آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں
جو چاہیں کھا سکتے ہیں
تحریر۔۔۔حنا عظیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں جو چاہیں کھا سکتے ہیں ۔۔۔ تحریر۔۔۔حنا عظیم)گئیں۔ پھر انہیں ان تصویروں کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا گیا۔ اس وقفے کے دوران دماغ کے دو حصوں کو سب سے سر گرم دیکھا گیا۔
ایک Hipocampus جو یاداشت اور چیزوں کو یادرکھنے میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اور دوسرا Cortex جس کا سوچنے میں اہم کردار ہے۔ اسے تھنکنگ ریجن بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق دماغ کے یہ دو حصے جتنے زیادہ سر گرم اور ایکٹو ہوتے ہیں آپ پیچیدہ سے پیچیدہ اور مشکل سے مشکل کسی بھی سبق یا نئی چیز کو یاد رکھ پاتے ہیں۔ تو اگر آپ نے بھی الفاظ کی ایک بڑی فہرست یاد کرنی ہے یا پھر مختلف واقعات کی پرانی تاریخیں یاد کرنی ہیں تو درمیان میں ذرا دیر کو اپنی آنکھیں بند کر کے ستائیں مگر سونا نہیں ہے۔ یہ مشق آپ کو یہ ساری معلومات یاد رکھنے یوم میں مدد دے گی۔
خود کواستاد تصور کیجیے :اگر آپ یہ سوچیں کہ یہ چیز آپ کو آگے جا کر کسی اور کو پڑھانی ہے تو کوئی بھی چیز آپ بہتر طور سے یاد کر سکتے ہیں۔Kormell کو یہ انکشاف اس وقت ہوا جب اس نے اپنے شاگردوں سے دس منٹ میں ایکThe charge of the bridge پڑھنے کو دیا۔ وہ تمام طلبہ جنھوں نے سبق لینے سے پہلے یہ کہا کہ وہ نہ صرف اسے پاس کریں گے بلکہ آگے جا کر اسے کسی کو پڑھائیں گے بھی، ان کی یاداشت بہتر رائے بھی ان کی یاداشت بہتر طور سے منتظم تھی۔
Kornell کے مطابق تمام لوگ بہتر طور سے یاد کر سکتے ہیں اگر وہ یہ سوچ لیں کہ انھیں یہ مضمون آگے جا کر کسی کو پڑھانا ہے۔ اس کی وضاحت انتہائی آسان ہے۔ جب ہم یہ سوچ لیتے ہیں کہ آپ سے سوال ہو سکتا ہے کہ آپ نے کیا اور کتنا سیکھا یہ دباؤ ہمیں یاد رکھنے میں خاصی مدد دیتا ہے۔ اور آپ اس ٹاپک کو ہر پہلو سے مجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو پھر جب بھی آپ پڑھنے بیٹھے تو اپنے آپ سے سوال کریں۔ سوچیئے کہ بحیثیت استاد ا گر آپ کو یہ پڑھانا پڑتا تو آپ سے کیا کیا سوال ہو سکتے ہیں اور آپ ان کا کیا
جواب دیتے۔
دوسری اہم مشق جو آپ کر سکتے ہیں وہ یہ کہ جو بھی آپ نے یاد کیا اسے اپنے لفظوں میں لکھنے کی کو شش کیجیئے۔ اس سے نہ صرف آپ بہتر طور یہ لکھ سکیں گے بلکہ اپنے الفاظ میں لکھی تحریر کو یاد رکھنا بھی آسان ہو جائے گا۔ Kornell اور ان کی ٹیم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے شاگردوں کو محض امتحانات کی تیاری کے لئے زور مت ڈالیں بلکہ ان کو learning strategy کے تحت ایسی مشقوں کی رہنمائی بھی فراہم کریں جو ان کے سیکھنے اور یاد رکھنے کے عمل میں ان کی مدد گار ثابت ہوں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے بھر پور استعمال کے مواقع میسر آسکیں۔
کرگزریں:کارلٹن یونیورسٹی کینیڈا کے Micheal اور اس کے ساتھی کہتے ہیں سخت محنت کرنے کے باوجود اگر آپ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکیں تو اس بات کے لیے خود کو الزام نہ دیں بلکہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کیجیے ۔ واقعی اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری آپ کا ذہنی طور پر تیار ہونا ہے اگر آپ واقع کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے لئے اپنی قوتِ ارادی کو بروئے کار لائیے۔ فلوریڈا سٹیٹ یونیوسٹی کے رائے ہو میسر قوت ارادی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ بھی سیکھنے کے لیے قوت ارادی اور خود کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ جیسے مسلسل ایکسر سائز آپ کے جسم کو مضبوط تر بناتی ہے اسی طرح قوت ارادی کو آپ اپنے جسم کا ایک ایسا مضبوط عضلہ (Muscle) مجھے۔ کسی Muscle کا جتنا زیادہ استعمال ہو گا وہ اتنا ہی مضبوط ہو گا۔ لہذا گر آپ نے کامیاب ہونے کی ٹھان لی ہے تو پھر ستی چھوڑیئے اور ڈٹ جائیے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2015
![]()

