اقتصادی جائزہ مذاکرات، آئی ایم ایف کے نئے مطالبات سامنے آگئے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے شوگر سیکٹر ڈی ریگولیشن، الیکٹریکل وہیکلز کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔ فیول سبسڈی محدود رکھنے جبکہ صحت و تعلیم کے اخراجات کا ہدف کم کرنے کی تجویز بھی زیرغور آئی۔

قرض پروگرام کی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی آئندہ قسط کیلئے جائزہ مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے ڈومور کے مطالبات سامنے آگئے۔ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کی تیاری پر کام شروع کردیا گیا۔جلد پیشرفت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا تاہم سندھ نے مرکز کی شوگر پالیسی کو صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دے دیا۔ سندھ کے اختلاف کے باعث شوگر پالیسی پر اتفاق نہ ہوسکا۔ آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی میں ای ویز کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ روپے کی قدر میں کمی اور مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے پر زور دیا۔

آئی ایم ایف وزیراعظم فیول سبسڈی کے موجودہ صارفین کو ریلیف دینے کی حد تک آمادہ تاہم مزید صارفین شامل نہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ سبسڈی موٹرسائیکلز، تھری ویلرز اور 800 سی سی گاڑیوں تک محدود رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔

مذاکرات میں گیس ٹیرف اسٹرکچر اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا معاملہ بھی زیرغور آئے گا۔ آئی ایم ایف مشن وزارت نجکاری کے حکام سے ڈسکوز کی نجکاری اور لائن لاسز پر بھی بات کرے گا۔ صحت اور تعلیم کے اخراجات میں اضافہ بھی آئی ایم ایف کے مطالبات میں شامل ہے۔

وفاق اور صوبوں کے لیے 4.2ٹریلین روپے کا ہدف کم کرکے 3.9ٹریلین روپے کرنے کی تجویز بھی مذاکرات میں زیرغور ہے۔ گزشتہ مالی سال صوبے صحت اور تعلیم کے اخراجات کا ہدف 377ارب روپے سے پورا نہ کرسکے۔ رواں مالی سال مختص رقم اور تجویز کردہ ہدف میں بھی 200 ارب روپے کا فرق برقرار رہے گا۔

Loading