ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوزانٹرنیشنل )اگر آپ مراقبہ کر رہے ہوں اور شیطان آجائے، تو شیطان کو مراقبہ کروادیں” ایک طنزیہ، مزاحیہ اور فلسفیانہ جملہ ہے، جس کے ذریعے نفسیاتی اور روحانی کیفیت کو منفرد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی درج ذیل تشریح کی جا سکتی ہے:
مفہوم اور تشریح
خیالات کا غلبہ: مراقبہ (Meditation) کا مقصد ذہنی سکون حاصل کرنا اور خیالات کو قابو میں لانا ہے۔ جب انسان مراقبے میں بیٹھتا ہے تو اکثر وسوسے، منفی خیالات یا پریشانیاں ( جنہیں استعارتاً "شیطان” کہا گیا ہے) ذہن پر حملہ آور ہونے لگتی ہیں۔
ردِ عمل کی تبدیلی: عام طور پر منفی خیالات آتے ہی انسان گھبرا جاتا ہے یا مراقبہ چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن اس قول کا انوکھا نکتہ یہ ہے کہ گھبرانے کے بجائے اس منفی قوت یا وسوسے کو بھی اپنے ذہنی سکون اور مراقبے میں شامل کر لیا جائے۔
ذہنی برتری: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے باطن کو اتنا مضبوط اور پرسکون بنا لیا جائے کہ منفی وسوسے خود آپ کے زیرِ اثر آ جائیں، نہ کہ آپ ان کے زیرِ اثر آئیں۔
خلاصہ یہ کہ یہ جملہ مشکلات یا منفی وسوسوں سے بھاگنے کے بجائے، انہیں اتنے پرسکون انداز میں ہینڈل کرنے کا درس دیتا ہے کہ منفی طاقتیں خود بے اثر ہو جائیں۔ #معاشرےکےمسائل #حوصلہ #سچائی #جذبہ #زندگی #تاریخ #سکون #قدرت #فلسفہ