ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )موسیقی کے آسمان پر جگمگاتی وہ نابغہ روزگار ہستی جسے حُسنِ آواز اور سحر انگیز پرسشِ دل کا استعارہ کہا جائے تو کم نہ ہوگا—ملکہ ترنم میڈم نور جہاں۔ برصغیر کی یہ وہ بے تاج بادشاہ فنکارہ تھیں جن کی جادو بھری رس گھری اور دلکش آواز نے صدیوں کے دلوں پر راج کیا۔
آپ 21 ستمبر 1926ء کو قصور برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوئیں۔ فنونِ لطیفہ سے لگاؤ بچپن سے ہی رگ و پے میں دوڑ رہا تھا، چنانچہ انتہائی کم عمری میں ہی آپ نے گلوکاری اور اداکاری کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ آپ کی والدہ کا نام فتح بی بی اور والد کا نام شیخ مدد علی تھا۔ آپ کی فنی سفر کا آغاز بچپن ہی سے ہو گیا تھا، اور آپ کی سب سے پہلی فلم بطور چائلڈ آرٹسٹ “پنڈ دی کڑی” تھی جس نے آپ کی صلاحیتوں کا لوہا منوا دیا۔
آپ کی سحر انگیز شخصیت، جادو بھری اور دلکش آواز اور بلند پایہ فنی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن چکا ہے۔ انڈیا میں ریلیز ہونے والی فلم “زینت” (1944ء) کے لازوال گانوں پر آپ کو “ملکہ ترنم” کے اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ پاکستان کی تاریخ میں 1965ء کی جنگ کے دوران آپ کے گائے ہوئے ملی نغموں اور ترانوں نے پاک فوج اور پوری قوم کے اندر ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا، جس کے اعتراف میں صدرِ پاکستان ایوب خان نے آپ کو باقاعدہ سرکاری طور پر “ملکہ ترنم” کے خطاب سے سرفراز کیا۔ اور میڈم کی فرمائش پہ وفات والے دن ملک میں عام تعطیل کرنے کا کہا ۔ آپ کو 1965ء کی جنگ کی ہیروئن بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ آپ پاکستان کی واحد فنکارہ ہیں جنھوں نے دنیا کے سب سے بڑے ہال، لندن کے “البرٹ ہال” (Royal Albert Hall) میں اپنی آواز کا جادو جگایا، اور مصر کی معروف اور عظیم گلوکارہ ام کلثوم کے ساتھ اس عالمی اسٹیج کی زینت بنیں۔ آپ کی ہمہ گیر شخصیت کا دائرہ کار اتنی بلندیوں پر تھا کہ تقریبا سیاستدان ہر فوجی حکمران نے آپ کے دروازے پر آ کر آپ کی خیریت دریافت کی اور آپ کی عیادت کا شرف حاصل کیا۔
میڈم نور جہاں نے اپنی پوری زندگی میں اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، ہندی، سرائیکی اور انگریزی سمیت دیگر زبانوں میں ایک لاکھ کے قریب نغمات ریکارڈ کروائے اور گائے۔ یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ زندگی کے ایک حصے میں آپ کو ایک کان سے کم سنتا تھا، لیکن آپ کی بے پناہ ذہانت اور کمالِ فن کا یہ عالم تھا کہ جب بھی کوئی آپ سے بات کرتا تو آپ اپنا دوسرا کان آگے کر دیتی تھیں تاکہ کسی کو اس کمی کا احساس تک نہ ہو۔
آپ کی ذات سخاوت، محبت اور رواداری کا پیکر تھی۔ آپ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر جب بھی اپنے گانوں کا معاوضہ یا ایڈوانس لیتی تھیں، تو جب تک وہ حقداروں میں منصفانہ طور پر تقسیم نہ کر لیتیں، اپنے گھر کا رخ نہیں کرتی تھیں۔ آپ اکثر چپکے سے، چوری چھپے مستحقین اور ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ، آپ کے قلب میں دینی اور روحانی اقدار کا بھی گہرا احترام تھا؛ آپ باقاعدگی سے اپنے گھر میں پُروقار محفلِ میلاد کا انعقاد کرتی تھیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے اج جگہ جگہ فری دسترخوان چل رہے ہیں ۔ فری دسترخوان کا سلسلہ سب سے پہلے میڈم نور جہاں نے شروع کیا تھا جو کہ میڈم کے جیتے جی چلتا رہا پاکستان میں فری دسترخوان کی بنیاد رکھنے والی میڈم نور جہاں ہی تھی جب ایک بار کسی اینکر نے آپ سے سوال کیا کہ آپ کی ہم عصر لتا منگیشکر نے بہت کم اور صرف صاف ستھرے گانے گائے ہیں، جبکہ آپ نے ہر قسم کے (ہلکے پھلکے یا سادہ) گانے بھی گائے ہیں، تو آپ نے بڑی خوبصورتی اور بلند حوصلے کے ساتھ جواب دیا: “لتا صرف اپنے لیے گاتی ہے کیونکہ وہ اکیلی ہے، اور میں دوسروں کے لیے گاتی ہوں کیونکہ میرے پیچھے کھانے والے بہت ہیں، میرے وسیلے سے کئی گھروں کے چولہے جلتے ہیں!” یہ جملہ آپ کی وسیع القلبی اور فیاضی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
گھریلو زندگی میں آپ انتہائی سادہ اور سگھڑ تھیں، گھر کا کھانا اپنے ہاتھ سے بنانا پسند کرتی تھیں۔ لپسٹک کا نمبر 109 آپ کا خاص انتخاب تھا، اور آپ کے پاس تقریباً 4700 سے زائد قیمتی ساڑیاں موجود تھیں۔ آپ نے زندگی میں تین شادیاں کیں۔ پہلی شادی سید شوکت حسین رضوی سے ہوئی جن سے آپ کے دو فرزند ایک صاحبزادی ہیں (جن میں سید اکبر حسین رضوی، سید اصغر حسین رضوی اور سب سے بڑی بیٹی ظلِ ہما شامل ہیں)۔ دوسری شادی نامور اداکار اعجاز سے ہوئی جن سے تین صاحبزادیاں ہوئیں، اور چوتھی شادی اداکار یوسف خان سے ہوئی جو گھریلو حالات کے پیشِ نظر ایک ماہ بعد انجام کو پہنچی۔ سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ آپ کے انتہائی قریبی اور گہرے مراسم تھے اور آپ کا ان کے گھر آنا جانا تھا۔ زندگی کے آخری ایام میں آپ نے ہوش مندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حیات ہی میں اپنی تمام زمین جائیداد اپنے بچوں کو بلا کر شرعی اور منصفانہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دی تھی۔
ساری عمر آپ نے ایک شان دار اور شاہانہ زندگی گزاری، اور آپ کی شخصیت میں ایک ایسی بے باک ضد اور انانیت بھی شامل تھی کہ جس بات پر آپ اڑ جاتی تھیں، اسے منوا کر رہتی تھیں—یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے سیاستدان اور حکمران بھی آپ کی ضد کے آگے خاموش ہو جاتے تھے۔ اس کی ایک روشن مثال وہ واقعہ ہے جب آپ ایک موسیقی کے پروگرام کی غرض سے بنگلہ دیش تشریف لے گئیں؛ وہاں کے گورنر نے پیغام بھیجا کہ میڈم کو فیملی سمیت سننے کے لیے بلایا جائے، مگر آپ نے دوٹوک انداز میں انکار کرتے ہوئے کہلا بھیجا کہ: “میں کسی گورنر کو نہیں جانتی، میں صرف یہاں اپنے طے شدہ شو کے لیے آئی ہوں، جسے سننا ہے وہ فلاں ہوٹل میں آئے!” گورنر صاحب بھی آپ کی اس بے باک ادا پر حیران رہ گئے۔ پہلا شو تو کامیابی سے ہو گیا، لیکن جب ہوٹل کے نچلے طبقے کے ملازمین اور ویٹرز نے عاجزی سے التجا کی کہ وہ کام کی بھاگ دوڑ میں آپ کا براہِ راست گانا نہیں سن سکے، تو آپ نے ان غریب کارکنوں کے لیے اگلے دن خصوصی طور پر ایک مفت شو کا اعلان کر دیا۔ لیکن اگلے روز جب آپ اسٹیج پر آئیں اور دیکھا کہ فرنٹ سیٹوں پر ملازمین کی بجائے بڑے بڑے سیاستدان، وزراء، فوجی افسران اور ان کی بیگمات براجمان ہیں، تو آپ کا غصہ دیدنی تھا؛ آپ نے انتظامیہ کو سخت الفاظ میں طلب کیا اور صاف کہہ دیا کہ جب تک یہ تمام وزراء اور افسران واپس نہیں جاتے اور کرسیاں خالی نہیں ہوتیں، میں ایک لفظ نہیں گاؤں گی! بڑے لوگوں نے بہت اصرار اور منت سماجت کی، مگر آپ اپنی ضد پر اٹل رہیں اور بالاخر مجبوراً تمام سیاسی و فوجی عمائدین کو معذرت کر کے واپس جانا پڑا۔ جب کرسیاں خالی ہوئیں اور صرف محنت کش ملازمین نے آ کر نشستیں سنبھالیں، تب جا کر آپ نے پوری رات دل کھول کر ان غریب ملازمین کے لیے گایا۔ بھارت کی اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی خصوصی دعوت پر جب آپ ہندوستان تشریف لے گئیں تو پوری فلم انڈسٹری نے ایئرپورٹ پر کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کیا اور آپ کو شاہی مہمان کا درجہ دیا۔
علامہ اقبال اگر اس ارضِ پاک کے قومی شاعر ہیں، تو میڈم نور جہاں پاکستان قومی گلوکارہ ہیں۔ آپ کی زندگی کے آخری لمحات انتہائی بابرکت اور ایمان افروز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رمضان المبارک کی اس مقدس 27 ویں شب نصیب فرمائی جس بابرکت رات جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اسی مبارک رات کو یہ سحر انگیز آواز اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ آپ کو کراچی کے ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
موت کے بعد بھی آپ کا نام اور آپ کی جادو بھری، دلکش اور رس گھری آواز ہمیشہ دلوں پر راج کرتی رہے گی، کیونکہ ایسی شخصیات تاریخ میں روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔
تحریر: شاعر و سنگر راؤ بابر علی، آف کرم پور
رابطہ نمبر: 0301-5489521
![]()

