پاک افغان دو طرفہ تجارت کی بندش سے دونوں ممالک کو اربوں روپے کے بھاری معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان ( ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خصوصی مندوب ۔۔۔ ضیاءالحق سرحدی ( ستارہ امتیاز ))گزشتہ دس ماہ کے دوران پاک افغان دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ تجارت کی بندش سے پاکستان اور افغانستان کو اربوں روپے کا نقصان،
دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیوں کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان دونوں کو بھاری معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے،
ضیا ء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز)
پشاور 04اگست 2026 ئ
پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI)کے سینئر نائب صدر اور سرحدچیمبرآف کا مرس اینڈ انڈسٹری کی ڈرائی پورٹ/ ریلوے سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین وممبر ایگزیکٹو کمیٹی ضیا ء ا لحق سر حد ی(ستارہ امتیاز) نے گزشتہ روزمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستانی مصنوعات کے لیے قریب ترین اور اہم ترین منڈی ہے جہاں سامان کی ترسیل سے قبل مکمل ادائیگی کی جاتی ہے۔ یعنی آرڈر کی تصدیق ہوتے ہی پاکستانی برآمد کنندگان کو پیشگی ادائیگی موصول ہو جاتی ہے۔پاکستان کی افغانستان کو سالانہ برآمدات تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر ہیں۔ گزشتہ دس ماہ کے دوران تجارت کی بندش کے نتیجے میں پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 1 ارب امریکی ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی مصنوعات کی سالانہ برآمدات تقریباً 80 کروڑ امریکی ڈالر ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کی بندش کے باعث گزشتہ دس ماہ میں پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔پاکستان وسطی ایشیائی ممالک سے کپاس، دالوں اور دیگر تجارتی اشیاء درآمد کرتا ہے۔ یہ درآمدات افغانستان کے راستے نسبتاً کم لاگت پر ممکن تھیں، تاہم ٹرانزٹ ٹریڈ کی بندش کے باعث درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔افغانستان اور وسطی ایشیا سے آنے والے درآمدی کارگو پر کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی تھی، جو ٹرانزٹ سرگرمیوں کی بندش کے باعث متاثر ہوئی ہے۔کراچی بندرگاہیں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا اہم مرکز رہی ہیں۔ افغانستان کی درآمدات کے لیے سالانہ تقریباً 40,000 سے 45,000 کنٹینرز کراچی کے ذریعے ٹرانزٹ ہوتے ہیں۔ ہر کنٹینر پر ٹرانسپورٹ، انشورنس گارنٹی، ٹرمینل ہینڈلنگ، پورٹ چارجز، کلیئرنگ و فارورڈنگ اور دیگر سہولیات کی مد میں اوسطاً 4,000 امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔اس طرح پاکستان کو افغان ٹرانزٹ تجارت سے سالانہ تقریباً 16 کروڑ امریکی ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران بندش کے باعث پاکستان کو تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا جبکہ پاکستانی بندرگاہیں افغانستان کے لیے سب سے مختصر اور کم لاگت والا تجارتی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 تک تقریباً 10,000 ٹرانزٹ کنٹینرز پاکستان میں پھنسے رہے، جن پر بھاری ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز عائد ہوئے۔ہر کنٹینر پر اوسطاً 120 امریکی ڈالر یومیہ جرمانہ وصول کیا گیا، جس کے نتیجے میں افغان درآمد کنندگان کو روزانہ تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔افغانستان کی پاکستان کو سالانہ برآمدات تقریباً 80 کروڑ امریکی ڈالر ہیں۔ گزشتہ دس ماہ میں تجارتی بندش کے باعث افغان برآمد کنندگان کو تقریباً 53 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ضیاء الحق سرحدی جو کہ فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن(FCAA) خیبرپختونخواکے صدر بھی ہیں نے کہاکہ افغانستان کی بھارت کو واہگہ بارڈر کے ذریعے سالانہ برآمدات تقریباً 30 کروڑ امریکی ڈالر ہیں۔ گزشتہ دس ماہ میں ٹرانزٹ بندش کے باعث افغان برآمد کنندگان کو تقریباً 20 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، پاک افغان تجارت بند ہونے سے بالواسطہ اور بلا واسطہ لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیںجبکہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری امن وامان پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیںاور اسی طرح صوبہ خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں بے چینی پائی جاتی ہے ملکی خزانہ اربوں روپے محصولات سے محروم ہوگیا ہے، تجارتی گزرگاہیں بند ہونے سے صرف افغانستان نہیں بلکہ سنٹرل ایشیا تک رسائی معطل ہوگئی ہے، اس وقت وطن عزیز تجارت سرگرمیوں کے حوالے سے چاروں اطراف محصور ہے، پاک افغان تجارتی گزرگاہیں کھول کر تجارت کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ٹرانزٹ کارگو کی رکاوٹ کے باعث افغانستان کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں بھی اربوں افغانی مالیت کی آمدنی سے محروم ہونا پڑا۔تاجروں، کسانوں، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور سرحد کے دونوں جانب تجارت سے وابستہ تمام شعبوں کا مطالبہ ہے کہ موجودہ تشویشناک صورتحال کا فوری جائزہ لیا جائے اور دوطرفہ تجارت و ٹرانزٹ تجارت کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے یونائیٹڈ بزنس(UBG)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر کی جانب سے منعقدہ پہلی پاکستان اکنامک سمٹ کے شاندار انعقاد کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی سابق وفاقی وزیر برائے صنعت وتجارت گوہراعجاز ، یو بی جی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر، سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر جنید الطاف اور دیگر چیمبرز آف کامرس کے صدور نے بھی وزیر داخلہ سے خیبرپختونخواکے تاجروںکو درپیش مسائل پاک افغان سرحدی تجارت کی بندش، خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے تاجروں کی مشکلات اور فاٹا پاٹا کی مراعات ختم کرنے کے حوالہ سے بات چیت ہوئی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے کہا کہ میں عنقریب پشاور کادورہ بھی کرونگااور یہ مسائل حل کریں گے۔اس موقع پر موجودبزنس کمیونٹی نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کی متعلقہ حکام سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ اپنے موجودہ سخت مؤقف پر نظرثانی کرتے ہوئے دونوں ممالک دوستانہ ماحول میں بیٹھ کر مذاکرات کے زریعے اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ دو طرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیوں کی بحالی ممکن ہو کیونکہ علاقائی تجارت کا فروغ غربت میں کمی، معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور خطے میں امن و سلامتی کے لئے ناگزیرہے۔
![]()









