Daily Roshni News

زمان و مکان کے اسرار، ذوالقرنین کا سفر اور لفظ ’سبب‘ کی کائناتی و زمینی حقیقت: ایک فکری مکالمہ! – بلال شوکت آزاد

زمان و مکان کے اسرار، ذوالقرنین کا سفر اور لفظ ’سبب‘ کی کائناتی و زمینی حقیقت: ایک فکری مکالمہ! – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی شعور کا سفر بھی کیسا حیرت انگیز اور طلسماتی ہے کہ جب وہ کسی قدیم داستان، الہامی متن یا تاریخ کے کسی گمشدہ باب پر غور کرتا ہے، تو ہر دور کا انسان اسے اپنے عہد کے علم، اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے فکری کینوس کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

پچھلے کچھ عرصے کے دوران جب میں نے اسفارِ ذوالقرنین، سدِ ذوالقرنین، اور یاجوج ماجوج کی ممکنہ جغرافیائی اور تاریخی حیثیت پر متواتر تین تفصیلی مضامین تحریر کیے، تو مجھے قارئین کی جانب سے ایک ایسا بھرپور، سنجیدہ اور تجسس سے بھرا ہوا ردعمل موصول ہوا جس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ ہماری قوم میں علم کی پیاس اور تحقیق کی جستجو پوری طرح زندہ ہے۔

ان مضامین کے جواب میں جہاں بہت سے علمی نکات زیرِ بحث آئے، وہیں ایک سوال نما درخواست بار بار اور پوری شدت کے ساتھ سامنے آئی۔

یہ درخواست ان قارئین کی طرف سے تھی جنہوں نے جدید دور کے کچھ مقبول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، یوٹیوبرز اور موٹیویشنل اسپیکرز کی وہ ویڈیوز اور آراء سن رکھی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضرت ذوالقرنین کا سفر دراصل اس زمین کا نہیں بلکہ خلا (Space) کا سفر تھا۔

ان آراء کے مطابق سورہ الکہف میں ذوالقرنین کے سفر کے لیے جو لفظ ’سبباً‘ (سَبَبًا) استعمال ہوا ہے، وہ دراصل کسی جدید خلائی ٹیکنالوجی، سپیس کرافٹ، کائناتی سرنگ (Wormhole) یا تاریک شگاف (Black hole) کی طرف اشارہ ہے۔

ان جدید مفکرین کا ماننا ہے کہ ذوالقرنین نے زمین کے کناروں کے بجائے گلیکسی (Galaxy) کے کناروں کا سفر کیا، اور یاجوج ماجوج کوئی زمینی مخلوق نہیں بلکہ کسی اور جہت (Dimension) یا سیارے کی مخلوق ہیں جو کسی کائناتی دروازے (Portal) سے اس زمین پر حملہ آور ہوں گے۔

میرے بہت سے قارئین اس بات پر بضد تھے کہ میں نے لفظ ’سبب‘ کی وہ تشریح نہیں کی جو ان جدید سائنسی نظریات سے ہم آہنگ ہے، اور شاید میں کسی روایتی مصلحت کے تحت اس کائناتی اور سائنسی پہلو کو نظر انداز کر رہا ہوں۔

سب سے پہلے تو میں ان تمام احباب کے اس تجسس، ان کے اس غور و فکر اور ان کی اس جدید سائنسی اپروچ کا دل سے احترام کرتا ہوں۔

جب ہم اکیسویں صدی میں بیٹھ کر، جہاں کوانٹم فزکس، ایسٹرو فزکس اور خلائی تسخیر روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بن چکے ہوں، کلامِ الٰہی کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمارا ذہن فطری طور پر قرآنی الفاظ کو کائنات کے ان نئے دریافت شدہ اسرار کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ کوئی جرم نہیں، بلکہ کائنات پر تفکر کرنے کی ایک فطری انسانی خواہش ہے۔

وہ لوگ جو ذوالقرنین کے سفر کو خلائی سفر سے تعبیر کر رہے ہیں، ان کی نیت پر شبہ کرنے، ان پر جہالت کا فتویٰ لگانے یا ان کا تمسخر اڑانے کے بجائے، ہمیں ان کے اس نظریے کو ایک سنجیدہ فکری مفروضے (Intellectual Hypothesis) کے طور پر لینا چاہیے۔

علم کی روایت یہ نہیں کہ کسی نئی بات کو سن کر فوراً کفر یا جہالت کا فتویٰ جڑ دیا جائے، بلکہ علم کی معراج یہ ہے کہ اس دعوے کو زبان و بیان، منطق، سائنس، اور الہیاتی و مستند تاریخی شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جائے، اور پھر قاری کی عقل پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ حقائق کا پلڑا کس طرف بھاری ہے۔

آج ہم اسی علمی، عقلی، اور سائنسی دیانت کے ساتھ اس موضوع کی تہوں میں اترنے کی کوشش کریں گے، بغیر کسی حتمیت یا قطعی فتوے کے، کیونکہ حتمی اور قطعی علم صرف اور صرف کائنات کے اس رب کے پاس ہے جس نے یہ کلام نازل کیا ہے۔

آئیے اس فکری سفر کا آغاز اس لفظ سے کرتے ہیں جس نے اس پوری جدید بحث کو جنم دیا ہے، یعنی لفظ ’سبب‘۔

سورہ الکہف کی آیت نمبر 84 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

“إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا”

(بے شک ہم نے اسے زمین میں اقتدار (تمکن) عطا کیا، اور ہم نے اسے ہر چیز میں سے ایک ‘سبب’ عطا کیا)۔

اور اس سے اگلی ہی آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

“فَأَتْبَعَ سَبَبًا”

(پس اس نے ایک ‘سبب’ کی پیروی کی، یا ایک سبب کے پیچھے چلا)۔

سب سے پہلے ہمیں عربی لغت کی گہرائیوں میں اتر کر دیکھنا ہوگا کہ قرآن کے اولین مخاطبین کے نزدیک ‘سبب’ کا مطلب کیا تھا۔

عربی لغت میں ‘سبب’ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی دوسری چیز تک پہنچا جائے یا کوئی مقصد حاصل کیا جائے۔

پرانے وقتوں میں کھجور کے درخت پر چڑھنے کے لیے جو رسی استعمال ہوتی تھی، اسے بھی ‘سبب’ کہا جاتا تھا۔

اسی طرح خیمے کی رسی کو، راستے کو، ذریعے کو، علم کو، وسائل کو، اور سفر کے اسباب کو ‘سبب’ کہا جاتا ہے۔

 کلامِ الٰہی اپنے الفاظ کے انتخاب میں اس قدر جامع اور ہمہ گیر ہے کہ اس نے ‘راستہ’، ‘سواری’، ‘فوج’، یا ‘علم’ کے بجائے ‘سبب’ کا لفظ استعمال کیا، جس میں یہ تمام چیزیں سمٹ آتی ہیں۔

یعنی اللہ نے ذوالقرنین کو وہ تمام مادی، سائنسی، عسکری اور جغرافیائی وسائل، علوم اور راستے عطا کر دیے تھے جو کسی بھی بڑی مہم کو سر کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ‘سبب’ کوئی ورم ہول، سپیس کرافٹ یا خلائی سفر کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے؟

اس کا جواب ہمیں اسی آیت کے پہلے حصے سے مل جاتا ہے، جسے اکثر جدید مفکرین نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرما رہا ہے:

“إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ”

(بے شک ہم نے اسے ‘زمین’ میں اقتدار عطا کیا)۔

قرآنِ مجید کے الفاظ انتہائی نپے تلے اور ریاضیاتی حد تک قطعی ہوتے ہیں۔

اگر ذوالقرنین کی حکومت اور ان کا سفر زمین کی حدود سے نکل کر ستاروں، کہکشاؤں اور بلیک ہولز تک پھیلا ہوا تھا، تو کلامِ الٰہی یہاں ‘في الأرض’ (زمین میں) کے ساتھ ‘في السماء’ (آسمان میں) کا ذکر بھی ضرور کرتا۔

جس بادشاہ کی فتوحات کا دائرہ ہی زمین کے لفظ کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہو، اس کے عطا کردہ ‘اسباب’ کو زبردستی خلا کی وسعتوں میں تلاش کرنا لسانی اور سیاقی اعتبار سے ایک بہت بڑا فکری جمپ (Intellectual Jump) محسوس ہوتا ہے۔

ذوالقرنین کا پہلا سفر اس سمت میں تھا جہاں سورج غروب ہوتا ہے۔

آیت کے الفاظ ہیں کہ اس نے سورج کو ایک ‘عَيْنٍ حَمِئَةٍ’ (سیاہ کیچڑ والے، یا گرم پانی کے چشمے) میں ڈوبتے ہوئے پایا۔

اب جو لوگ اسے خلائی سفر مانتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ ‘عین حمئۃ’ دراصل کوئی بلیک ہول یا نیبولا (Nebula) تھا جہاں ذوالقرنین نے خلائی سفر کے دوران سورج کو ڈوبتے دیکھا۔

یہاں ہمیں ایک بہت اہم سائنسی، منطقی اور اصولی بات سمجھنی ہوگی۔

قرآن مجید کوئی فزکس یا ایسٹرو فزکس کی نصابی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ہدایت کی کتاب ہے۔

قرآن اکثر مقامات پر کائنات کے مناظر کو ‘فینومینولوجیکل’ (Phenomenological) انداز میں بیان کرتا ہے، یعنی چیزیں انسانی آنکھ کو کیسی نظر آتی ہیں (The perspective of the observer)۔

جب آپ زمین کے کسی مغربی ساحل، مثلاً بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) یا بحیرہ اسود (Black Sea) کے کنارے کھڑے ہو کر غروبِ آفتاب کا منظر دیکھتے ہیں، تو آپ کو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے سورج سمندر کے گدلے اور تاریک پانی میں ڈوب رہا ہے۔

کلامِ الٰہی اسی انسانی مشاہدے کی منظر کشی کر رہا ہے کہ ذوالقرنین اپنے طویل ترین مغربی سفر کے اس آخری کنارے پر پہنچ گیا جہاں سے آگے صرف سمندر تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ سورج اسی پانی میں ڈوب رہا ہے۔

اگر ہم اسے بلیک ہول مان لیں، تو سائنس کی رو سے بلیک ہول کی کششِ ثقل (Gravity) اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی اس سے فرار نہیں ہو سکتی، اور اگر سورج (یا کوئی بھی ستارہ) کسی بلیک ہول میں گرے گا تو وہ ایک ہیبت ناک کائناتی تباہی (Supernova یا Spaghettification) کا منظر ہوگا، نہ کہ ایک پرسکون غروبِ آفتاب کا منظر جسے دیکھ کر ایک بادشاہ وہاں بسنے والی قوم کے فیصلے کر سکے۔

مزید یہ کہ اگر وہ خلا میں سفر کر رہے تھے تو وہاں ‘مغرب’ اور ‘مشرق’ کی زمینی جہتیں ویسے ہی بے معنی ہو جاتی ہیں، کیونکہ خلا میں سورج کے غروب ہونے کا وہ تصور موجود ہی نہیں جو زمین پر دن اور رات کے چکر سے بنتا ہے۔

اب ذرا اس تیسرے اور سب سے اہم سفر کی طرف آتے ہیں جس میں ذوالقرنین کا سامنا اس قوم سے ہوتا ہے جو دو پہاڑوں (السدین) کے درمیان آباد تھی اور یاجوج ماجوج کے حملوں سے نالاں تھی۔

جو احباب یاجوج ماجوج کو خلائی مخلوق، ایلینز (Aliens) یا کسی دوسری ڈائمینشن کی مخلوق تسلیم کرتے ہیں، انہیں اس مقام پر ایک بہت بڑے سائنسی اور منطقی سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قرآنِ مجید پوری صراحت کے ساتھ اس ٹیکنالوجی اور ان مادی عناصر کا ذکر کرتا ہے جو ذوالقرنین نے اس دیوار کو بنانے کے لیے استعمال کیے۔

ذوالقرنین نے ان لوگوں سے کہا:

“آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ”

(مجھے لوہے کے ٹکڑے لا کر دو)،

اور پھر کہا کہ

“اسے دھونکو (آگ جلاؤ)، یہاں تک کہ جب وہ آگ ہو گیا تو کہا، لاؤ میں اس پر پگھلا ہوا تانبا (قِطْرًا) ڈال دوں۔”

یہاں تھوڑا سا رک کر خالصتاً سائنسی اور منطقی زاویے سے سوچیے۔

اگر یاجوج ماجوج اتنے ترقی یافتہ خلائی حملہ آور تھے جو کائناتی سرنگوں (Wormholes) یا پورٹلز کے ذریعے سفر کر کے زمین پر آ سکتے تھے، تو کیا وہ محض ‘لوہے اور تانبے’ کی ایک دیوار سے رک سکتے تھے؟

خلائی تسخیر اور ڈائمینشنل ٹریول (Dimensional Travel) کے لیے جس درجے کی ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے، اس کے سامنے لوہے اور تانبے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

اور اگر ذوالقرنین بذات خود کسی سپیس کرافٹ پر کسی دوسرے سیارے پر گئے تھے، تو وہاں انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی کے بجائے ایک خالصتاً زمینی اور قدیم میٹلرجی (Metallurgy – دھات سازی) کا طریقہ کیوں استعمال کیا؟

لوہے کے بلاکس کو آگ سے دھونکنا، ان پر پگھلا ہوا تانبا انڈیل کر ایک ‘الائے’ (Alloy) بنانا تاکہ اسے زنگ نہ لگے،

یہ ایک مکمل طور پر زمینی، انسانی اور طبیعیاتی (Physical) عمل ہے۔

یہ اس بات کی واضح اور قطعی دلیل ہے کہ یہ سفر اسی زمین کے کسی ایسے جغرافیائی خطے کا تھا جہاں لوہے اور تانبے کے ذخائر موجود تھے، جہاں آگ جلانے کے لیے آکسیجن میسر تھی، اور جہاں کششِ ثقل (Gravity) اتنی تھی کہ پگھلا ہوا تانبا لوہے کے بلاکس پر انڈیلا جا سکے۔

اسے خلا یا کسی دوسری جہت کا سفر قرار دینا کلامِ الٰہی کے واضح الفاظ اور طبعی قوانین کے ساتھ زبردستی کرنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔

اس تمام منطقی اور سائنسی بحث کے بعد، اب ہم اس موضوع کے سب سے اہم اور مستند ترین حصے کی طرف آتے ہیں، اور وہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستند احادیث۔

کلامِ الٰہی کی جو تشریح صاحبِ قرآن ﷺ نے فرما دی، اس کے سامنے تمام عقلی گھوڑے اور سائنسی مفروضے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔  (اگر کوئی منکر حدیث ہو تو پھر الگ بات ہے کہ وہ ان باتوں کو تسلیم نہیں کرے گا بلکہ ان جدید تشریحات کے پیچھے جائے گا جو کہ آج زبان ذد عام ہیں۔)

یاجوج ماجوج کے حوالے سے صحیحین (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں جو احادیث موجود ہیں، وہ ان کے زمینی ہونے، ان کے انسانی نژاد ہونے، اور ان کے مستقبل کے کردار پر سے تمام پردے اٹھا دیتی ہیں۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ایک متفق علیہ اور انتہائی مستند روایت ہے کہ

ایک دن رسول اللہ ﷺ نیند سے گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے، آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، اور آپ ﷺ نے فرمایا:

“لا إله إلا الله! عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے”،

اور آپ ﷺ نے اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کا حلقہ بنا کر دکھایا۔

ام المومنین فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا:

“یا رسول اللہ! کیا ہم ہلاک کر دیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟”

آپ ﷺ نے فرمایا:

“ہاں، جب خباثت (گناہ) بڑھ جائے گی۔” (صحیح البخاری، کتاب الفتن، حدیث 7135)۔

اس کے علاوہ صحیح مسلم میں صحابی رسول حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے ایک انتہائی طویل اور مفصل حدیث مروی ہے، جس میں یاجوج ماجوج کے خروج کا تفصیلی نقشہ کھینچا گیا ہے۔

اس مستند حدیث کے الفاظ ہیں کہ

” جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کر چکے ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی فرمائے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، پس آپ میرے بندوں (مومنوں) کو کوہِ طور کی طرف لے کر جمع ہو جائیں۔ اور پھر اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے اتریں گے۔ ان کا پہلا گروہ ‘بحیرہ طبریا’ (Lake of Tiberias / Sea of Galilee – جو آج بھی فلسطین اور شام کی سرحد پر موجود ہے) سے گزرے گا تو اس کا سارا پانی پی جائے گا، یہاں تک کہ جب ان کا آخری گروہ وہاں سے گزرے گا تو کہے گا کہ کبھی یہاں بھی پانی ہوا کرتا تھا۔ پھر وہ چلتے چلتے جبلِ خمر (بیت المقدس کا ایک پہاڑ) تک پہنچیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو قتل کر دیا، اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں۔ وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے اور اللہ ان کے تیروں کو خون آلود کر کے واپس لوٹائے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے، تو اللہ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا (نغف) پیدا کر دے گا جس سے وہ سب کے سب ایک ہی وقت میں ہلاک ہو جائیں گے۔ زمین پر ان کی لاشوں کی بدبو اور سڑاند اتنی ہوگی کہ کوئی جگہ خالی نہ ہوگی۔ پھر اللہ ایسی پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں جیسی ہوں گی، وہ ان لاشوں کو اٹھا کر وہاں پھینک دیں گے جہاں اللہ چاہے گا، اور پھر ایک ایسی بارش ہوگی جو پوری زمین کو دھو کر شیشے کی طرح صاف کر دے گی۔” (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیث 2937)۔

اس کے ساتھ ساتھ مسند احمد اور مستدرک حاکم کی مستند روایات میں یہ بات پوری صراحت سے موجود ہے کہ

” یاجوج اور ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں، اور وہ پوری طرح بنی آدم (انسان) ہیں۔”

ان مستند اور متواتر احادیث کا اگر ہم گہرا تجزیہ کریں، تو یاجوج ماجوج کے ایلین یا خلائی مخلوق ہونے کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔

یہ احادیث واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ ان کا ظہور اس زمین پر ہوگا، وہ بحیرہ طبریا کا پانی پیئیں گے جو ایک خالصتاً زمینی اور جغرافیائی مقام ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر پناہ لیں گے جو زمین پر واقع ہے، یاجوج ماجوج کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہوگا جو بائیولوجیکل (Biological) اور زمینی موت کی علامت ہے، اور ان کی لاشیں زمین پر سڑیں گی جنہیں بارش دھوئے گی۔

اگر وہ خلائی مخلوق ہوتے، تو ان کی فزیالوجی، ان کی موت کا طریقہ، اور ان کا زمینی جغرافیے سے یہ گہرا ربط احادیث میں یوں بیان نہ ہوتا۔

وہ اسی زمین کے کسی ایسے گوشے میں آباد بنی نوع انسان کا حصہ ہیں جن کی آبادی اور جنگجو صلاحیتیں انسانی تصور سے ماورا ہیں، اور اللہ نے اپنے کسی نظام کے تحت انہیں ہم سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔

آج اگر ہمارے سیٹلائٹس انہیں نہیں ڈھونڈ پا رہے، تو یہ سیٹلائٹ کی محدودیت ہو سکتی ہے، خالق کے چھپانے کی قدرت کی نفی نہیں۔

آج بھی زمین کے کتنے ہی تہہ خانے، کتنی ہی برفانی تہیں، اور سمندروں کے کتنے ہی خندق (Trenches) ہیں جہاں تک انسانی آنکھ اور ٹیکنالوجی کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

ان تمام معروضات، قرآنی لغت کے باریک بین مطالعے، طبعی اور سائنسی قوانین، اور سب سے بڑھ کر مستند احادیث کی روشنی میں ہم اس فکری نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حضرت ذوالقرنین کا سفر خلائی نہیں بلکہ زمینی تھا۔

لفظ ‘سبب’ کا مطلب وہ تمام مادی، سائنسی اور جغرافیائی علوم و وسائل ہیں جو اللہ نے انہیں اس زمین پر اقتدار قائم کرنے کے لیے عطا کیے تھے۔

آج کے دور میں جب ہم سائنس فکشن موویز دیکھتے ہیں تو لاشعوری طور پر ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہم اپنے مذہبی نصوص کی بھی کوئی ایسی ہی سنسنی خیز اور ماورائی تشریح کریں جو ماڈرن ذہن کو اپیل کرے۔

مذہب اور سائنس میں ہم آہنگی تلاش کرنا ایک مستحسن عمل ہے، لیکن کلامِ الٰہی اور مستند احادیث کی قطعی نصوص کو ان کے سیاق و سباق سے کاٹ کر محض ایک فینٹسی (Fantasy) کی شکل دے دینا علم نہیں، بلکہ علمی رومانویت (Intellectual Romanticism) ہے۔

یہ تحریر کسی کے نظریے کو غلط ثابت کر کے اپنی علمیت جھاڑنے کے لیے نہیں لکھی گئی، بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم تاریخ، لغت اور روایات کے ان تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ میز پر رکھ کر سوچیں۔

اگر اس کائنات کو بنانے والا رب کسی انسان کو خلاؤں میں اڑا کر گلیکسی کے کنارے لے جانا چاہتا، تو اس کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا، جیسا کہ اس نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو معراج کے موقع پر کروایا۔

لیکن معراج کا سفر ایک خالصتاً معجزاتی، روحانی اور ماورائے طبعیات سفر تھا، جب کہ ذوالقرنین کا سفر ایک بادشاہ کا، لوہے اور تانبے کا استعمال کرنے والا، اور زمین پر عدل و انصاف قائم کرنے والا ایک سیاسی، عسکری اور جغرافیائی سفر تھا۔

ہمیں ان دونوں کو خلط ملط کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

قرآن اور احادیث کے بیانات پر غور کرنا انسان کی فکری ارتقاء کے لیے لازم ہے، اور ممکن ہے آنے والے دور کی کوئی سائنسی دریافت یا کوئی جغرافیائی کھوج ہمارے سامنے یاجوج ماجوج کی اس دیوار کا کوئی ایسا راز کھول دے جو آج ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

لیکن فی الحال، علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم موجودہ دلائل اور نصوص کو ان کی اصل اور زمینی حقیقت کے ساتھ ہی تسلیم کریں۔

قارئین کو دعوتِ فکر ہے کہ وہ خود ان تمام حوالوں کو پڑھیں، ان پر تدبر کریں، اور پھر اپنے شعور کے ترازو میں تول کر دیکھیں کہ منطق اور حقائق کا پلڑا کس طرف جھکتا ہے۔

کائنات کے اسرار بہت گہرے ہیں، اور انسانی علم کی حدیں بہت محدود؛ سچا محقق وہی ہے جو اپنی محدودیت کا اعتراف کرتے ہوئے ہر قدم علم اور احتیاط کے ساتھ اٹھائے۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading