Daily Roshni News

کوفہ کی مسجدِ اعظم، سیاہ پرچم اور ایک نئی سلطنت کا حتمی اعلان (132 ہجری / 749)

کوفہ کی مسجدِ اعظم، سیاہ پرچم اور ایک نئی سلطنت کا حتمی اعلان (132 ہجری / 749)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )132 ہجری (749)۔ عراق کے شہر کوفہ کی مرکزی جامع مسجد۔ خراسان سے آنے والی فوج کے سیاہ پرچموں نے مسجد کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ منبر پر ایک نوجوان کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں ایک نئی سلطنت کا خاکہ اور ریاست کی تلوار تھی۔ اس نے خطبہ شروع کیا اور اپنے حتمی ریاستی ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے خود کو ایک ایسا لقب دیا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے دہشت، طاقت اور بے دریغ ریاستی انعام کی علامت بن گیا: “میں السفاح ہوں، وہ جو بے دریغ خون بہاتا ہے اور بے پناہ مال لٹاتا ہے۔”

یہ ابوالعباس عبداللہ تھا، جس نے اس ایک خطبے کے ذریعے 90 سالہ اموی سلطنت کا ریاستی تابوت تیار کر لیا اور تاریخِ اسلام کی سب سے طویل عباسی خلافت کی ٹھوس بنیاد رکھی۔

ابوالعباس کا خاندانی شجرہ خالص ہاشمی اشرافیہ پر مبنی تھا۔ ان کا پورا نام عبداللہ بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس تھا۔ ان کے پردادا جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان کے والد حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) تھے۔

مستند تاریخی دستاویزات کے مطابق، ابوالعباس کے جسمانی خدوخال خالص عرب اشرافیہ والے تھے۔ وہ دراز قد، متناسب جسامت، انتہائی سفید رنگت اور گھنی داڑھی کے حامل تھے۔ ان کی آواز میں ایک قدرتی گرج اور ریاستی رعب تھا، جو مسجدِ کوفہ میں ان کے پہلے خطبے کے دوران عسکری کمانڈروں نے واضح طور پر محسوس کیا۔ وہ سفارت کاری سے زیادہ براہِ راست کارروائی اور فوری فیصلوں پر یقین رکھتے تھے۔

اموی خلافت کے آخری سالوں میں عباسیوں نے شام کے مضافاتی علاقے ‘حمیمہ’ سے ایک انتہائی منظم خفیہ تحریک چلائی۔ اس تحریک کا عسکری بازو خراسان میں ابو مسلم خراسانی کی قیادت میں کام کر رہا تھا۔ جب اموی خلیفہ مروان ثانی کو اس انٹیلی جنس نیٹ ورک کا علم ہوا، تو اس نے ابوالعباس کے بڑے بھائی اور تحریک کے سربراہ ‘ابراہیم الامام’ کو گرفتار کر کے قید خانے میں قتل کروا دیا۔

اپنے بھائی کی موت کے بعد، ابوالعباس نے خاندان کی قیادت سنبھالی اور انتہائی خاموشی سے کوفہ کی طرف ایک تزویراتی ہجرت کی۔ کوفہ میں تحریک کا ناظم ‘ابوسلمہ الخلال’ تھا، جو اقتدار عباسیوں کے بجائے علویوں کو دینا چاہتا تھا اور اس نے ابوالعباس کو کئی دن تک خفیہ رکھا۔ لیکن خراسانی جرنیلوں نے زمینی حقائق کا تجزیہ کیا اور ابوالعباس کی عسکری اور سیاسی فہم کو دیکھتے ہوئے حتمی طور پر انہیں اپنا خلیفہ تسلیم کر لیا۔

کوفہ کے تخت پر بیٹھتے ہی ابوالعباس السفاح کا پہلا ہدف اموی سلطنت کے آخری خلیفہ مروان ثانی کی ہارڈ پاور کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے اپنے چچا عبداللہ بن علی کی کمان میں ایک بھاری خراسانی اور عراقی فوج روانہ کی۔

132 ہجری (750) میں عراق کے شمال میں دریائے زاب کے کنارے تاریخ کا وہ فیصلہ کن معرکہ لڑا گیا جس نے اقتدار کا جغرافیہ بدل دیا۔ عباسیوں نے ایک خالصتاً دفاعی اور تیر اندازی پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی۔ جب مروان ثانی کا ہراول دستہ آگے بڑھا، تو خراسانی فوج نے نیزوں کی دیوار بنا کر ان کا راستہ روکا اور مسلسل تیر اندازی سے اموی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کر دیا۔ مروان ثانی میدان سے فرار ہوا، لیکن بعد میں مصر میں پکڑا گیا اور اس کا سر کاٹ کر السفاح کے دربار میں پیش کیا گیا۔

السفاح نے ایک انتہائی بے رحم ریاستی اصول اپنایا: ‘پرانے حکمران خاندان کا مکمل خاتمہ تاکہ مستقبل میں کوئی متوازی بغاوت نہ ہو سکے۔’ یہ محض انتقام نہیں بلکہ ایک خالص تزویراتی پالیسی تھی۔

اس پالیسی کی سب سے ہولناک مثال فلسطین کے قریب ‘نہر ابی فطرس’ کا واقعہ ہے۔ السفاح کے حکم پر عباسی کمانڈر عبداللہ بن علی نے اموی خاندان کے لگ بھگ 80 شہزادوں اور امراء کو عام معافی کا وعدہ دے کر ایک ریاستی ضیافت پر بلایا۔ عین اس وقت جب ضیافت جاری تھی، عباسی محافظوں نے خیمے کو گھیر کر ان سب کو قتل کر دیا۔ تاریخِ طبری کی مستند دستاویزات کے مطابق، ان تڑپتی ہوئی لاشوں پر چمڑے کے دسترخوان بچھا دیے گئے اور عباسی کمانڈروں نے ان کے کراہنے کی آوازوں کے درمیان اپنا کھانا جاری رکھا۔ السفاح نے اس ہولناک کریک ڈاؤن کے ذریعے اموی خون کا خطرہ ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔

اقتدار مستحکم ہونے کے بعد السفاح نے محسوس کیا کہ کوفہ کے لوگ سیاسی طور پر غیر مستحکم ہیں۔ اس نے کوفہ کے بجائے دریائے فرات کے کنارے ایک نئی اور محفوظ عسکری چھاؤنی ‘الانبار’ کو اپنا دارالحکومت بنایا۔

السفاح نے اسلامی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ ‘وزارت’ کا دفتری ڈھانچہ متعارف کروایا اور ابوسلمہ الخلال کو سلطنت کا پہلا ‘وزیر آلِ محمد’ مقرر کیا۔ بعد ازاں جب ابوسلمہ کا ریاستی اثر و رسوخ بڑھنے لگا تو السفاح نے ابو مسلم خراسانی کی مشاورت سے اسے بھی ایک خفیہ کارروائی میں قتل کروا دیا، تاکہ خلیفہ کی حتمی رٹ کو کوئی اندرونی چیلنج نہ کر سکے۔

ابوالعباس السفاح کا دورِ حکومت محض چار سال اور چند ماہ پر محیط رہا۔ اس نے اس مختصر عرصے میں بغاوتوں کو کچلا، سرحدوں کو محفوظ کیا اور ایک ایسی مضبوط بیوروکریسی کی بنیاد رکھی جس پر اگلی پانچ صدیوں تک عباسی خلافت قائم رہی۔ 136 ہجری (754) میں الانبار کے مقام پر السفاح چیچک کے مرض کا شکار ہوا اور اسی بیماری میں محض 33 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اسے الانبار میں ہی دفن کیا گیا۔

تاریخی سوال:

ابوالعباس السفاح نے اپنی سلطنت کو محفوظ کرنے کے لیے سابقہ اموی حکمران خاندان کا بے دردی سے مکمل صفایا کر دیا اور ان کی نسلیں ختم کر دیں۔ کیا نئی ریاستوں کے استحکام کے لیے پچھلے اقتدار کے دعویداروں کا یہ جسمانی اور آبادیاتی صفایا محض ایک ‘سفاکیت’ ہوتی ہے، یا پھر یہ مستقبل کی خانہ جنگیوں اور بغاوتوں کو روکنے کے لیے ایک تلخ مگر ناگزیر ‘تزویراتی ضرورت’ ہوتی ہے؟ ٹھوس تاریخی حقائق کی روشنی میں کمنٹس میں بحث کریں۔

تاریخی حوالہ جات

تاریخ الطبری — محمد بن جریر الطبری

الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر

البداية والنهاية — حافظ ابن کثیر

مروج الذهب — المسعودی

انساب الاشراف — البلاذری

سیر اعلام النبلاء — شمس الدین الذہبی.

اگر آپ عظیم اسلامی جنگجو اور کمانڈر طارق بن زياد  کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Tariq bin Ziyad Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/2189404754962640

Loading