین ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی ہماری توقعات پوری نہ کرے تو تعلق ختم کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کی خوبصورتی دیکھتے ہیں لیکن اپنی زندگی کی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی کی کامیابی دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی کا گھر، کسی کی گاڑی، کسی کا لباس اور کسی کا معیارِ زندگی دیکھ کر اپنی نعمتوں سے بے اطمینانی پیدا کر لیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی زندگی کا ایک الگ امتحان ہے۔ جس کی خوشی ہمیں نظر آ رہی ہے، ممکن ہے اس کے پیچھے ایسی آزمائشیں ہوں جن سے ہم واقف ہی نہ ہوں۔ ہمیں دوسروں کی زندگی سے اپنا موازنہ کرنے کے بجائے اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں اور اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے۔
صبر اور شکر کو اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنائیں؟
یہ دونوں خوبیاں صرف پڑھنے یا سننے سے پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ روزانہ کی مشق سے شخصیت کا حصہ بنتی ہیں۔ جب کوئی مشکل آئے تو فوری طور پر مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے خود سے پوچھیں: کیا میرا یہ ردعمل اللہ کو پسند ہوگا؟ جب غصہ آئے تو کچھ دیر خاموش رہیں اور اپنے الفاظ پر قابو پائیں۔ جب کوئی نعمت ملے تو صرف خوش نہ ہوں بلکہ اس نعمت کے ذریعے کوئی نیکی بھی کریں۔ جب کسی دوسرے کو خوشحال دیکھیں تو حسد کے بجائے اس کے لیے برکت کی دعا کریں۔ ہر رات چند لمحے نکال کر اپنی زندگی کی ان نعمتوں کو یاد کریں جنہیں آپ نے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا ہے۔ اور جب کوئی چیز آپ کی خواہش کے مطابق نہ ہو تو یہ یاد رکھیں کہ آپ کی نظر محدود ہے، لیکن اللہ کا علم کامل ہے۔ یاد رکھیے، صبر کا مطلب کوشش چھوڑ دینا نہیں اور توکل کا مطلب اسباب اختیار نہ کرنا نہیں۔ مؤمن اپنی پوری کوشش کرتا ہے، جائز تدبیر اختیار کرتا ہے، دعا کرتا ہے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہی صبر اور شکر کا متوازن راستہ ہے۔
آخری بات: اپنی پرواز کو پہچانیے!
زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں اس کی ہمت، سوچ، ایمان اور اللہ سے تعلق کا امتحان ہوتا ہے۔ کچھ لوگ مشکلات میں ٹوٹ جاتے ہیں اور کچھ نعمتوں میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن مؤمن وہ ہے جو دونوں حالتوں میں اپنا راستہ نہیں بھولتا۔ جب حالات سخت ہوں تو صبر کا پر اسے سنبھالتا ہے، اور جب حالات سازگار ہوں تو شکر کا پر اسے اللہ کے سامنے جھکائے رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی اصل کامیابی دولت، شہرت، عہدے یا آسائشوں میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ جب زندگی کا سفر ختم ہو تو وہ اپنے رب کے سامنے ایک ایسے دل کے ساتھ حاضر ہو جو آزمائشوں میں ثابت قدم رہا اور نعمتوں میں ناشکرا نہیں ہوا۔ صبر کے بغیر انسان آزمائشوں میں بکھر جاتا ہے اور شکر کے بغیر نعمتوں میں بھٹک جاتا ہے۔ لیکن جس کے پاس صبر اور شکر دونوں ہوں، اس کی زندگی کا کوئی موسم بے معنی نہیں رہتا۔ اس لیے جب زندگی آپ کو رلائے تو صبر کو تھام لیجیے، اور جب زندگی آپ کو خوشیاں عطا کرے تو شکر کو اپنا لیجیے۔ کیونکہ مؤمن کی پرواز حالات کی محتاج نہیں ہوتی، اس کی پرواز اس کے ایمان سے ہوتی ہے۔ صبر اور شکر واقعی مؤمن کے دو پر ہیں، جن سے وہ دنیا کی آزمائشوں سے گزرتا ہوا اپنے رب کی رضا اور آخرت کی کامیابی کی طرف پرواز کرتا ہے۔
تدبر کا سوال
کیا ہم واقعی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کر رہے ہیں اور اس کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر صبر کر رہے ہیں، یا ہمارا ایمان بھی صرف اسی وقت مضبوط رہتا ہے جب زندگی ہماری خواہشات کے مطابق چل رہی ہوتی ہے؟ آئیے! آج سے اپنی زندگی میں صبر اور شکر کو صرف الفاظ نہیں بلکہ اپنا کردار بنائیں۔ واللہ اعلم۔