سائنسدانوں نے ایک سوال کا جواب دو طریقوں سے نکالا۔ دونوں طریقے بہت احتیاط سے چلائے گئے۔ دونوں کو برسوں جانچا گیا۔
جواب الگ الگ آئے۔
سوال سادہ ہے: کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے؟ تقریباً سو سال پہلے ماہرینِ فلکیات نے دیکھا کہ دور کی کہکشائیں ہم سے دور جا رہی ہیں، اور جو جتنی دور ہے وہ اتنی ہی تیزی سے جا رہی ہے۔ یعنی کائنات پھیل رہی ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ کتنی تیزی سے۔
پہلے گھر کی ایک مثال لیں۔
ایک بچہ دو سال کا ہے۔ ڈاکٹر اس کا قد ناپتا ہے۔ پھر ایک چارٹ دیکھ کر بتاتا ہے کہ بڑا ہو کر یہ کتنا لمبا ہو گا۔ بیس سال بعد آپ فیتہ لے کر اصل قد ناپتے ہیں۔ دونوں نمبر ملیں تو چارٹ ٹھیک ہے۔ نہ ملیں تو یا فیتہ غلط ہے، یا چارٹ میں کچھ کمی ہے۔
کائنات کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔
پہلا طریقہ “بچپن” والا ہے۔ کائنات کی سب سے پرانی روشنی آج بھی آسمان میں پھیلی ہوئی ہے۔ یورپی خلائی ادارے کے Planck مشن نے اس روشنی کا بہت باریک نقشہ بنایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات بچپن میں کیسی تھی۔ پھر سائنسدان اپنا “چارٹ” لگاتے ہیں۔ یعنی وہ نظریہ جو بتاتا ہے کہ کائنات وقت کے ساتھ کیسے بڑھتی ہے۔ جواب آتا ہے: تقریباً ساڑھے سڑسٹھ۔
دوسرا طریقہ “فیتے” والا ہے۔ کچھ ستاروں کی اصل چمک ہمیں معلوم ہے۔ جیسے سو واٹ کا بلب: مدھم دکھے تو دور ہے، تیز دکھے تو قریب۔ ان ستاروں سے قریب کی کہکشاؤں کا فاصلہ نکلتا ہے۔ پھر ناپا جاتا ہے کہ وہ کتنی تیزی سے دور جا رہی ہیں۔ اس سال اپریل میں دنیا بھر کے ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے یہ پیمائش ایک فیصد کی درستی سے کی۔ جواب: ساڑھے تہتر۔
یہ نمبر کہتے کیا ہیں؟ جو کہکشاں ہم سے تقریباً ساڑھے بتیس لاکھ نوری سال دور ہے، وہ ہر سیکنڈ اتنے کلومیٹر مزید دور ہو جاتی ہے۔ جو دگنی دور ہے، وہ دگنی رفتار سے۔ پھیلاؤ کی اسی رفتار کو ہبل کانسٹنٹ (مستقلِ ہبل) کہتے ہیں۔ یہ نام ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل کے نام پر ہے۔
ایک منٹ رکیے۔ اصل بات صرف اتنی ہے: کائنات کے بچپن سے لگایا گیا اندازہ کہتا ہے کہ اسے آج ذرا آہستہ پھیلنا چاہیے۔ سیدھا ناپیں تو وہ ذرا تیز پھیل رہی ہے۔ فرق تقریباً نو فیصد کا ہے۔
شروع میں سب کا خیال تھا کہ یہ ناپنے کی کوئی چھوٹی سی غلطی ہے۔ بہتر دوربین آئے گی، نمبر مل جائیں گے۔ JWST آئی۔ پیمائش پہلے سے بہتر ہوئی۔ فرق پھر بھی نہیں گیا۔ اسی فرق کو ہبل ٹینشن (ہبل کا کھنچاؤ) کہتے ہیں۔
مگر ایمانداری کی بات یہ ہے کہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔ شکاگو یونیورسٹی کی وینڈی فریڈمین کی ٹیم نے Hubble اور JWST کے ڈیٹا سے قریبی کائنات ناپی تو تقریباً ستر کا نمبر آیا، جو پہلے جواب سے زیادہ دور نہیں۔ یعنی شواہد مضبوط ہیں، مگر معاملہ ابھی حتمی نہیں۔
دو ہی امکان ہیں۔ یا ناپنے میں کوئی ایسی غلطی ہے جو ابھی کسی کو نظر نہیں آئی۔ یا ہمارے “چارٹ” میں، یعنی کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ میں، کوئی چیز چھوٹ گئی ہے۔
مجھے اس کہانی کی سب سے اچھی بات یہ لگتی ہے کہ دونوں طرف کے سائنسدانوں نے اپنے نمبر چھپائے نہیں، کسی نے فرق کو قالین کے نیچے نہیں سرکایا، بلکہ ہر ٹیم نے اپنا ڈیٹا کھول کر سامنے رکھ دیا کہ آؤ، ہماری غلطی ڈھونڈو۔ اگلی بار گرمیوں کی رات چھت پر لیٹ کر آسمان دیکھیں تو سوچیے گا کہ یہ سارا آسمان اسی لمحے پھیل رہا ہے، اور ہم ابھی تک پوری طرح نہیں جانتے کہ کتنی رفتار سے۔
کیا آپ کو لگتا ہے فیتہ غلط ہے، یا چارٹ؟
اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔
ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
![]()

