پیرس میں شاز ملک کے شعری مجموعے ’’دیوانِ شاز‘‘ کی پروقار تقریبِ رونمائی
آٹھ سالہ ادبی ریاضت کا ثمر، اہلِ علم و ادب کی بھرپور شرکت، شاز ملک کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا گیا
پیرس۔فرانس(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔رپورٹ۔۔۔ منیر احمد ملک بیورو چیف پیرس فرانس(پیرس کے مضافات میں واقع رائل پیلس میں فرانس پاک انٹرنیشنل رائٹرز فورم کے زیرِ اہتمام معروف ادیبہ و شاعرہ شاز ملک کے شعری مجموعے ’’دیوانِ شاز‘‘ کی ایک پروقار اور یادگار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس کی صدارت معروف شاعرہ و ادیبہ ڈاکٹر سمانہ ذیشان نے کی، جبکہ جرمنی سے تشریف لانے والے امجد عزمی مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں معروف سماجی شخصیت روحی بانو، ممتاز کاروباری شخصیت اور مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ علی اصغر، معروف صحافی، پریس کلب فرانس کے بانی و صدر صاحبزادہ عتیق الرحمن اور ایک فرانسیسی شاعر نے بطور مہمانانِ اعزاز شرکت کی۔
تقریب کی نظامت کے فرائض طاہرہ سحر نے نہایت خوش اسلوبی، سلیقے اور مہارت کے ساتھ انجام دیے۔ محفل میں فرانس کی ادبی، سماجی، سیاسی، کاروباری اور صحافتی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اس ادبی تقریب کو یادگار بنا دیا۔
تقریب میں انٹرنیشنل کشمیر پیس فورم فرانس کے چیئرمین زاہد ہاشمی، سویرا نیوز یورپ کی بیورو چیف شبانہ چوہدری، بزنس فورم فرانس کے نائب صدر حمزہ تاج، تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما ملک عابد، منور جٹ، ابوبکر گوندل، حاجی مزمل، معروف صحافی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری ملک منیر احمد، سچ ٹی وی کے بیورو چیف سلطان محمود، آصف محمد معروف صحافی چوہدری وسیم احمد اور میڈیا ایڈوائزر شیر فیصل سمیت متعدد معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔
تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے محفل کا آغاز
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت معروف شاعر محمود راہی نے حاصل کی۔ اس کے بعد معروف نعت خواں زاہد چشتی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جس سے محفل کا ماحول روحانی اور پُرسکون کیفیت سے معمور ہوگیا۔
ڈاکٹر سمانہ ذیشان کا خطاب، شاز ملک کی آٹھ سالہ ادبی ریاضت کو خراجِ تحسین
تقریب کی صدر ڈاکٹر سمانہ ذیشان نے اپنے پُراثر اور جامع خطاب سے حاضرین کے دل موہ لیے۔ انہوں نے شاز ملک کی ادبی کاوشوں اور ان کے شعری مجموعے ’’دیوانِ شاز‘‘ کی اہمیت کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے بھرپور تالیوں کی گونج میں شاز ملک کو تاج پہنا کر ان کی آٹھ سالہ مسلسل محنت، لگن اور ادبی ریاضت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ کوئی بھی ادبی تخلیق محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پس منظر میں برسوں کی محنت، فکری پختگی، احساس کی گہرائی اور فن سے بے لوث وابستگی کارفرما ہوتی ہے۔ ’’دیوانِ شاز‘‘ کی اشاعت بھی اسی طویل ادبی سفر کا حاصل ہے۔
اس خوشی کے موقع پر کیک کاٹا گیا، جبکہ شرکائے تقریب نے شاز ملک کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور ان کے روشن ادبی مستقبل، مزید کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
اہلِ قلم کی جانب سے شاز ملک کو بھرپور خراجِ تحسین
تقریب کا ایک اہم اور دل نشیں حصہ وہ تھا جب اہلِ قلم اور معزز شرکائے محفل نے اپنے اپنے انداز میں شاز ملک کی فنی صلاحیتوں، ادبی خدمات اور تخلیقی سفر کو سراہا۔
اس موقع پر عاشق رندھاوی، محمود راہی، مقبول شاکر، ایاز محمود ایاز، عاکف غنی، آصف جاوید عاصی، کامران سیفی، اعجاز بابر، ملک عابد، زاہد ہاشمی، حمزہ تاج، صاحبزادہ عتیق الرحمن، راجہ علی اصغر، امجد عزمی اور روحی بانو نے منظوم و نثری انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے شاز ملک کی ادبی و فنی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے شوہر ملک سید کے بھرپور تعاون اور حوصلہ افزائی کو بھی سراہا۔
شرکائے محفل کے خیالات اور تہنیتی کلمات نے اس تقریب کو محض ایک کتاب کی رونمائی تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ادبی محبت، باہمی احترام، حوصلہ افزائی اور اہلِ قلم کی قدر شناسی کی خوب صورت مثال بنا دیا۔
شاز ملک کا اظہارِ تشکر، یادگار تقریب کا شاندار اختتام
اس موقع پر شاز ملک نے تمام مہمانوں، اہلِ قلم اور شرکائے تقریب کی آمد، محبت، پذیرائی اور حوصلہ افزائی پر تہہ دل سے اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے اس خوشی کے موقع کو اپنے لیے باعثِ افتخار قرار دیتے ہوئے سب کی محبتوں اور دعاؤں کو اپنے ادبی سفر کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔
یوں فرانس کے قلب میں منعقد ہونے والی یہ پروقار ادبی تقریب محبت، خلوص، شعری ذوق اور باہمی احترام کی حسین یادیں سمیٹے ایک شاندار عشائیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ ’’دیوانِ شاز‘‘ کی تقریبِ رونمائی نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ادب سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا، بلکہ زبان، احساس اور تخلیقی اظہار کے ذریعے دلوں کو جوڑنے اور تہذیبی رشتوں کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔