Daily Roshni News

طلعت اقبال — 24 ستمبر 2021ء ۔۔۔وہ شہزادہ جو سکرین سے دلوں میں اتر گیا

طلعت اقبال — 24 ستمبر 2021ء 🎬

وہ شہزادہ جو سکرین سے دلوں میں اتر گیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پاکستانی ٹیلی وژن اور فلم کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے ہوتے ہیں جن کی مقبولیت محض چند کرداروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ ایک پورے عہد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ طلعت اقبال بھی انہی فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ 24 ستمبر 2021ء کو امریکا کے شہر ڈیلاس میں ان کے انتقال کے ساتھ پاکستانی ڈرامے کے ایک یادگار دور کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوا۔

طلعت اقبال نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1968ء میں ریڈیو پاکستان سے کیا اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی وژن کی طرف آئے۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں وہ پی ٹی وی کے مقبول ترین اداکاروں میں نمایاں ہوئے۔ ان کی شخصیت، شائستہ اندازِ گفتگو، مسکراہٹ اور اداکاری نے انہیں خاص طور پر مرکزی اور رومانوی کرداروں میں بے حد مقبول بنایا۔

ان کے یادگار ٹی وی ڈراموں میں شکستِ آرزو، دو دونی پانچ، آخری چٹان، آبگینے، کیفِ بہاراں اور کارواں شامل ہیں۔ نسیم حجازی کے معروف تاریخی ناول پر مبنی آخری چٹان میں ان کا کردار ان کی فنی شناخت کا اہم حصہ بنا۔ انہوں نے سنجیدہ، تاریخی، معاشرتی اور مزاحیہ کرداروں میں اپنی اداکاری کے مختلف پہلو نمایاں کیے۔

طلعت اقبال نے فلموں میں بھی کام کیا۔ آگ اور آنسو کی کامیابی کے بعد وہ فلمی دنیا میں بھی نمایاں ہوئے اور ناہید، ناز، ندیم، محمد علی اور دیگر معروف فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ تاہم ان کی اصل اور دیرپا شناخت پاکستان ٹیلی وژن کے اداکار کی حیثیت سے ہی قائم ہوئی۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے کردار نگاری بھی کی اور اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے اور کیفِ بہاراں جیسے ڈراموں میں بھی نظر آئے۔

ان کی ازدواجی زندگی بھی فن سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ سنبل طلعت خود معروف اداکارہ تھیں۔ طلعت اقبال 1999ء میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکا منتقل ہوگئے تھے اور ڈیلاس میں مقیم رہے، تاہم پاکستان سے ان کا فنی تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ان کی زندگی کے آخری ایام ذاتی صدمات سے بھی متاثر ہوئے۔ 2014ء میں ان کی اہلیہ سنبل طلعت کا انتقال ہوا، جبکہ ستمبر 2021ء میں ان کی بیٹی سارہ کے انتقال کے کچھ ہی عرصے بعد طلعت اقبال خود شدید علالت کے باعث اسپتال میں داخل ہوئے اور 24 ستمبر کو انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین بھی ڈیلاس میں ہوئی۔

طلعت اقبال آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کے ڈرامے، کردار اور مخصوص مسکراہٹ پاکستانی ٹیلی وژن کے سنہری دور کی یاد دلاتے رہیں گے۔ وہ صرف ایک اداکار نہیں بلکہ اس نسل کی یادوں کا حصہ تھے جس نے پی ٹی وی کو اپنے گھروں کی اسکرین پر ایک ثقافتی ادارے کے طور پر دیکھا۔

طلعت اقبال کا فنی سفر اس حقیقت کی گواہی ہے کہ اچھا فنکار وقت کے ساتھ منظر سے غائب ضرور ہوتا ہے، مگر اپنے کرداروں کے ذریعے یادوں میں زندہ رہتا ہے۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہو اور آپ ماضی کے عظیم فنکاروں اور تاریخی واقعات کے بارے میں ایسی معلوماتی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں تو پوسٹ کو پسند کریں اور میرا صفحہ فالو ضرور کریں۔

Loading